
نوواک جوکووچ، تصویر/آئی اے این ایس
لندن، نوواک جوکووچ کو جمعہ کے روز ومبلڈن مردوں کے سنگلز کے دوسرے سیمی فائنل میں عالمی سطح پر نمبر ایک کھلاڑی جینک سنر کے ہاتھوں سیدھے سیٹوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ حالانکہ جوکووچ نے ریٹائرمنٹ سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کم از کم ایک بار پھر ومبلڈن میں واپس آنا چاہیں گے۔ جوکووچ نے کہا کہ وہ اپنے 25 ویں گرینڈ سلیم خطاب کو جیتنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔ 7 مرتبہ کے ومبلڈن چیمپئن جوکووچ کا 39 ویں بار گرینڈ سلیم سنگلز کے فائنل میں پہنچنے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ سربیا کے اسٹار کھلاڑی کو سنر نے 6-4، 6-4، 6-4 سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی۔ پورے مقابلے میں سنر نے شاندار کھیل دکھایا اور جوکووچ کو واپسی کا موقع نہیں دیا۔ میچ ختم ہونے کے بعد جوکووچ سینٹر کورٹ سے باہر نکلے تو مداحوں نے کھڑے ہو کر ان کے لیے تالیہ بجائیں۔ اس کے بعد یہ قیاس آرائی کی جانے لگی کہ جوکووچ نے شائد ومبلڈن میں اپنا آخری میچ کھیلا ہے۔
جوکووچ نے ریٹائرمنٹ کے متعلق کہا کہ ’’میں کم از کم ایک بار اور ومبلڈن میں کھیلنا چاہتا ہوں۔ آگے کیا ہوگا، یہ وقت ہی بتائے گا۔‘‘ 39 سالہ سربیائی کھلاڑی نے تسلیم کیا کہ یہ شکست مایوس کن رہی، لیکن اس سے ان کے حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ہدف اب بھی ومبلڈن جیتنا ہے اور اسی مقصد کے لیے وہ مسلسل محنت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یقیناً میں مایوس ہوں کیونکہ میں یہ ٹورنامنٹ جیتنا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں خود کو مسلسل بہتر بنانے کے لیے سخت محنت کرتا ہوں۔‘‘ جوکووچ نے اس ٹورنامنٹ میں اپنی کارکردگی کے مثبت پہلوؤں پر بھی بات کی۔ انہوں نے خاص طور پر کوارٹر فائنل میں فیلکس اوژے-الیاسیمے کے خلاف حاصل کی گئی فتح کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقابلے نے ثابت کر دیا کہ وہ آج بھی دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے اپنی کارکردگی پر فخر ہے۔ میں نے خود کو اور دوسروں کو دکھایا کہ میں اب بھی اعلیٰ ترین سطح پر کھیل سکتا ہوں۔‘‘
جوکووچ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ سیمی فائنل میں اپنی بہترین کارکردگی پیش نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ جینک سنر نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور وہ فتح کے مستحق تھے۔ جوکووچ کے مطابق شکست کا افسوس ہے، لیکن پورے ٹورنامنٹ کے دوران ان کا رویہ، جدوجہد اور عزم مثبت رہا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج میں اپنی خواہش کے مطابق کھیل پیش نہیں کر سکا۔ اس کا افسوس رہے گا، لیکن اب آگے بڑھنے کا وقت ہے۔‘‘24 مرتبہ کے گرینڈ سلیم چیمپئن نوواک جوکووچ نے اپنا آخری بڑا خطاب گزشتہ سال یو ایس اوپن میں جیتا تھا۔ اب ان کی نظریں اس سال ہونے والے یو ایس اوپن پر مرکوز ہوں گی، جہاں وہ ریکارڈ 25 واں گرینڈ سلیم خطاب جیتنے کی کوشش کریں گے۔ اگر وہ یہ کارنامہ انجام دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ سب سے زیادہ گرینڈ سلیم خطابات جیتنے کے معاملے میں مارگریٹ کورٹ کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ جوکووچ نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ صرف اس لیے کورٹ میں اترتے ہیں، کیونکہ انہیں آج بھی ٹینس سے محبت ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھ پر کھیلنے کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ میں اس لیے کھیلتا ہوں، کیونکہ میں کھیلنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میں آج بھی دنیا کے ٹاپ 10 اور ٹاپ 5 کھلاڑیوں کے سطح کی ٹینس کھیل سکتا ہوں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔