
تصویر سوشل میڈیا
امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنی 22 سال پرانی سوئفٹ خلائی دوربین کو زمین کے ماحول میں داخل ہو کر تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک خصوصی خلائی مشن شروع کیا ہے۔ اس مشن کا مقصد دوربین کو موجودہ نچلے مدار سے زیادہ بلند مدار میں پہنچانا ہے تاکہ وہ مزید کئی برس تک سائنسی تحقیق کا حصہ بنی رہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو خلائی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی پرانی خلائی دوربین کو زیادہ بلند مدار میں منتقل کر کے اس کی عملی مدت میں اضافہ کیا جائے گا۔
Published: undefined
ناسا کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ سوئفٹ خلائی دوربین کا مدار مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر اس کی بلندی میں اضافہ نہ کیا گیا تو امکان ہے کہ رواں سال کے آخر تک یہ زمین کے ماحول میں داخل ہو کر جل جائے گی۔ اسی خطرے کے پیش نظر ادارے نے اس خصوصی مشن کا آغاز کیا ہے تاکہ دوربین کو محفوظ رکھتے ہوئے اس کی خدمات مزید جاری رکھی جا سکیں۔
اس مشن کے لیے ناسا نے امریکی خلائی کمپنی کیٹالسٹ اسپیس کا انتخاب کیا ہے۔ کمپنی کا ایک چھوٹا خلائی جہاز سوئفٹ خلائی دوربین تک پہنچے گا، جہاں وہ اپنے روبوٹک بازوؤں کی مدد سے دوربین کو پکڑ کر آہستہ آہستہ زیادہ بلند مدار میں پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ اس خلائی جہاز کو نارتھروپ گرومن کے تعاون سے مارشل جزائر سے فضا میں روانہ کیا گیا ہے اور اسے دوربین تک پہنچنے میں تقریباً ایک ماہ لگنے کی توقع ہے۔
Published: undefined
ناسا نے اس منصوبے کے لیے تقریباً 3 کروڑ امریکی ڈالر مختص کیے ہیں، جو ہندوستانی کرنسی میں تقریباً 30 ارب روپے کے برابر بنتے ہیں۔ اگر مشن کامیاب رہا تو سوئفٹ خلائی دوربین کم از کم مزید 5 برس تک فعال رہ کر خلائی تحقیق کے لیے اہم معلومات فراہم کرتی رہے گی۔
سوئفٹ خلائی دوربین کو 2004 میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اگرچہ اس کا ابتدائی مشن صرف دو برس کے لیے مقرر کیا گیا تھا، لیکن یہ گزشتہ 2 دہائیوں سے مسلسل کام کر رہی ہے۔ اس دوربین نے کائنات میں رونما ہونے والے متعدد اہم خلائی واقعات کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کی ہیں اور آج بھی پوری طرح فعال ہے۔
Published: undefined
یہ دوربین خاص طور پر گاما شعاعی دھماکوں سمیت کائنات میں ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکوں، پھٹتے ہوئے ستاروں اور دیگر غیر معمولی خلائی واقعات کا مشاہدہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ناسا کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سوئفٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی نئے خلائی واقعے کی اطلاع ملتے ہی چند منٹوں میں اپنا رخ تبدیل کر سکتی ہے، جبکہ کئی بڑی خلائی دوربینوں کو ایسا کرنے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔
ناسا کو امید ہے کہ اگر تمام مراحل منصوبے کے مطابق مکمل ہوئے تو سوئفٹ خلائی دوربین ستمبر تک دوبارہ معمول کے مطابق سائنسی مشاہدات شروع کر دے گی اور آنے والے برسوں میں بھی کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined