
اس کشتی میں سوار جن تارکین وطن کو بروقت بچا لیا گیا، ان کی تعداد 30 سے زائد ہے۔ تاہم ریسکیو ورکرز ایک ایسے بچے کو نا بچا سکے، جو سفر کے آغاز پر تو اس کشتی کے مسافروں میں شامل تھا مگر ساحل تک پہنچتے پہنچتے وہ ناپید ہو چکا تھا۔
اسپین کے جزائر کیناری میں سے گرینڈ کیناری نامی جزیرے سے اتوار کے روز ملنے والی رپورٹوں کے مطابق مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اور پناہ کے متلاشی ان تارکین وطن کو ہسپانوی امدادی کارکنوں نے جمعہ 15 جنوری کی رات ریسکیو کیا۔
ان تارکین وطن کا بچا لیا جانا محض ایک اتفاق تھا کیونکہ امدادی کارکنوں کو اچانک ہی پتا چلا تھا کہ گرینڈ کیناری آئی لینڈ سے تقریباﹰ 160 کلومیٹر (99 میل) جنوب کی طرف ایک چھوٹی سی کشتی اور اس کے مسافر کھلے سمندر میں تند لہروں کے رحم و کرم پر تھے۔
ریکسیو ورکرز اس کشتی تک پہنچے اور انہوں نے اس کشتی میں سوار 30 سے زائد تارکین وطن کو بچا لیا۔ ان مسافروں میں سے 11 مرد تھے، 20 خواتین اور تین کم عمر بچے۔ سب کے سب مسافروں کی جسمانی حالت خراب تھی اور وہ انتہائی بےسروسامانی کے حالات میں اس سفر پر نکلے تھے۔
اس کشتی اور اس کے مسافروں سے متعلق جو ایک بات سب سے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوئی، وہ یہ تھی کہ اس کے مسافروں میں ایک نو سالہ لڑکا بھی شامل تھا۔ وہ اس طویل اور خطرناک سمندری سفر کے دوران انتقال کر گیا تھا اور کشتی پر جگہ کم اور مسافر زیادہ ہونے کی وجہ سے دوران سفر اس کی لاش سمندر میں پھینک دی گئی تھی۔
میڈرڈ میں ہسپانوی وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ برس اس طرح کی چھوٹی بڑی کشتیوں میں سوار ہو کر اور یورپ میں پناہ کی تلاش میں تقریباﹰ 23 ہزار مہاجرین اور تارکین وطن اسپین کے جزائر کیناری تک پہنچے تھے۔
اس سے صرف ایک برس قبل 2019ء میں یہی تعداد تین ہزار کے قریب رہی تھی۔ اس دوران ہسپانوی جزائر کیناری اور یوں یورپی یونین کے علاقے تک پہنچنے کی کوشش میں 500 سے زائد تارکین وطن سمندر میں ڈوب گئے تھے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 18 Jan 2021, 7:48 AM IST