سماج

یوکرائن اور روس کی جنگ سے مشرق وسطیٰ کیسے متاثر ہو گا؟

اگر یوکرائن میں جنگ ہوئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، بالخصوص عرب ممالک اس مسلح تنازعے کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس 

حالیہ دنوں میں یوکرائن کا بحران کچھ ٹھنڈا ہوتا دیکھائی دیا تاہم اس حوالے سے خدشات پھر بڑھ گئے کہ روس اپنے اس ہمسایہ ملک پر حملہ کر سکتا ہے۔

Published: undefined

مغربی دفاعی اتحاد کے سربراہ ژینس اشٹولٹن برگ نے بدھ کے دن کہا کہ روس کی جانب سے یوکرائنی سرحد سے فوجی دستوں کی واپسی کے اعلانات فقط دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے والے دعوے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دعوؤں کے برخلاف روس نے مزید سات ہزار فوجی یوکرائنی سرحد پر پہنچائے ہیں۔

Published: undefined

روس کی جانب سے رواں ہفتے کے آغاز پر ایسے اشارے دیے گئے تھے کہ وہ یوکرائنی سرحد سے کچھ فوجی دستے واپس بلا رہا ہے۔ ژینس اشٹولٹن برگ نے روس کی جانب سے معاملے کے سفارتی حل کی خواہش کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم کہا ہے کہ روس نے اب تک یوکرائنی سرحد سے فوجی دستوں کی واپسی کا کوئی عملی اشارہ نہیں دیا ہے۔

Published: undefined

یوکرائن اور روس کے مابین مسلح تنازعہ نہ صرف یورپ کو متاثر کرے گا بلکہ اس سے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کا خطہ بھی بری طرح متاثر ہو گیا۔

Published: undefined

لیبیا

یوکرائن میں جنگ کی وجہ سے سب زیادہ متاثر لیبیا ہو گا۔ سکیورٹی تجزیہ نگار سمیع حمدی کے مطابق روس نے لیبیا کے ضلع الجفرہ میں ایک ایئر بیس بنا رکھا ہے، اگر یہ جنگ شروع ہوئی تو ماسکو حکومت الجفرہ ایئر بیس کو فوری طور پر فعال بنا سکتا ہے۔

Published: undefined

سمیع حمدی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں مزید کہا کہ لیبیا کا داخلی تنازعہ ہی ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے اور اگر یوکرائن اور روس کی جنگ ہوئی تو اس کے اثرات اس شمالی افریقی ملک کو زیادہ ابتر بنا دیں گے۔

Published: undefined

سیاسی تجزیہ نگار سنزیا بیانکو کا کہنا ہے کہ روس مغربی مالک پر دباؤ ڈالنے کی خاطر لیبیا سے مہاجرین کا ایک نیا سیلاب یورپ کی طرف موڑ سکتا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ بیلاروس اور پولینڈ کی سرحد پر جوا ہوا ہے، وہ یہاں بھی ہو سکتا ہے۔

Published: undefined

شام

روس کی افواج شام میں بھی تعینات ہیں۔ بالخصوص طرطوس کی بندرگاہ میں روس کی بحریہ نے ایک اڈہ بنا رکھا ہے۔ ماسکو حکومت اپنے اہم اتحادی ملک شام کے صدر بشار الاسد کے ساتھ مل کر علاقائی سطح پر اپنا اثرورسوخ بڑھا سکتا ہے۔

Published: undefined

سیاسی تجزیہ نگار سنزیا بیانکو کے مطابق شام میں روس کا اثرورسوخ بہت زیادہ ہے۔ اس خطے میں سمندری راستے سے جتنی بھی امداد جاتی ہے، وہ شام سے ہو کر دیگر ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ بیانکو کو کہنا ہے کہ روس نے یہ امداد روک دی تو مہاجرین کا ایک طوفان یورپ کے لیے نکل کھڑا ہو گا۔

Published: undefined

اسرائیل

شام کا ہمسایہ ملک اسرائیل بھی یوکرائن اور روس کے مابین جاری تناؤ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی فورسز شام میں ایرانی فوجی تنصیات کو نشانہ بنا رہی ہیں، جبکہ روس نے ابھی تک اس بارے میں اپنی آنکھیں بھینچ رکھی ہیں۔ تاہم یوکرائن اور روس کے تنازعے کی صورت میں اگر مغربی ممالک نے ایکشن لیا تو روس شام میں اس حوالے سے بھی کوئی ردعمل ظاہر کر سکتا ہے۔

Published: undefined

گزشتہ ہفتے ہی یوکرائنی وزیر خارجہ نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ روس کے ساتھ جنگ کی صورت میں اس کے منفی اثرات اسرائیل پر بھی پڑیں گے۔ ان میں ایک تو یوکرائنی یہودی آبادی کا اسرائیل کی طرف رخ ہو گا جبکہ دوسرا گندم کی ایکسپورٹ میں کٹوتی۔

Published: undefined

جزیرہ نما عرب

یوکرائن اور روس کی جنگ کے منفی اثرات جزیرہ نما عرب پر بھی پڑیں گے، بالخصوص امریکا کے قریبی اتحادی ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر۔

Published: undefined

سمیع حمدی کے مطابق سعودی عرب اوپیک میں اپنی اجار داری قائم رکھنے کے لیے روس پر انحصار کرتا ہے جبکہ اس نے روس کے ساتھ عسکری تعاون کا ایک سجھوتا بھی کر رکھا ہے۔ کسی تنازعے کی صورت میں سعودی عرب امریکا کا ساتھ دے گا یا روس کا، یہ ریاض حکومت کے لیے ایک درد سر بن سکتا ہے۔

Published: undefined

دوسری طرف یمن کا تنازعہ بھی جاری ہے، جہاں سعودی عسکری اتحاد ایران نواز باغیوں کے خلاف فعال ہے۔ اس خطے میں ایران کے اثرورسوخ کے خدشات بھی ہیں، جو روس کا اہم اتحادی ہے۔ اس حوالے سے کریملن یوکرائن کے ساتھ جنگ کی صورت مغربی ممالک پر دباؤ ڈالنے کی خاطر اپنا یہ کارڈ بھی استعمال کر سکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined