کھیل

انڈر 20 ایتھلیٹکس چمپئن شپ: بسنت کمار نے ہائی جمپ میں سلور میڈل جیت کر رقم کی تاریخ، شاہنواز کو ملا کانسی کا تمغہ

بسنت کمار نے 2.21 میٹر کی پرسنل بیسٹ جمپ کی برابری کی۔ راجستھان کے گنگا نگر کے رہنے والے 19 سالہ بسنت کسی بھی عالمی سطح کے ایونٹ میں ہائی جمپ میں میڈل جیتنے والے پہلے ہندوستانی بن گئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p> بسنت کمار،&nbsp;تصویر/ آئی اے این ایس</p></div>

بسنت کمار، تصویر/ آئی اے این ایس

 

بسنت کمار میگھوال نے اوریگن کے یوجین میں ہو رہے انڈر 20 ایتھلیٹکس چمپئن شپ میں مردوں کے ہائی جمپ میں سلور میڈل جیت کر تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے 2.21 میٹر کی اپنی پرسنل بیسٹ جمپ کی برابری کی۔ راجستھان کے گنگا نگر کے رہنے والے 19 سالہ بسنت کسی بھی عالمی سطح کی ایونٹ میں ہائی جمپ میں میڈل جیتنے والے پہلے ہندوستانی بن گئے ہیں۔ بسنت نے پہلے 2.06 میٹر، پھر 2.12 میٹر اور 2.17 میٹر کی بلندی عبور کی۔ اس کے بعد 2.21 میٹر کی شاندار جمپ نے پوڈیم پر ان کی جگہ پکی کر دی۔ ٹاپ 3 ایتھلیٹس نے 2.21 میٹر کی بلندی عبور کی، لیکن ’کاؤنٹ بیک‘ اصول کی بنیاد پر بسنت نے سلور میڈل اپنے نام کیا۔ الجزائر کے یونس ایاچی نے گولڈ میڈل جیتا، جبکہ برطانیہ کے اوٹس پول نے برونز میڈل حاصل کیا۔

دوسری جانب شاہنواز خان نے مردوں کی لانگ جمپ میں 7.84 میٹر کی بہترین جمپ کے ساتھ برونز میڈل جیتا۔ یہ کسی ہندوستانی مرد لانگ جمپر کی جانب سے جیتا گیا پہلا عالمی سطح کا میڈل بھی ہے۔ شروعات میں پیچھے رہنے کے بعد شاہنواز نے تیسرے راؤنڈ میں 7.84 میٹر کی زبردست جمپ لگائی اور پھر پانچویں راؤنڈ میں 7.83 میٹر کی جمپ کے ساتھ دنیا کے بہترین ایتھلیٹس کے درمیان اور پوڈیم پر اپنا مقام بنایا۔ اٹلی کے انزولی نے 7.97 میٹر کی بہترین جمپ کے ساتھ گولڈ میڈل جیتا، جبکہ آسٹریلیا کے میک گرودر (7.96 میٹر) نے سلور میڈل پر قبضہ کیا۔

جمعہ کے روز جیولن تھرو میں آشیش یادو کے سلور میڈل کے بعد یہ اس چیمپئن شپ میں ہندوستان کا تیسرا میڈل ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی کھلاڑیوں نے 2021 کے انڈر 20 ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں اپنی اب تک کی بہترین کارکردگی (کل 3 میڈلز) کی برابری کر لی ہے۔ ایونٹ ختم ہونے میں ابھی ایک دن باقی ہے اور ہندوستان کے پاس ٹورنامنٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ میڈلز جیتنے کا ریکارڈ قائم کرنے کا سنہری موقع ہے۔ اس سے پہلے ہندوستان کی خواتین کی 4×400 میٹر ریلے ٹیم ۔ جس میں بھومیکا نیہتے، طہورا خاتون، تنو چودھری اور تھیا ارومگم شامل تھیں۔ ان لوگوں نے اپنی ہیٹ میں ٹاپ 3 میں جگہ بنا کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔ انہوں نے (3:39.53) کا وقت لیا، جبکہ امریکہ (3:32.66) اور آسٹریلیا (3:33.68 ۔ سیزن کا بہترین وقت) ان سے آگے رہے۔

بھومیکا نے بے خوف ہو کر شاندار شروعات (55.81) کی۔ طہورا نے ہندوستان کی امیدیں برقرار رکھیں (54.54)، جبکہ تنو نے تیسرے مرحلے میں زبردست دوڑ (53.87) لگاکر ٹیم کو آگے بڑھایا اور تھیا ارومگم نے دباؤ کے باوجود ریس مکمل کی (55.31)۔ ہفتے کے روز آشیش نے جیولن تھرو ایونٹ میں سلور میڈل جیت کر ہندوستان کے لیے میڈل کا کھاتا کھولا تھا۔ اتر پردیش کے 19 سالہ آشیش یادو 2016 میں نیرج چوپڑا کے بعد اس چیمپئن شپ میں میڈل جیتنے والے ہندوستان کے پہلے تھروور بن گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔