سماج

کیا یورپی یونین کے رکن ملکوں میں حجاب پر پابندی ہے؟

یکم فروری کو عالمی سطح پر حجاب کا دن منایا جاتا ہے۔ یورپی یونین میں شامل ممالک میں اس بار خاص طور سے حجاب کے موضوع پر گفتگو کے لیے موزوں ماحول فراہم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

کیا یورپی یونین کے رکن ملکوں میں حجاب پر پابندی ہے؟
کیا یورپی یونین کے رکن ملکوں میں حجاب پر پابندی ہے؟ 

یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں حجاب کے عالمی دن کی مناسبت سے عوامی سطح پر اس امر پر زور دیا جا رہا ہے کہ حجاب کے موضوع پر کھل کر بات چیت کے لیے ایک پُر امن اور موزوں ماحول پیدا کیا جائے۔

Published: undefined

یورپی یونین میں شامل ممالک میں مسلمان خواتین کے پردے یا حجاب کے خلاف پائے جانے والے تحفظات پر برسوں سے بحث جاری ہے۔ چند یورپی اقوام پردے یا حجاب پر پابندی کا دفاع کرتی ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اسپابندی سے مذہبی جبر اور دہشت گردی سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ دیگر اقوام مسلم خواتین کے حجاب یا پردے پر پابندی کو خواتین کے حقوق کی کی نفی اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک مانتی ہيں اور ان کا ماننا ہے کہ اس طرح یورپ میں انضمام کی راہ میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

Published: undefined

پورپی یونین کے چند ممالک نے پہلے ہی مسلم خواتین کے برُقع پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یعنی پورے جسم کو ڈھانپ کر آنکھوں کے ارد گرد جالی والا نقاب ڈالنے یا چہرے تک کا ایسا پردہ جس میں صرف آنکھیں نظر آتی ہوں، کا استعمال ان یورپی ممالک میں جزوی یا مکمل طور پر ممنوع ہے۔

Published: undefined

انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم وکلاء پر مشتمل ایک گروپ 'اوپن سوسائٹی جسٹس انیشی ایٹیو‘ کی 2022 ء کی ایک رپورٹ کے مطابق اس طرح کی پابندیوں کا نفاذ دراصل نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد امریکہ کی طرف سے 'دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ کے اعلان کے بعد ہوا۔ تب سے مسلمانوں کو ان کے لباس کی وجہ سے شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ اس رپورٹ کے مصنفین نے تحریر کیا، ''یہ خیال کہ مسلمان ایک گروہ کے طور پر نئے 'اندرونی دشمن‘ ہیں، جن کے عقائد اور طرز عمل یورپ کے مقابلے میں کمتر اقدار اور اصولوں کی عکاسی کرتے ہیں سیاسی سطح پر باقاعدہ قانونی جواز بن گیا۔‘‘

Published: undefined

ورلڈ حجاب ڈے آرگنائزیشن کا موقف

ورلڈ حجاب ڈے آرگنائزیشن کے بلاگ کی ایڈیٹر رمکی چودھری، جو اب سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں مقیم ہیں، نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا۔ ڈوئچے ویلے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا،''میرے لیے یہ ایک مشکل وقت تھا کیونکہ میں امریکہ میں پلی بڑھی ہوں اور نائن الیون کے بعد میرے لیے حجاب پہننے کے بارے میں سوچنا بھی مشکل تھا کیونکہ اس سارے پروپیگنڈے کے پيچھے ایک ہی سوچ تھی کہ ُان بڑے دہشت گردانہ واقعات کے پیچھے مسلمان تھے۔ اس لیے میں حجاب پہننے کی وجہ سے امتیازی سلوک سے خوفزدہ تھی۔‘‘

Published: undefined

رمکی چودھری تمام مفروضات کو ایک غلط فہمی قرار دیتی ہیں ۔ ان کے بقول، ''حقیقت میں یہ ایک غلط فہمی ہے کیونکہ قرآن کے مطابق اگر آپ ایک انسان کو قتل کرتے ہیں، تو یہ عمل انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے اور میں نے محسوس کیا کہ لوگ مسلمانوں کے بارے میں جو دعویٰ کر رہے ہیں وہ سچ نہیں ہے۔ لوگ صرف الزام لگانے کے لیے کسی کی تلاش میں تھے۔ وہ غصے میں تھے، غمگین تھے اور ان کا سارا غصہ اور دُکھ بالآخر مسلمانوں پر اور ان کے پہناوے تک پر نکلا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا،''بالآخر میں نے حجاب پہننے کے بارے میں لوگوں کی سوچ پر قابو پا لیا کیونکہ میرے لیے یہ ہمیشہ سے ہی کچھ ایسا رہا ہے جو مجھے اپنے خدا کے قریب کرتا ہے۔‘‘

Published: undefined

کیا یورپی یونین میں حجاب پر پابندی ہے؟

امریکہ میں 9/11 کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد 2010 ء میں عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پر پابندی عائد کرنے والا یورپی یونین کا پہلا رُکن ملک فرانس تھا۔ اس ملک میں اس طرح کے نقاب کو خواتین پر ظلم و جبر کی علامت قرار دیا گیا تھا۔

Published: undefined

آسٹریا، بیلجیم، بلغاریہ، ڈنمارک، اٹلی کے (کچھ علاقوں میں)، نیدرلینڈ (عوامی مقامات پر) اور اسپین (کاتالونیا کے کچھ حصوں میں) ميں نقاب پرپابندی کی پیروی کی گئی۔ دوسری جانب جرمنی برقع اور نقابوں کے حوالے سے منقسم ہے۔ کچھ جرمن ریاستوں نے اسکولوں اور عوامی مقامات پر برقع یا نقاب کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے، جبکہ دیگر جرمن ریاستوں کو خدشہ ہے کہ یہ پابندیاں معاشرتی انضمام کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

Published: undefined

جولائی2021 ء میں یورپی کورٹ آف جسٹس (ECJ) کی طرف سے یہ فیصلہ سامنے آیا تھا کہ کسی ایسے کام میں جس میں خواتین کا واستہ عوام سے پڑتا ہو، مسلم خواتین کو حجاب اتارنے سے انکار کرنے پر ان کی ملازمتوں سے برطرف کیا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

اس سلسلے میں جرمن ججوں نے دو آجرین کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے دو خواتین، جنہوں نے کام کے دوران سر پر اسکارف پہننے پر اصرار کیا تھا، کو ملازمت سے برطرف کرنے کے سلسلے میں ایک درخواست دی تھی۔ اس کے جواب میں ای سی جے کے ججوں نے کہا تھا، ''کام کی جگہ پر سیاسی، فلسفیانہ یا مذہبی عقائد کے اظہار کی کسی بھی ظاہری شکل کے استعمال پر پابندی، آجر کی طرف سے صارفین کے لیے غیر جانبدارانہ تصویر پیش کرنے یا سماجی تنازعات کو روکنے کی ضرورت کے مطابق ہو سکتی ہے۔‘‘

Published: undefined

تاہم اکتوبر 2022 ء میں ای سی جے کی طرف سے ایک فیصلہ آیا جس میں کہا گیا کہ یورپی یونین کی کمپنیوں کو اپنے کارکنوں کی طرف سے مذہبی علامات پہننے پر پابندی عائد کرنے کا جواز پیش کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آيا جب یورپی عدالت بیلجیئم میں ایک مسلم خاتون، جسے کہا گیا تھا کہ وہ کام کرنے کے دوران حجاب نہیں پہن سکتی، کے بارے میں ایک کیس کا جواب دے رہی تھی۔ مذکورہ فرم نے کہا کہ یہ فیصلہ 'غیر جانبداری کے اصول‘ کا حصہ ہے اور یہ ملازمین میں مساوات کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے۔

Published: undefined

اُدھر'اوپن سوسائٹی جسٹس اینیشی ایٹیو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے بیشتر ممالک میں چہرے کے نقاب اور سر پر اسکارف پر پابندی جیسے قوانین کو بنیادی طور پر قوم پرست اور انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے فروغ دیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یورپی یونین کی پانچ ریاستیں، کروشیا، قبرص، یونان، پولینڈ اور پرتگال نے کبھی بھی سر یا چہرے کو ڈھانپنے پر پابندی کے موضوع پر پر عوامی سطح پر بحث نہیں کی۔

Published: undefined

مستقبل کی راہیں

ٹورنٹو اور برلن کے درمیان 'شٹلنگ‘ کرنے والی انسانی حقوق کی ایرانی کارکن سائی اسکائی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جب لوگوں کے حجاب پہننے کے بارے میں بات چیت کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنے کے لیے یورپی یونین کو بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

Published: undefined

''یہاں مغرب میں حجاب ایک مسالہ دار موضوع ہے، لیکن اس بارے میں فہم کی کمی ہے کہ اسے پہننے والی خواتین کے لیے اس کی کیا اہمیت ہے۔ ایران میں پچھلے 43 سالوں سے خواتین حجاب نہ پہننے کی وجہ سے جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔ افغانستان میں طالبان افغان خواتین پر اسکارف پہننے کو لازمی قرار دیتے ہوئے اس بارے میں اتنے سخت قوانین نافذ کر رہے ہیں۔ بہت سے ممالک میں خواتین اسے اپنی شناخت اور اپنے نظریات کے اظہار کا ایک اہم جُزو سمجھتی ہیں۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined