سماج

ہوش اڑا دینے والی رپورٹ، بچوں کا جنسی استحصال: کئی مذہبی تنظیموں کے خلاف تحقیقات

انگلینڈ اور ویلز میں سرگرم کئی مذہبی تنظیموں پر بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ایک آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں بھی ان الزامات کا ذکر ہے۔

بچوں کا جنسی استحصال: کئی مذہبی تنظیموں کے خلاف تحقیقات
بچوں کا جنسی استحصال: کئی مذہبی تنظیموں کے خلاف تحقیقات 

اس انکوائری میں سن 2015 سے لے کر سن 2020 کے دوران متعدد مذہبی تنظیموں کی چھتری تلے رونما ہونے والی سرگرمیوں اور کارروائیوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اس دوران یہ واضح ہوا کہ بچوں کے ساتھ اس استحصالی عمل میں ملوث افراد یا تو مذہبی تنظیموں کے ملازم تھے یا پھر ان سے وابستہ افراد تھے اور جنسی استحصال کے تمام واقعات کو رپورٹ بھی نہیں کیا گیا ہے۔

Published: undefined

مذہبی تنظیمیں

بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث کل اڑتیس تنظیموں کا احوال اس خصوصی رپورٹ میں شامل ہے۔ ان کا تعلق مسیحی مذہبی گروپ ژاہووا وِٹنیس، باپٹیسٹ، میتھوڈسٹ، اسلام، یہودیت، ہندومت، سکھ مت اور نان کنفرمسٹ مسیحی حلقوں سے ہے۔

Published: undefined

اس انکوائری کو مرتب کرنے کے لیے تفتیش کاروں نے دو ہفتے تک مختلف مذاہب کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا شکار بننے والے افراد و متاثرین سے شواہد جمع کرنے کے لیے بات چیت بھی کی۔شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس عمل میں ملوث دس فیصد افراد ان مذہبی تنظیموں کے ملازمین تھے۔ استحصال کے گیارہ فیصد واقعات افعال تنظیموں کے دفاتر میں ہی رونما ہوئے۔

Published: undefined

ہوش اڑا دینے والی رپورٹ

تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں بیان کیا کہ مذہبی تنظیموں سے وابستہ افراد کی یہ استحصالی سرگرمیاں یقینی طور پر طاقت و اختیار کا غلط استعمال تھا۔ ایسے افراد کو مذہبی اکابرین کی سرپرستی اور کسی حد تک حمایت بھی حاصل تھی۔

Published: undefined

رپورٹ میں ان استحصالی سرگرمیوں کو انتہائی افسوسناک اور صدماتی قرار دیا گیا کہ ایسی کریہہ کارروائیوں کے لیے انگلینڈ اور ویلز کے علاقوں کو چنا گیا اور ان کا ارتکاب مذہب کے نام پر اور اس کی آڑ میں کیا گیا۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق کئی ایسی تنظیموں کے ضوابط میں بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے انظباطی کارروائی کرنے کا کوئی حوالہ تک موجود نہیں ہے۔

Published: undefined

مذاہب کے پیروکار یقین نہیں کریں گے

اس رپورٹ کے تفتیش کاروں نے بیان کیا کہ اس رپورٹ کے افسوس ناک نتائج پر مذاہب کے پیروکار یقین نہیں کریں گے اور ان مندرجات کی صداقت کو تسلیم کرنے کے لیے غیر ضروری بہانے تراشیں گے۔ رپورٹ کے مطابق چار بچے، جن کی عمریں نو برس یا اس سے کم تھیں کو قرآن کی تعلیم دینے والے استاد یا ٹیچر نے مسجد کے اندر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس درندہ صفت ٹیچر کو سن 2020 میں سزا بھی سنا دی گئی تھی۔

Published: undefined

ایسے ہی ایک اور واقعے کو بیان کیا گیا اور اس کے مطابق ایک لڑکے کو ایوانجیکل تنظیم کے ایک اہم لیڈر نے تنظیم کے دفتر میں اپنی جنسی بھوک کی بھینٹ چڑھایا۔ یہ تنظیم یونائیٹڈ ریفارمڈ چرچ کی تھی۔ اسی تنظیم کے چند اور دفاتر میں بھی اسی اہم لیڈر نے سات سے دس برس کے بچوں کا جنسی استحصال کیا۔ دہائیوں بعد سن 2017 میں اس جنسی استحصال کرنے والے کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔

Published: undefined

یہ رپورٹ ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب اینجلیکن اور کیتھولک چرچ کی جانب سے بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کی تفتیش پر عوامی رنج اور غصے میں کمی نہیں آئی ہے۔ بچوں کے جنسی استحصال کی نئی حتمی رپورٹ اگلے برس پارلیمنٹ میں تادیبی اقدامات کی سفارش کے ساتھ پیش کی جائے گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined