سماجی

تو پھر حالات کے لیے ذمہ دار کون؟

تو پھر حالات کے لیے ذمہ دار کون؟

Getty Image
Getty Image 

ہندستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ بد عنوانی یا فرقہ پرستی اور اس پر مبنی تشدد و فساد کے واقعات؟

ان دونوں کے حوالے سے بات اور ترجیح پر بحث اس لیے بھی ضروری ہے کہ دونوں سے ملک کا نقصان بہت زیادہ ہورہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ نتائج و اثرات کے لحاظ سے دونوں میں کسے ترجیح دی جائے؟ جو لوگ ملک کی بہتر شبیہ کے ساتھ اس کی ترقی، امن و قانون کی بالاتری اور سیکولرزم اور جمہوریت کا تحفظ و بقا چاہتے ہیں، وہ یقینی طور سے فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد اور اسے دور کرنے کی کوشش کو ترجیح دیں گے، وہ فرقہ پرستی سے مکت بھارت چاہیں گے۔ اصل مسئلہ’’ کانگریس مکت بھارت ‘‘نہیں ہے بلکہ فرقہ پرستی مکت بھارت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرقہ پرستوں نے ملک کے باشندوں کے ذہن و عمل کو اس کی ترقی کے بجائے کچھ کمیونٹیز کے خلاف نفرت پھیلانے پر لگا دیا ہے گذشتہ کچھ دنوں سے ملک میں بڑے فرقہ وارانہ فسادات تو نہیں کرائے جارہے ہیں یا نہیں ہوئے ہیں، لیکن مئی 2014کے بعد سے جو ماحول بنایا گیا ہے اس سے دہشت ، بے چینی، مایوسی اور جان و مال کے متعلق عدم تحفظ کا احساس فرقہ وارانہ فسادات سے کم پیدا نہیں ہوا ہے، بی جے پی کی پہچان ایک فرقہ پرست پارٹی کے طور پرہمیشہ سے رہی ہے اس کے کئی لیڈروں نے گرچہ یہ کوشش کی کہ پارٹی کی یہ شبیہ بدلے تاہم اس کے بہت سے لیڈروں نے اپنے قول و فعل سے ہمیشہ ہی یہ ظاہر و ثابت کرنے کا کام کیا ہے کہ اس کا وجود فرقہ پرستی کے بغیر بے معنی ہے انھوں نے آئین کے تحت تمام ہندستان کے شہریوں کو حاصل برابر ی کے حقوق و اختیارات کو بے معنی اور ختم کرنے کی کوشش کی ہے کسی بھی ملک کی اکثریت بذات خود ایک طاقت ہوتی ہے لیکن ہندوستان کی اقلیت میں مختلف قسم کے خوف پیدا کرکے جس طرح کی سیاست کی جارہی ہے اس نے بہت سی چیزوں کو بدل کر اور پٹری سے اتار کر رکھ دیا ہے۔اگر سنگھ اور بی جے پی کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس کا کسی نہ کسی نہج و جہت سے رشتہ ہٹلر اور اس زمانے کے جرمنی فاشزم سے مل جاتا ہے۔وہ لیڈر جو خاص طور سے سنگھ سے بھارتیہ جنتا پارٹی میں درآمد کیے گئے ہیں یا آئے ہیں ان کے ذہن ودل پر کسی نہ کسی شکل میں جرمنی فاشزم کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور نظر آئے گا۔ جب ’کانگریس مکت‘ بھارت کا نعرہ دیا گیا تھا اس وقت اور اب بھی اس کے دور رس اثرات و نتائج اور معنی و مطلب پر توجہ نہیں ہے، کسی بھی انتخابی نظام والے جمہوری ملک میں بر سر اقتدار پارٹی کے ساتھ اپوزیشن پارٹیوں یا کم از کم ایک مضبوط اپوزیشن پارٹی کا وجود ضروری ہے اس کے بغیر بر سر اقتدار پارٹی کی غلط من مانی اور غلط پالیسیوں پر مبنی کاموں پر روک اور ان میں اصلاح و ترمیم کا عمل جاری نہیں رہ سکتا ہے، ہٹلر نے جرمنی میں یہی تو کام کیا تھا کہ تمام تر اپوزیشن پارٹیوں اور اپنے سے اختلاف رکھنے والوں کو ختم اور پارلیمنٹ کو منہدم کردیا تھا۔ایسا لگتا ہے کہ جرمنی کی طرز پرہندوستان کو لے جانے کی ایک منصوبہ بند کوشش کی جارہی ہے۔ صاف طور سے غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے حالات نظرآرہے ہیں لیکن اقتدار اور اس کی قربت ،نشہ و لذت میں غرق ہونے کے سبب نتیش اور پاسوان جیسے لوگوں کو کچھ نظر نہیں آرہا ہے؟ ان کے نزدیک اصول پسندی، نظریاتی بنیاد اور فرقہ پرستی کےکوئی زیادہ معنی نہیں رہ گئے ہیں۔ ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ کا نعرہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اس میں پوری طرح فا شزم کا ذہن کام کرتا نظر آرہا ہے۔ جمہوری نظام میںکسی پارٹی کا برسر اقتدار آنا اور کسی پارٹی کا اس سے بے دخل ہوجانا کوئی انہونی بات نہیں ہے یہ تو انتخابی نظام میں جاری جمہوری عمل کاایک حصہ ہے کسی پارٹی کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش بھی ایک جانا بوجھا جاری عمل ہے اس پر حیرت و تعجب کا کوئی مطلب نہیں ہے لیکن اپنے سے اختلاف رکھنے والی پارٹیوں کو ختم کردینے یا ان سے’ مکت ‘ملک بنانے کی بات کے مضمرات خاصے خطرناک ہیں، ایسا نہیں ہے کہ کانگریس یا دیگر اپوزیشن پارٹیوں میں کمیاں نہیں ہیں ان کی ملک و قوم کے مفاد کے خلاف سمجھی جانے والی پالیسیوں اور کاموں پر عوام کو متوجہ کرکے ان کو اپنے ساتھ لانے کی، انتخابی عمل میں شامل پارٹی کو آزادی ہےلیکن راشٹرواد یا کسی اور نظریہ سیاست کے نام پر ملک میں خانۂ جنگی اور فرقوں کے درمیان نفرت اور قتل و غارت گری اور قانون سے پرے جاکر بھیڑ کو فیصلے کرنے کی اجازت کسی مہذب اور لا اینڈ آرڈر والے ملک میں کیسے دی جاسکتی ہے؟ یہ ہم مان سکتے ہیں کہ گائے تحفظ یا وندے ماترم زبردستی کہلوانے کے لیے سنگھ، بی جےپی وغیرہ نے باقاعدہ کوئی ہدایت نہیں دی ہوگی لیکن یہ تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ ماحول سنگھ ،بی جے پی اور دیگر ہندوتواوادی پارٹیوں، تنظیموں کا ہی پیدا کردہ ہے جس طرح قانونی طور پر یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ گاندھی جی کے قتل میں آر ایس ایس ملوث ہے۔ لیکن یہ تو طے ہے کہ جس ماحول میں گاندھی جی کا درد ناک وحشیانہ قتل ہوا تھا وہ سنگھ اور (ہندو مہا سبھا وغیرہ) دیگر ہندوتواودیوں کا ہی پیدا کردہ تھا، جیسا کہ وقت کے وزیر داخلہ سردار پٹیل نے سنگھ کی کلیدی قیادت کو لکھے کئی خطوط میں ہے۔ اب بھی نہیں لگتا ہے کہ بی جے پی کی اقتدار والی ریاستی سرکاروں کی طرف سے قتل و تشدد کے ماحول کو ختم کرنے کی ایماندارانہ اور سنجیدہ کوشش کی جارہی ہے۔ یہ بات نا قابل فہم ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تنقید اور ہدایت کو سنجیدگی سے کیوں قابل توجہ نہیں سمجھا جارہا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ برہمن وادی لابی نریندر مودی کی تعریف و تحسین کے ساتھ ان کی شبیہ کو خراب اور نا کام بنانے کی مہم پر ہو۔ ملک میں ذات پات کے نظام کو دیکھتے ہوئے یہ ممکن بھی نہیں ہے، گائے رکشکوں کے متعلق وزیر اعظم کے بیان پروشو ہندو پریشد، ہندو مہا سبھا اور دیگر ہندوتواوادی عناصر کی طرف سے جس رد عمل کا اظہار کیا جاتا رہا ہےاس سے مذکورہ خفیہ بے نام مہم کو تقویت بھی ملتی ہے ایسی حالت میں وزیر اعظم کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ تو اچھی بات ہے کہ گائے رکشا کے نام پر قتل و تشدد سے متعلق ان کے موقف و بیان کی تائید آر ایس ایس نے بھی جموں اجلاس میں کی ہےلیکن اتنا کافی نہیں ہے جب تک فرقہ وارانہ بنیاد پر بنے ماحول کو ختم کرنے کی کوشش ملک گیر سطح پر ہوتی ہوئی نظر نہیں آئے گی تب تک شکوک وشبہات اور دوہری ذہنیت اور متضاد فکر و عمل رکھنے کے الزامات کا ازالہ بھی نہیں ہوسکتا ہے مذہب اور گائے رکشا کے نام متواتر حملے اور قانون سے پرے جاکر بھیڑ کی طرف سے قتل و غارت گری کو معمولی واقعات و حادثات قرار دے کر حالات میں بہتری کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں منھ ڈال لینے سے طوفان ختم نہیں ہوجاتا ہے۔ مسلم، دلت وغیرہ پر مسلسل حملے اور نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے خلاف ملک کی افواج کے ریٹائرڈ فوجیوں نے جس طرح تحریری طور پر تشویش کا اظہار کیا ہے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ادیبوں اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے ایوارڈ واپسی کو ،ملک کے خلاف مہم سے جوڑ کر نا قابل توجہ بنانے کی کوشش ملک کے حق میں بہترنہیں ملک کے امن پسند اور اس سے محبت کرنے والے موقر شہریوں کے جذبات، سیاسی لوگوں کے ضمیر کی آواز پر فیصلے اور اقدامات سے کہیں بڑھ کر ہیں اس مہم کا کوئی معنی و مطلب نہیں ہوتا ہے جس سے خود کو وابستہ نہ کیا جاسکے اور نا ہی اس کی تائید کی جاسکے۔ کچھ سر پھرے اور توگڑیا جیسے دماغی کوڑھی، نیلی (آسام) بھاگلپور وغیرہ کے فسادات اور ان میں بے قصور افراد کے مارے جانے پر فخر ومسرت کا اظہار کرسکتے ہیں اور گائے رکشا کے نام پر تشددکو کسی نہ کسی لحاظ سے جائز ٹھہرانے کی کوشش کرسکتے ہیں، لیکن کوئی ذمہ دار شہری یا تنظیم یا پارٹی، حتی کہ سنگھ، بی جےپی کے لوگ بھی کھل کر پورے ملک خصوصاً بی جے پی کی اقتدار والی ریاستوں میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی تائید و حمایت نہیں کرسکتے ہیں، سنگھ کے سر براہ تک کو کہنا پڑتا ہے کہ گائے تحفظ کے نام پر تشدد ہمارے کاز اور مقصد کے خلاف ہے ایسی صورت میں اپنے مقاصدونظریات کی تبلیغ یا ان سے ملک کے عوام کو جوڑنے کی کوششوں کے لیے جمہوری مہذب طریقے اپنانے کے سوا کوئی اور متبادل نہیں رہ جاتا ہے۔ اسی طرح سیکولر اور جمہوری کہی اورسمجھی جانے والی پارٹیوں ، تنظیموں کے سامنے یہ سوال ہونا چاہیے کہ یہ صورت حال پیدا کیسے ہوئی؟ پارلیمانی تاریخ میں شاید اتنا کمزور اور بے اثر اپوزیشن کبھی بھی نہیں رہا ، کنبہ پرستی اور بد عنوانیوں کے الزامات کا تعلق گرچہ براہِ راست فرقہ پرستی سے نہیں ہےتاہم ان کے سبب فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی کمزور ہوجاتی ہے اور فرقہ پرست ان کے سہارے عوام میں بد اعتمادی غصہ اور بدگمانی پیدا کرکے اپنی فرقہ پرستانہ سر گرمیوں پر پردہ ڈالنے میں عموماً کامیاب ہوجاتے ہیں اس لیے جب تک سیکولر کہی اورسمجھی جانے والی پارٹیاں بھی عوام کو متاثر کرنے والی کمزوریوں کو دور نہیں کریں گی تب تک فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد مطلوبہ سطح پر کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔

Published: 16 Aug 2017, 1:44 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 16 Aug 2017, 1:44 PM IST