سماج

ہندوستان میں قبائلیوں کے لیے ہیروں کی بجائے درخت کیوں اہم؟

بھارتی صوبے مدھیہ پردیش کے بکسواہا جنگلوں میں ہیروں کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے جسے ایک پرائیوٹ کمپنی نکالنا چاہتی ہے۔ لیکن مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ انہیں ہیرے نہیں درخت چاہیے۔

بھارت: قبائلیوں کے لیے ہیروں کی بجائے درخت اہم
بھارت: قبائلیوں کے لیے ہیروں کی بجائے درخت اہم 

اس وقت جب کہ تحفظ ماحولیات پوری دنیا کا ایک انتہائی اہم موضوع بن چکا ہے اور گلاسگو میں اقوام متحدہ ماحولیاتی کانفرنس کے دوران دنیا بھر کے سربراہان مملکت و حکومت سمیت ماہرین ماحولیات ماحول کو بچانے کے لیے اپنی اپنی رائے اور مشورے دے رہے ہیں، وسطی بھارت کے صوبے مدھیہ پردیش کے ایک جنگلاتی علاقے بکسواہا میں قبائلیوں نے ہیرے جیسی قیمتی دولت پر ماحولیات کے تحفظ کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ جنگلوں کو کاٹ کر وہاں سے ہیرے نکالے جائیں لیکن قبائلی دو لاکھ درختوں کو بچانے کی عدالتی جنگ لڑ رہے ہیں۔

Published: undefined

ہیرے کا سب سے بڑا ذخیرہ

بکسواہا جنگل مدھیہ پردیش کے چھترپور ضلع میں ہے۔ ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ یہاں بھارت کا ہیرے کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ انہوں نے تقریباً 3.42 کروڑ قیراط ہیرے کی موجودگی کا اندازہ لگایا ہے۔ بھارت میں ہیروں کا اب تک کا سب سے بڑا ذخیرہ چھتر پور کے قریب ہی پنّاضلع میں ہے لیکن بکسواہا میں پنّا سے 15 گنا زیادہ ہیرا نکلنے کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ تاہم اسے نکالنے کے لیے تقریباً 383 ہیکٹرپر پھیلے جنگلات کو کاٹنا پڑے گا۔

Published: undefined

محکمہ جنگلات کے اندازے کے مطابق اتنے بڑے علاقے پر سوادولاکھ سے زائد درخت موجود ہیں اور ہیرے کی کان کنی کے لیے ان تمام درختوں کو کاٹنا پڑے گا۔ ان درختوں میں سب سے زیادہ تعداد ساگوان کی ہے۔ اس کے علاوہ پیپل، تیندو، جامن، ارجن اور کئی دیگر ادویاتی خصوصیات کے حامل درخت بھی موجود ہیں۔

Published: undefined

مدھیہ پردیش حکومت نے ہیرے کی تلاش کے لیے سن 2000 میں آسٹریلیا کی کمپنی ریو ٹینٹو کا متعدد سروے کرایا۔ سروے کے دوران ٹیم کو کچھ مقامات پر کمبر لائٹ پتھر کی چٹانیں دکھائی دیں۔ ہیرا انہیں کمبر لائٹ کی چٹانوں میں ملتا ہے۔

Published: undefined

سن 2002 میں ریو ٹینٹو کو بکسواہا کے جنگل میں ہیرے کی تلاش کا کام باضابطہ طورپر سپرد کردیا گیا۔ کمپنی نے تحقیقات کے بعد کان کنی کی تیاریاں شروع کیں لیکن مقامی افراد اور ماہرین ماحولیات کی مخالفت کی وجہ سے ریو ٹنٹو نے سن 2016 میں اس پروجیکٹ سے خود کو الگ کرلیا۔ دو برس قبل سن 2019 میں ا س کی دوبارہ نیلامی کی گئی اور ہیروں کی کان کنی کا لائسنس بھارتی کمپنی ادیتیہ برلا گروپ کی 'ایسیل مائننگ‘ کو مل گیا۔

Published: undefined

تاریخی اور ثقافتی اہمیت کا حامل بھی

بکسواہا کے جنگلوں میں حجری دور کی راک پینٹنگز بھی پائی گئی ہیں اور کان کنی کی وجہ سے آثار قدیمہ کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل ان اثاثوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Published: undefined

ماحولیات کے تحفظ سے وابستہ کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہیرے کی کان کنی کے سبب نہ صرف سوادو لاکھ سے زیادہ درختوں کو کاٹنا پڑے گا بلکہ حجری دور کی پینٹنگز کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس کے علاوہ یہ جنگل پنّا ٹائیگر ریزرو سے ملحق ہے اور یہ ٹائیگر کوریڈور میں آتا ہے لہذا شیر اور دیگر جنگلی جانور بھی اس سے متاثر ہوں گے۔

Published: undefined

ماحولیات سے وابستہ کارکنوں نے جنگلوں کی کٹائی کے خلاف مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس کے بعد عدالت نے جنگلوں کے کاٹنے پر روک لگادی ہے۔

Published: undefined

سماجی کارکن اور صحافی آشیش ساگر کا کہنا تھا کہ لوگ ایک طویل عرصے سے جنگلوں کی کٹائی کی مخالفت کررہے ہیں لیکن حکومت ہیروں کی لالچ میں جنگل تباہ کرنے پر مصر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور کمپنی لوگوں کو گمراہ کررہی ہے اور بتارہی ہے کہ اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا جبکہ درختوں کی کٹائی سے ماحولیات کو یقینی طور پر زبردست نقصان پہنچتا ہے۔ اسی لیے پہلے نیشنل گرین ٹرائبیونل اور اب ہائی کورٹ نے اس معاملے کی سنجیدگی کو محسوس کرتے ہوئے درختوں کی کٹائی پر روک لگادی ہے۔

Published: undefined

ایک دیگر سماجی کارکن امیت بھٹناگر کہتے ہیں کہ مقامی لوگوں اور قبائلیوں کا ذریعہ معاش جنگلوں پر ہی منحصر ہے اور جنگلوں کے تباہ ہونے سے ان کی روزی روٹی کا بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined