سماج

ادویات ٹافیوں کی طرح کھانے کا رجحان اور مفت طبی مشورے

سر میں شدید درد ہے، رات نیند بھی نہیں آئی۔ یہ جملہ با آواز بلند بول کر دیکھیے، اردگرد موجود تین چار لوگ ضرور آپ کو مختلف ادویات تجویز کر دیں گے۔ گویا کہ خود علاجی میں ہمارے معاشرے کا ہر فرد ماہر ہے۔

ادویات ٹافیوں کی طرح کھانے کا رجحان اور مفت طبی مشورے
ادویات ٹافیوں کی طرح کھانے کا رجحان اور مفت طبی مشورے 

ایک خود علاجی کے ماہر شخص نے اگر کوئی گولی آپ کو تجویز کی تو دوسرا فوراً تردید کرتے ہوئے کہے گا کہ ’’نہیں نہیں بلکہ تم یہ والی چھوڑو، میں دوسری دوا بتاتا ہوں۔ یہ دوا کھاؤ اس سے زیادہ جلدی درد ختم ہو گا۔‘‘

Published: undefined

اور ایسے ذہین فطین لوگ بھی موجود ہیں جو کہ دونوں تجویز کردہ دوائیں بیک وقت کھا لیں گے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ شاید یہ دوا نہیں بلکہ کوئی صحت بخش غذا تجویز کی گئی ہے۔ ایک تقریب میں میزبان سے سلام دعا کے بعد ان کے چہرے سے اندازہ ہوا کہ شاید بخار کی کیفیت ہے۔ ہم نے پوچھا کہ آپ کی طبیعت کچھ خراب لگ رہی ہے۔ ڈاکٹر کے پاس گئیں آپ؟ فرمانے لگیں نہیں تین چار مختلف طرح کی گولیاں نگل لیں ہیں کوئی ایک تو ضرور اپنا اثر دکھائے گی اور تھوڑی دیر میں طبیعت بہتر ہو جائے گی۔

Published: undefined

ایسے نادان لوگ نہ صرف اپنی صحت کے دشمن ہوتے ہیں بلکہ اپنے اردگرد والوں کی صحت کی بھی در پے ہوتے ہیں۔ اور جب یہ خود سے لی گئی ادویات جسم کے اندر موجود نظام کو درہم برہم کر کے موت کو دعوت دے دیتی ہیں تو لوگ تبصرے کرتے ہیں کہ ’’ارے ابھی تو بھلی چنگی تھیں۔ اچانک ہی چل بسیں۔‘‘

Published: undefined

اسی طرح کی ایک اور محترمہ میرے بچپن کی دوست ماریہ کی والدہ ہیں۔ ہم عرصہ دراز سے انہیں مختلف ڈاکٹروں سے علاج کے لیے چکر لگاتے دیکھ رہے ہیں۔ ادویات کا خرچہ راشن کے بجٹ سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ مختلف اقسام کے ٹیسٹ کروانا گویا کہ ان کا پسندیدہ ترین مشغلہ ہے۔

Published: undefined

لیکن آج تک کوئی مرض تشخیص نا ہو سکا۔ بھوک نہیں لگتی، نیند نہیں آتی۔ برسوں سے نیند کی گولیاں ٹافیوں کی طرح پھانکتی رہتی ہیں۔ کسی طرح کی غذا سے کوئی الرجی نہیں۔ اس کے باوجود ہر دوسرے دن ہسپتال میں لیٹی درد دور کرنے کی ادویات پر مشتمل ڈرپ سے لطف اندوز ہو رہی ہوتی ہیں اور اس کے بعد نیم بے ہوشی کی حالت میں انہیں گھر لایا جاتا ہے۔ کیونکہ درد کش ادویات میں مریض کو سکون پہنچانے کے لیے غنودگی کے اثرات بھی ہوتے ہیں۔ ایک طویل نیند کے بعد وہ مطمئن ہو کر جاگتی ہیں۔

Published: undefined

اس سارے منظر میں اہم بات یہ ہے کہ جس دن گھر میں کوئی خلاف مزاج بات ہو جائے، اس دن انہیں ضرور درد اٹھتا ہے۔ گھر والے دوڑے دوڑے ہاسپٹل لے کر جاتے ہیں، جہاں انہیں درد دور کرنے کے لیے ڈرپ لگائی جاتی ہے۔

Published: undefined

ہم سب ایسے بے شمار لوگوں سے واقف ہوں گے، جن کی صبح بھی ادویات سے ہوتی ہے اور دن کے اختتام پر بھی انہیں مٹھی بھر گولیاں پھانکنے کے بعد ہی سکون آتا ہے۔ دواؤں کے منفی اثرات سے بے خبر ہم سب کے گھروں میں نیلی، پیلی، پتلی، موٹی ہر سائز کی گولیاں دستیاب ہوتی ہیں گویا کہ ایک منی میڈیکل اسٹور ہو۔

Published: undefined

حتیٰ کہ پرچون کی دکان پر ٹافیوں کی طرح درد کش ادویات دستیاب ہوتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اکثر لوگ ان ادویات کے نشے میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اگر ڈاکٹر مریض کو کوئی درد کش ادویات تجویز کرتے ہیں تو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ مریض کی صحت کی حالت کے مطابق دوا کی مقدار اور معیاد تجویز کی جائے۔

Published: undefined

مگر جناب ہم میں سے اکثریت کا طریقہ کار پھر یہ ہوتا ہے کہ ہم اس ڈاکٹری نسخے کو دل سے لگا کر نسل در نسل استعمال کرتے چلے جاتے ہیں اور اپنے ارد گرد موجود تمام لوگوں کو، خاندان کے تمام چھوٹے بڑے افراد کو یہی نسخہ تجویز کرتے رہتے ہیں۔

Published: undefined

ان ادویات کے مضر اثرات سے واقف ہوئے بغیر ان کا استعمال نہ صرف ہمارے جسم بلکہ ہماری دماغی صحت کو بھی شدید نقصان پہنچا تا ہے۔ بلکہ کچھ ادویات تو ایسی ہیں، جو نشے کی طرح ہمیں اپنا عادی بنا لیتی ہیں اور پھر ہم چاہتے ہوئے بھی وہ ادویات چھوڑ نہیں سکتے۔ حد تو یہ ہے کہ چھوٹے بچوں کو بھی اکثر مائیں دو چمچ کھانسی کا شربت صرف اس وجہ سے پلا دیتی ہیں کہ کھانسی کے شربت میں غنودگی کے اثرات ہوتے ہیں اور بچہ تنگ کر رہا ہے تو یہ شربت پی کر سکون سے سو جائے گا۔

Published: undefined

شاید آپ کو یہ بات جان کر حیرانی ہو کہ پاکستان میں نوے لاکھ سے زیادہ افراد کسی نہ کسی نشے میں مبتلا ہیں اور ان میں سے تقریبا سات سو افراد روزانہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ جاننا مشکل ہے کہ 90 لاکھ میں سے کتنے افراد ادویات کے غلط استعمال میں مبتلا ہیں۔ لیکن آپ اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو آپ کو اپنے خاندان میں ہی بے شمار مثالیں مل جائیں گی کہ جو لوگ مختلف ادویات ٹافیوں کی طرح استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔

Published: undefined

یورپین جنرل آف نیچرل اینڈ سوشل سائنسز کے آرٹیکل کے مطابق پاکستان میں اکیاون فیصد (%51) افراد کو ان کے دوست احباب نے ان کو ادویات کے نشے پر لگایا۔ جبکہ 15 فیصد کا کہنا تھا کہ ان کے گھر میں پہلے سے کوئی نہ کوئی فرد ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا کا استعمال کر رہا تھا، جس کی دیکھا دیکھی انہوں نے بھی ان ادویات کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اس آرٹیکل کے مطابق 56 فیصد افراد نے یہ تسلیم کیا کہ ان ادویات کی عادت نے ان کی گھریلو زندگی برباد کر دی ہے۔

Published: undefined

اس حوالے سے TEDx پر ٹریوس رائیڈر نامی شخص کا ایک لیکچر نظر سے گزرا، جن کی ایک ایکسیڈنٹ میں ٹانگ ٹوٹ گئی تھی اور ڈاکٹر نے ان کو کچھ ایسی ادویات تجویز کیں، جن میں افیون کی بھی کچھ مقدار شامل تھی۔

Published: undefined

لہذا وہ ان ادویات کے عادی ہو گئے۔ ٹریوس کے بقول جب انہیں ان ادویات کو ترک کرنے کے لیے کہا گیا تو انہیں شدید جسمانی اور ذہنی تکلیف برداشت کرنا پڑی۔ یہاں تک کہ انہوں نے خودکشی کرنے کے بارے میں بھی سوچا۔ نا بھوک لگتی تھی اور نا نیند آتی تھی۔ اپنے جذبات پر سے کنٹرول بالکل ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ بالکل ویسے ہی جیسے ماریہ کی والدہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔

Published: undefined

کچھ لوگ یہاں پر یہ نکتہ اٹھائیں گے کہ ہر کوئی تو اس طرح سے ادویات کا عادی نہیں ہو جاتا۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے لیکن ہر شخص کی قوت برداشت اور ذہنی صحت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ہمیں زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ بسا اوقات لوگ زندگی کے ان چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر پاتے اور ادویات کا سہارا لیتے ہیں۔

Published: undefined

اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا کی مقدار اور اوقات کار کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ لہذا ان کے جسم میں نشہ آور کیمیکل کی برداشت بڑھ جاتی ہے اور وہ بتدریج اس دوا کی خوراک اور مقدار بڑھانا شروع کر دیتے ہیں اور پھر جب وہ اس دوا کے عادی ہو جاتے ہیں تو پھر ان کا یہ نشہ چھڑوانا دشوار ہوتا ہے۔

Published: undefined

ہمارے ملک میں ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر ہی تمام ادویات بآسانی دستیاب ہوتی ہیں بلکہ اب تو آن لائن سروس میں مزید سہولت حاصل ہو گئی ہے کہ آپ گھر بیٹھے با آسانی دوا منگوا سکتے ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ یہ تمام دوائیں مضراثرات کی بھی حامل ہوتی ہیں۔ اور ہر شخص کی جسمانی کیفیت، عمر اور وزن کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر کی جانب سے تجویز کی جائیں تو ان مضراثرات سے بچا جا سکتا ہے بصورت دیگر ان کا بے جا استعمال آپ کے گردوں پھیپڑوں اور معدے کے ساتھ ساتھ آپ کی ذہنی صحت کو بھی شدید نقصان پہنچا تا ہے۔ آپ کی زندگی اور صحت ایک امانت ہے جس کا خیال رکھنا آپ پر فرض ہے۔

Published: undefined

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined