سماج

ليبيا میں سیلاب کے ایک ہفتے بعد بھی مختلف علاقوں سے سینکڑوں لاشیں برآمد

لیبیا کے ہلال احمر کے ترجمان توفیق شکری نے گزشتہ ہفتے آنے والے سیلاب میں گیارہ ہزار تین سو افراد کی ہلاکت کی خبر کی تردید کی ہے۔ اس طرح کے اعداد و شمار متاثرین کی الجھن اور پریشانی کا سبب ہیں۔

ليبيا میں سیلاب کے ایک ہفتے بعد بھی مختلف علاقوں سے سینکڑوں لاشیں برآمد
ليبيا میں سیلاب کے ایک ہفتے بعد بھی مختلف علاقوں سے سینکڑوں لاشیں برآمد 

لیبیا کے ساحلی شہر درنہ میں سونامی کی طرح کے سیلاب کی تباہ کاریوں کے ایک ہفتے بعد، ملبے تلے سے اور سمندر سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اندازوں کے مطابق اس سیلاب میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ غمزدہ متاثرین کی مدد کے لیے اتوار کو بین الاقوامی امدادی کوششوں میں تیزی دیکھی گئی۔ چہرے کے ماسک اور حفاظتی لباس پہنے ہوئے سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کے کارکنان زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ابھی بھی تباہ شدہ عمارتوں، کچلی ہوئی کاروں اور اکھڑے ہوئے درختوں کی مٹی سے ڈھکی ہوئی بنجر زمین میں پھنسے ہوئے انسانوں کو نکالنے کی امید میں سرگرداں ہیں۔

Published: undefined

متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات

اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ صدمے کے شکار رہائشیوں میں ہیضہ، اسہال، پانی کی کمی اور غذائی قلت کے خطرات بہت بڑھ گئے ہیں۔ ان متاثرین کو صاف پانی، خوراک، رہائش اور بنیادی سامان کی اشد ضرورت ہے۔ تنہا درنہ شہر میں 30 ہزار سے زائد باشندے بے گھر ہو گئے ہیں۔ اس شہر کے ایک رہائشی محمد الدوالی نے کہا کہ اس شہر میں ہر ایک خاندان سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔ سکیورٹی فورس کے ایک رکن سیر محمد سیر نے ایک تین ماہ کی بچی کے سانحے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ''اس کا پورا خاندان مر گیا، وہ واحد بچی ہے۔‘‘

Published: undefined

دریں اثناء فرانس، ایران، مالٹا، روس، تیونس، ترکی اور متحدہ عرب امارات سے ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں اور امدادی سامان لیبیا پہنچ چُکا ہے جبکہ متعدد دیگر یورپی اور عرب ممالک سے بھی امدادی سامان اور ٹیمیں روانہ ہو چُکی ہیں۔

Published: undefined

امدادی کاموں میں رکاوٹیں

لیبیا کی سیاسی تقسیم کی وجہ سے امدادی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ اس شمالی افریقی عرب ریاست میں سن 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے نتیجے میں انتہائی طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والے آمر معمر قذافی کا تختہ الٹنے اور انہیں قتل کرنے کے بعد جنگ سے یہ ملک انتشار اور افراتفری سے دوچار ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال شمالی افریقی ملک اب دو حریف حکومتوں کے درمیان بٹا ہوا ہے، دارالحکومت طرابلس میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ انتظامیہ، اور دوسری آفت زدہ مشرقی حصے پر کنٹرول رکھتی ہے۔

Published: undefined

سیلاب کی تباہ کاریاں اور بچ جانے مگر گھر بار سے محروم ہونے والے ہزاروں انسانوں کی زندگی جس افراتفری کا شکار ہے اُس میں ہلاکتوں کی اصل تعداد نامعلوم ہی رہی، بے شمار افراد کے سمندر میں بہہ جانے کا خدشہ ہے۔ مشرقی انتظامیہ کے وزیر صحت عثمان عبدالجلیل کا کہنا ہے کہ کہا ہے کہ درنہ میں 3,252 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ کمبلوں اور باڈی بیگز میں لپٹی لاشوں کا ڈھیر چوکوں اور گلیوں میں لگا ہوا ہے۔

Published: undefined

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر نے اتوار کے روز خبردار کیا کہ صرف درنہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 11,300 تک ہو سکتی ہے جبکہ مزید 10,100 لاپتہ ہیں۔ تاہم لیبیا کی ہلال احمر نے، جس کا حوالہ اقوام متحدہ کی ایجنسی نے دیا تھا، اس سے قبل اقوام متحدہ کی جانب سے 10,000 سے زیادہ ہلاکتوں کی کی تعداد کی تردید کی تھی اور میڈیا سے ان اعداد و شمار کے بارے میں ''احتیاط اور درستگی کا مظاہرہ‘‘ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

Published: undefined

بحیرہ روم کے ساحل کی طرف لاشوں کا بہاؤ

لیبیا میں کئی دہائیوں کے بدترین سیلاب کے ایک ہفتے بعد بھی ملبے کے علاوہ لاشیں سمندری ساحل پر مل رہی ہیں۔ ہمسایہ ملک مالٹا کے سول پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ریسکیو عملے نے بتایا کہ اس نے جمعے کو ساحل پر لاشوں کا انبار پایا۔ اس خبر کو ٹائمز آف مالٹا اخبار نے رپورٹ کیا۔ اس ریسکیو ٹیم کے سربراہ نتالینو بیزینا نے اخبار ٹائمز آف مالٹا کو بیان دیتے ہوئے کہا،'' ان لاشوں کی تعداد شاید 400 تھی، لیکن یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ تیز ہواؤں کی وجہ سے وہاں تک رسائی مشکل تھی۔‘‘

Published: undefined

سوشل نیٹ ورکس پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ایک کشتی میں لیبیا کی ایک ریسکیو ٹیم کے اراکین یہ کہتے ہوئے سنائی دیے کہ ''درنہ سے قریب 20 کلومیٹر مشرق کی طرف اُم البریکت سمندر کے ساحل سے تقریباً 600 لاشیں ملی ہیں۔‘‘ اقوام متحدہ نے 71 ملین ڈالر سے زیادہ کی امداد کی اپیل کی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined