سماج

جرمنی: ’مہاجرین مخالف گروپ‘ کے خلاف عدالتی کارروائی

جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے دہشت پھیلانے والے ایک گروپ کے بعض اراکین کے خلاف مقدمے کی کارروائی ایک عدالت میں شروع ہو رہی ہے۔ اس موقع پر فرائیٹال قصبے کے شہریوں کو تشویش لاحق ہے۔

جرمنی: مہاجرین مخالف گروپ کے خلاف عدالتی کارروائی
جرمنی: مہاجرین مخالف گروپ کے خلاف عدالتی کارروائی 

فرائیٹال کا قصبہ جرمن شہر ڈریسڈن کے نواح میں ہے۔ اس قصبے سے تعلق رکھنے والے انتہائی دائیں بازو کے ایک گروپ کے چند اراکین کے خلاف عدالتی کارروائی سات ستمبر بروز پیر سے شروع ہوئی۔ یہ گروپ خاص طور پر مہاجرین مخالف ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ فرائیٹال کی بلدیاتی یا شہری کونسل میں سب سے طاقتور سیاسی پارٹی آلٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ (اے ایف ڈی) ہے۔

Published: 08 Sep 2020, 6:11 AM IST

فرائیٹال کے انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے خلاف یہ دوسرا مقدمہ ہے۔ قبل ازیں سن 2018 میں اس گروپ سے منسلک چند افراد کو دہشت گردانہ تنظیم قائم کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں عدالت طویل المدتی سزائیں سنا چکی ہے۔

Published: 08 Sep 2020, 6:11 AM IST

جن افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں ان پر مہاجرین کی پناہ گاہوں، اپارٹمنٹس اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان افراد پر استغاثہ نے مخالفین کے دفاتر اور ان کی موٹر کاروں کو بارودی مواد سے اڑانے کے الزامات کو بھی ثابت کر دیا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ملزمان خوف اور جبر کی فضا پیدا کرنے کی کوشش میں تھے۔

Published: 08 Sep 2020, 6:11 AM IST

سات ستمبر سن 2020 کو چالیس ہزار آبادی والا فرائیٹال منقسم ہو چکا ہے۔ اس کی ایک وجہ خوف پیدا کرنے والے حالات ہیں۔ سن 2015 کو سیاسی پارٹی آلٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ کے مقامی سربراہ رینے زے فریڈ نے قصبے میں بنائی گئی مہاجرین کی رہائش گاہوں کے باہر مظاہرہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس کا انکشاف ان کی انتہائی دائیں بازو کے افراد کے ساتھ ہونے والی آن لائن گفتگو سے ہوا تھا۔

Published: 08 Sep 2020, 6:11 AM IST

اس دوران فرائیٹال کے میئر اور دوسرے مقامی اہلکاروں نے قصبے میں پرتشدد صورت حال کو غیر اہم خیال کیا اور ان اخباری سرخیوں اور رپورٹوں پر پریشانی کا اظہار کیا، جن میں قصبے کے تشویشناک حالات کو بیان کیا گیا تھا۔ انہوں نے الزامات لگانے والوں کو 'شرپسند اور بدمعاش‘ قرار دیا۔

Published: 08 Sep 2020, 6:11 AM IST

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے فرائیٹال کے میئر کے دفتر نے واضح کیا کہ ایسی کارروائیوں میں ملوث افراد چھوٹے چھوٹے گروپوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا نشانہ قصبے کے افراد یا جرمن شہری یا کوئی منتخب بلدیاتی اہلکار نہیں تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اب اس قصبے میں بیس مہاجرین آباد ہیں۔ یہ عام تاثر ہے کہ فرائیٹال کے شہری امن پسند ہیں۔

Published: 08 Sep 2020, 6:11 AM IST

ایسی خوف کی صورت حال پیدا کرنے والوں کے مخالفین کا کہنا ہے کہ دوسرے مقدمے کے کارروائی سے بقیہ مشتبہ افراد کے خلاف استغاثہ یقینی طور پر الزامات ثابت کرنے میں کامیاب ہو گا اور انہیں مناسب سزائیں سنائی جائیں گی۔ ان کے مطابق اس عدالتی کارروائی کی تکمیل پر قصبے میں بوجھل صورت حال کی جگہ سکون اور محبت کو حاصل ہو گی۔

Published: 08 Sep 2020, 6:11 AM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 08 Sep 2020, 6:11 AM IST