
سعودی عرب کی ایک عدالت نے انسانی حقوق کی معروف کارکن لجين الهذلول کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ الھزلول کو ایک برس قبل اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب سعودی حکام نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا۔
لجين الهذلول سعودی عرب میں عورتوں کو کار چلانے کی اجازت دینے کے حق میں مہم چلاتی رہی تھیں اس کے علاوہ وہ سعودی عرب میں مردانہ سرپرستی کے نظام کے خلاف جاری مہم کا حصہ تھیں۔ الھزلول کو اُس وقت شہرت ملی تھی جب انہوں نے 2014ء میں سعودی عرب سے بذریعہ کار متحدہ عرب امارات میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منگل 12 مارچ کو سعودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ الھزلول کو فی الفور رہا کریں کیونکہ وہ کوئی غلط کام نہیں کیا۔ ایمنسٹی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ’’انہیں پر امن فعالیت پسندی پر کئی ماہ سے حراست میں رکھا گیا ہے اور ممکنہ طور پر انہیں جنسی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔‘‘
الھزلول کے بھائی ولید نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان کو ابھی تک ان الزامات سے آگاہ نہیں کیا گیا جن کی بنیاد پر لجين الهذلول کے خلاف مقدمہ شروع کیا گیا ہے۔ ولید کے مطابق ان کی بہن کو سعودی بادشاہ سے معافی طلب کرنے کے لیے ایک دستاویز پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا۔
ولید کے مطابق الھزلول کو دوران حراست بجلی کے جھٹکے دیے گئے، ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔