سماجی

پرسنل لاء بورڈ کس کو بے وقوف بنا رہا ہے!

پرسنل لاء بورڈ کس کو بے وقوف بنا رہا ہے!

Getty Images
Getty Images 

اللہ رے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دیدہ دلیری! بورڈ مقدمہ ہار گیا، پھر بھی طلاق ثلاثہ کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو بورڈ اپنی ’جیت‘ بتا رہا ہے۔ اور جب بورڈ کے عہدیداران سے یہ سوال کیا گیا کہ آخر جیت کس بات کی تو بڑے فخر سے یہ فرمایا کہ ’’ہم نے ملک میں یونیفارم سول کوڈ لاگو ہونے سے بچا لیا۔‘‘ ارے جناب، کس کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ کیونکہ سپریم کورٹ کے سامنے یونیفارم سول کوڈ کا معاملہ زیر بحث تھا ہی نہیں۔ مودی حکومت یہ بات بخوبی سمجھ رہی تھی کہ اگر اس وقت سول کوڈ کا مسئلہ اٹھایا تو اس میں سپریم کورٹ ساتھ نہیں دے گا۔ لہٰذا حکومت کی جانب سے سرکاری وکلا نے سپریم کورٹ پر یہ دباؤ بنایا کہ وہ اس مسئلہ پر اپنا فیصلہ سنائے کہ آیا تین طلاق ایک دفعہ میں آئینی رو سے جائز ہے کہ نہیں۔ اور اگر جائز ہے تو پھر کیا یہ جنڈر جسٹس یعنی حقوق نسواں کے مترادف ہے کہ نہیں۔

جیسے ہی مسئلہ یونیفارم سول کوڈ سے بدل کر تین طلاق اور جنڈر جسٹس کا ہو گیا، بس اسی وقت یہ طے ہو گیا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ مقدمہ ہار جائے گا۔ کیونکہ آئین کی رو سے ہندوستانی شہری خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہر کسی کو برابر کی آزادی اور حقوق حاصل ہیں۔ اس لیے آئین کی رو سے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ مرد کو تو یہ حق حاصل ہو کہ وہ بغیر وجہ بتائے اپنی زوجہ سے تین بار لگاتار طلاق طلاق طلاق کہہ دے اور یہ طلاق قانونی مان لیا جائے۔ کیونکہ یہ انصاف کی رو سے صریحاً بے انصافی ہے کہ طلاق جیسے معاملے میں عورت کو کچھ کہنے کا اختیار ہی نہیں دیا جائے۔ کسی بھی ماڈرن اور جمہوری سوسائٹی میں یہ بات حقوق نسواں کے اعتبار سے قطعاً تسلیم نہیں کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ وہی ہوا، آخر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ تین طلاق ایک بیٹھک میں ’غیر آئینی‘ ہے۔ اور اس نے اس سلسلے میں حکومت پر یہ ذمہ داری بھی ڈال دی کہ وہ اس سلسلے میں چھ مہینے کی مدت کے اندر ایک جامع قانون بنائے جس کے تحت حقوق نسواں کا تحفظ ہو سکے اور طلاق ثلاثہ جیسی رسم ختم ہو۔

اب بورڈ یہ فرما رہا ہے کہ جسٹس کیہر اور جسٹس نذیر نے اپنے مخلوط فیصلے میں یہ کہا ہے کہ دفعہ 25 کے تحت ہرمذہب کا پرسنل لاء قانونی طور پر بنیادی مذہبی آزادی کا حصہ ہے جس میں کسی بھی حکومت کو چھیڑ چھاڑ کا حق نہیں ہے۔ بجا، ان دونوں فاضل ججوں نے یہ بات اپنے فیصلے میں کہی لیکن کیا اس سے حنفی مسلمانوں کا حق طلاق ثلاثہ بچ گیا! سانپ مر گیا، اب لاٹھی پیٹنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ طلاق ثلاثہ کا حق چھن گیا اور وہ لڑائی جو مسلم پرسنل لاء بورڈ نے شاہ بانو کیس کے سپریم کورٹ فیصلے کے بعد سنہ 1986 میں اپنے سر اٹھائی تھی، بورڈ اس لڑائی میں پوری طرح اب ناکام ہو چکا ہے۔ اب ہاری جنگ کے بعد ٹی وی پر بیٹھ کر خود اپنی پیٹھ ٹھونک کر یہ کہنےسے تو بات بنتی نہیں کہ ہماری تو ’جیت‘ ہو گئی۔ محض اپنے منھ میاں مٹھو بننے والی بات ہے۔ اب یہ طے ہے کہ طلاق ثلاثہ مسلمانوں کو ملنے والا نہیں ہے۔

دراصل مسلم پرسنل لاء بورڈ قانونی لڑائی اس وقت ہی ہار گیا تھا جب سنہ 1986 میں شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ مسلم عورت کو طلاق کے بعد نان و نفقہ کا حق حاصل ہے۔ وہ تو راجیو گاندھی کا احسان تھا کہ انھوں نے کانگریس پارٹی کو دبا کر اس وقت پارلیمنٹ سے خصوصی ترمیمی مسلم خواتین بل پاس کروا کر آئین کی روح کے خلاف طلاق شدہ مسلم عورت سے نان و نفقہ کا حق پھر چھین لیا تھا۔ بس سنہ 1986 میں اسی وقت سے سنگھ پریوار نے موضوع بحث حق نان و نفقہ سے بدل کر طلاق ثلاثہ میں تبدیل کر دی تھی۔ پھر سنہ 1986 سے لے کر آج تک بورڈ اور سنگھ میں طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر ایک خاموش جنگ چھڑی رہی جو آخر میں مودی حکومت کے دوران سپریم کورٹ میں حالیہ کیس کے تحت عروج پر پہنچ گئی۔ اور آخر اس لڑائی میں بورڈ ہارا اور ایک طرح سے سنگھ کی جیت ہوئی۔ چنانچہ سنگھ کے پرچارک اور مسلم منچ کے سربراہ اندریش کمار نے اس فیصلے کو ’ایک تاریخی فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے یہ بیان دیا کہ ’’ایک راشٹر اور ایک قانون (یونیفارم سول کوڈ) کی جانب یہ ایک مثبت قدم ہے۔‘‘ اس کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پاس کوئی جواز نہیں بچتا کہ وہ بے وجہ یہ بیان دے کہ اس کی ’فتح‘ ہو گئی۔

ارے پرسنل لاء بورڈ اپنے حلفیہ بیان میں کورٹ سے یہ کہہ رہا ہے کہ ’تین طلاق، طلاق بدعت ہے‘۔ یہ بھی اعتراف کر رہا ہے کہ قرآن اس کی اجازت نہیں دیتا۔ جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا رسول کریم کی زندگی میں اس طرح کا طرز طلاق جائز تھا، تو یہ جواب ملا کہ دو واقعے ایسے ملتے ہیں کہ جب ان کو طلاق ثلاثہ سے آگاہ کیا گیا تو رسول اللہ سخت ناراض ہوئے، لیکن پھر خاموش ہو گئے۔ یعنی نہ تو انھوں نے اس کو غلط کہا اور نہ صحیح کہا۔

کیا کوئی ایک پوری قوم محض اپنے رسول کی زندگی کے دو ایسے واقعات کی بنا پر جس میں ان کا رسول نہ تو اس کی تائید کرے اور نہ ہی تردید کرے، اپنی عورت پر ایک ایسی رسم تھوپ سکتی ہے جس کے سبب ان کی زندگی منٹوں میں جہنم بن جائے! علماء کرام اس سلسلے میں کچھ کہیں، میں یہ بات تسلیم نہیں کر سکتا کہ اسلام مسلم عورتوں کی زندگی جہنم بنانے کے حق میں ہو سکتا ہے۔ ارے وہ مذہب جس نے حقوق نسواں کا تصور دنیا کو دیا ہو وہ مذہب مرد کو یہ اختیار دے ہی نہیں سکتا ہے کہ جس سے منٹوں میں عورت کی ازدواجی زندگی جہنم بن جائے۔ یہ محض ایک زمیندارانہ رسم ہے کہ جس کے تحت مرد کو عورت پر مکمل اختیار تھا اور وہ اختیار یہاں تک تھا کہ وہ جب چاہے عورت سے نکاح کرے اور جب چاہے بغیر کوئی وجہ بتائے اس کو طلاق دے دے۔ اس رسم کا قرآن اور رسولؐ کی زندگی سے کوئی واضح رشتہ نہیں ہے۔ تب ہی تو مسلم پرسنل لاء بورڈ یہ تسلیم کرتا ہے کہ طلاق ثلاثہ بدعت ہے۔

جب آپ اس کو بدعت مان رہے ہیں تو پھر آخر اس کی دفاع میں برسوں سے لڑائی کیوں لڑ رہے ہیں۔ اور تو اور آپ نے مسلمانوں سے اور کورٹ سے یہ کہا کہ یہ گناہ کے مترادف ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیے بورڈ ایک ماڈل نکاح نامہ لائے گا جس میں یہ شرط ہوگی کہ زوجہ کی مرضی کے بغیر شوہر کو طلاق کا اختیار نہیں ہوگا۔ بورڈ نے سپریم کورٹ سے حلفیہ یہ بھی کہا کہ وہ اس رسم کے خلاف ایک جامع کمپین چلائے گا۔ جب مسلم پرسنل لاء بورڈ کا رویہ خود اس معاملے میں اس قدر دفاعی تھا تو پھر بھلا سپریم کورٹ بورڈ کی گہار کیا سنتا۔ چنانچہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو اس معاملے میں منھ کی کھانی پڑی اور حنفی مسلمانوں سے حق طلاق ثلاثہ قانونی طور پر چھن گیا۔

میری ذاتی رائے میں طلاق ثلاثہ ایک لعنت تھی جو ختم ہوئی۔ لیکن مسلم پرسنل لاء بورڈ نے علماء اور کچھ مسلم دانشوران کی سرپرستی میں طلاق ثلاثہ کو پچھلی دو دہائی سے زیادہ مدت کے دوران پوری مسلم قوم کی ناک کا معاملہ بنا دیا تھا۔ یہ غیر دانشمندانہ رویہ تھا۔ آخر سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ پر روک لگا دی اور اس کے سبب خفت پوری مسلم قوم کو اٹھانی پڑی جس کی ذمہ داری صریحاً مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہے۔

لب ولباب یہ کہ اس طرح مسلم قوم ایک اور جنگ ہار گئی۔ یاد رکھیے علماء کرام کی قیادت اب بے سود ہو چکی ہے۔ اس لیے ان کی قیادت یا قدامت پسند لیڈرشپ میں دنیا بھر میں کہیں بھی مسلمان کسی بھی جدوجہد میں نہ تو کامیاب ہوا ہے اور نہ ہی کبھی کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس لیے اب وقت آ چکا ہے کہ مسلمان ایسی قیادت تلاش کرے جو ماضی میں جینے کے بجائے حال اور مستقبل کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے مسلم مسائل کا حل تلاش کرنےکی اہل ہو۔ اگر ابھی بھی ایسا نہیں ہوتا تو وہ دن بھی دور نہیں جب یونیفارم سول کوڈ بھی نافذ ہو جائے۔

Published: 24 Aug 2017, 6:14 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 24 Aug 2017, 6:14 PM IST