
مانچسٹر سٹی، تصویر، @ARISEtv
فٹبال کی دنیا میں اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا، جب انگلش پریمیئر لیگ میں کھیلنے والی ٹیم مانچسٹر سٹی کو ہزاروں کروڑ روپے کے گھپلے میں قصوروار پایا گیا۔ پریمیئر لیگ کے خود مختار کمیشن نے 29 ستمبر کو تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے مانچسٹر سٹی کو تقریباً ایک دہائی تک مالیاتی قواعد کی سنگین خلاف ورزی کا قصوروار قرار دیا۔ پریمیئر لیگ کے خود مختار کمیشن نے پایا کہ 10-2009 سے 18-2017 تک کے 9 سیزن میں کلب نے جعلی معاہدوں کے ذریعے اپنی آمدنی میں اضافہ کیا اور اخراجات کو کم کر کے دکھایا ہے۔
کمیشن کے مطابق ان اسکیموں سے کلب کی آمدنی اور اخراجات میں 90 کروڑ پاؤنڈ یعنی 11000 کروڑ روپے سے بھی زیادہ خرد برد کیا گیا ہے، تاکہ مالیاتی قواعد پر عمل ہوتا ہوا نظر آئے۔ کمیشن نے واضح کہا ہے کہ کلب نے قصداً پریمیئر لیگ کے قواعد کو درکنار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ 11 ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ کے گھپلے میں قصوروار قرار دیے گئے مانچسٹر سٹی کو کیا سزا ملے گی؟ سزا کے حوالے سے الگ سے سماعت ہوگی۔ سزا کیا ہوگی، یہ فی الحال طے نہیں ہے۔ لیکن ممکنہ سزاؤں میں بڑی تعداد میں پوائنٹس کی کٹوتی، بھاری جرمانہ، ٹائٹل واپس لینا یا یہاں تک کہ لیگ سے باہر کیے جانے تک کے امکانات شامل ہیں۔
حالانکہ مانچسٹر سٹی نے پریمیئر لیگ کے خود مختار کمیشن کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور اس کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کلب کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور تمام شواہد ان کے حق میں ہیں۔ مانچسٹر سٹی کے لیے اپیل کی آخری تاریخ 2 اکتوبر 2026 ہے۔ 11 ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ کے گھپلے کو پریمیئر لیگ کی تاریخ میں اب تک کے سب سے بڑے مالیاتی گھپلوں میں سے ایک مانا جا رہا ہے۔ اب سب کی توجہ اس بات پر ہے کہ مانچسٹر سٹی کو کیا سزا ملتی ہے اور کیا اس سزا سے گزشتہ خطابات پر بھی اثر پڑے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔