سماج

جرمنی: 'دہشت گردی' کے شبے میں عراقی باشندہ ملک بدر

20 سالہ نوجوان پر مشرقی جرمنی میں کرسمس مارکیٹ پر "دہشت گردانہ حملے" کی منصوبہ بندی کا شبہ تھا۔ اس عراقی شخص کے جرمنی میں دوبارہ داخلے پر بھی مستقل پابندی لگا دی گئی ہے۔

جرمنی: 'دہشت گردی' کے شبے میں عراقی باشندہ ملک بدر
جرمنی: 'دہشت گردی' کے شبے میں عراقی باشندہ ملک بدر 

جرمنی کی وزارت داخلہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ایک 20 سالہ عراقی کو اس کے آبائی ملک واپس بھیج دیا گیا ہے۔ جرمن حکام کو شبہ تھا کہ وہ کرسمس مارکیٹس پر ’’دہشت گردانہ حملے‘‘ کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

Published: undefined

جرمن ریاست سیکسنی کی وزارت داخلہ نے نامعلوم شخص پر ''سنگین تشدد کی کارروائی‘‘ کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتے ہوءے اسے ملک بدر کیا اور جرمنی میں داخلے پر ہمیشہ کے لیے پابندی بھی عائد کر دی۔

Published: undefined

جرمن حکام کے مطابق مشتبہ شخص سیکسنی انہالٹ میں رہتا تھا لیکن وہ لوئر سیکسنی میں کام کرتا تھا۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ پولیس کو مشتبہ شخص کے بارے میں ایک اطلاع موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ کرسمس کے بازار میں ''شدید حملے‘‘ کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ وزارت نے کہا کہ ملک بدری کا حکم ''وفاقی جمہوریہ جرمنی کی سلامتی کو لاحق کسی خاص خطرے یا دہشت گردی کے خطرے کی روک تھام‘‘ کے پیش نظر دیا گیا ہے۔

Published: undefined

تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا اس حوالے سے کوئی شواہد ملے ہیں کہ اس شخص کی جانب سے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ غزہ میں جاری تنازعے کے پس منظر میں سامیت دشمن عناصر اور اسلامو فوبیا میں عالمی سطح پر اضافے کے تناظر میں جرمن حکام حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کے حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کی وجہ سے چوکنا ہیں۔

Published: undefined

جرمنی کے وفاقی دفتر برائے تحفظ آئین (بی ایف وی) نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ جرمن سر زمین پر مسلم انتہا پسندوں کی جانب سے دہشت گردی کے خطرات نمایاں ہیں۔ ایجنسی نے کہا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے دہشت گرادنہ حملے کے بعد مغرب مجموعی طور پر دہشت گردی کے خطرے سے دوچار ہے۔ جرمنی میں عرب نژاد تارکین وطن اکثر ایسے حملوں کے مرکزی مشتبہ افرادہوتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined