سماج

جاپان: مردہ جڑواں بچوں کی لاش چھپانے والی ماں کون ہے؟

جاپان میں ایک ویتنامی خاتون پر الزام ہے کہ اس نے اپنے مردہ جڑواں بچوں کی لاشوں سے لاتعلقی اختیار کر لی تاہم جمعہ کو سپریم کورٹ نے خاتون کو اس مقدمے سے بری کر دیا۔

جاپان: مردہ جڑواں بچوں کی لاش چھپانے والی ماں کون ہے؟
جاپان: مردہ جڑواں بچوں کی لاش چھپانے والی ماں کون ہے؟ 

اس خاتون کا تعلق جاپان میں حکومت کی طرف سے غیر ملکیوں کے لیے '' تکنیکی شعبے میں تربیتی پروگرام ‘‘ کی آفر پر جاپان آنے والی سینکڑوں دیگر ویتنامی خواتین سے ہے۔ لی تھی تھیو لن نومبر 2020 ء میں ایک ''تکنیکی انٹرنشپ‘‘ کے لیے جاپان آئی تھی۔ اس 24 سالہ خاتون کے کیس کو اس کے حامی جاپان کے 'ڈی فیکٹو‘ غیر ملکی لیبر پروگرام کا تاریک پہلو قرار دے رہے ہیں۔

Published: undefined

لی تھی تھیو لن اپنے ملک ویتنام سے جاپان کے انتہائی جنوب کے سب سے بڑے جزیرے کییوشو کے ایک انتظامی شہر کیوماموٹو میں ایک ''تکنیکی انٹرنی‘‘ کے طور پرآئی تھی۔ 24 سالہ لی کو نومبر 2020 ء میں جنوبی جاپانی صوبے کیوماموٹو میں بطور تکنیکی انٹرنی کام کرتے ہوئے اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کہ اُس نے مردہ لڑکوں کو جنم دینے کے بعد، ان کی لاشوں کو گتے کے ڈبے میں ڈالا، اسے ٹیپ سے بند کر کے اپنے کمرے میں ایک شیلف پر رکھ دیا تھا۔ قانونی تنازعہ یہ تھا کہ آیا اس نے لاشوں کو بغیر تدفین کے چھوڑ دینا درست تھا؟

Published: undefined

عدالتی فیصلہ

جاپان کی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ایک غیر معمولی فیصلہ سنایا جس کے تحت ویتنامی خاتون لی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا۔ مجرمانہ کیس کے فیصلے میں، اس ویتنامی خاتون کو مردہ پیدا ہونے والے جڑواں بچوں، جنہیں اس نے اکیلے جنم دیا تھا، کو ترک کرنے کے جرم میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا گیا۔

Published: undefined

لی تھی تھوئی لن کو جنوری 2022 ء میں تین ماہ کی معطل سزا سنائی گئی تھی۔ اس خاتون کو الزام سے بری کرنے کے عدالتی فیصلے کو جاپان کے ''ٹیکنیکل انٹرن شپ‘‘ پروگرام میں داخلہ لینے والی خواتین کو درپیش دباؤ کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

لی کی قانونی ٹیم اور اس کے حامیوں کی طرف سے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا اور جمعے کو عدالت کے سامنے ان حامیوں نے بینرز کے ساتھ عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ دریں اثناء عدالت کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے اپیل کی اور جمعہ کو لی کو بری کر دیا گیا۔ اس کی قانونی ٹیم اور حامیوں نے فیصلے کا خیرمقدم کیا، ان افراد نے عدالت کے سامنے بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر درج تھا،'' لی بے قصور ہے۔‘‘

Published: undefined

جاپان کا تکنیکی انٹرنشپ پروگرام

جاپان کے تکنیکی انٹرن پروگرام کا مقصد شرکاء کو ان کے آبائی ملک میں کام کا خصوصی تجربہ فراہم کرنا ہے۔ تاہم ویتنامی خاتون کے کیس لڑنے والی دفاعی ٹیم کے ایک سرکردہ وکیل ہیرو کو ایشی گورو اور لی کے حامیوں نے کہا کہ جاپان کا یہ تربیتی پروگرام انتہائی ناقص ہے۔

Published: undefined

اس پروگرام کو 1993 ء میں شروع کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ابتدائی طور پر جاپانی کمپنیوں کی مہارتوں اور ٹیکنالوجیز کو ترقی پذیر ممالک میں منتقل کرنا تھا۔ لیکن یہ '' ایک مہمان کارکن پروگرام بن گیا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی افرادی اسمگلنگ کی رپورٹ نے گزشتہ سال اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ ویتنام جاپان کا ''انٹرن شپ‘‘ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

Published: undefined

حاملہ انٹرنیز کے لیے جاپانی قانون

جاپانی قانون اگرچہ حاملہ ہونے والی تربیت یافتہ خواتین کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے والے اقدام کو ممنوعہ قرار دیتا ہے۔ اس کے باوجود جاپان کی وزارت صحت، محنت اور بہبود کے ایک سروے کے مطابق نومبر 2017ء سے دسمبر 2020 ء تک 637 ٹرینیز کو حمل یا بچے کی پیدائش کی وجہ سے اپنے قیام اور ملازمت میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ اگست 2021 ء تک صرف 2 فیصد یا 11 خواتین اپنا کام دوبارہ شروع کرپائی تھیں۔

Published: undefined

ویتنامی خاتون لی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اس بارے میں معلومات حاصل کیں تو انہیں پتا لگا کہ دیگر تربیت یافتہ خواتین کو حاملہ ہونے کی وجہ سے برخاستگی اور ملک بدری تک کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے حمل کے بارے میں کسی کو نہیں بتائے گی اس خوف کے سبب کہ اس کا معاہدہ ختم ہو جائے گا اور اسے واپس ویتنام بھیج دیا جائے گا۔

Published: undefined

جاپان آنے کی وجہ

بہت سی غیر ملکی خواتین تربیت یافتہ ایجنٹوں پر بھاری مالیاتی قرض سے لے گئی رقم لگا کر جاپان پہنچتی ہیں۔ لی ان میں سے ایک ہے۔ جاپان میں تارکین وطن کی مدد کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم، 'کموستاکا‘ کے مطابق لی 1.5 ملین ین یا قریب گیارہ ہزار تین سو ڈالر کی مقروض ہے کیونکہ اُسے پیچھے ویتنام میں اپنے گھر اورخاندان کی مالی مدد بھی کرنی تھی، اس لیے وہ جاپان میں اپنا انٹرن شپ کا معاہدہ کھونے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔

Published: undefined

جمعہ کو سامنے آنے والے سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے، کموستاکا نے 90 ہزار سے زائد دستخط ایک مہم کے تحت حاصل کیے تھے جس کا مقصد ویتنامی خاتون لی تھی تھیو لن کو ''مجرم نہیں‘‘ قرار دینے کی اپیل تھی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined