
آئی اے این ایس
امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلا میں باغبانی کے اپنے اہم تجربات کی نئی تصاویر جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پودوں کی کاشت صرف زمین تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب خلائی ماحول میں بھی سبزیاں اور پودے اگانے کی کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد مستقبل کے طویل خلائی سفر، خاص طور پر چاند اور مریخ کے ممکنہ مشنوں کے لیے بہتر تیاری کرنا ہے۔
Published: undefined
ناسا کی جانب سے جاری تصاویر میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلانورد تھامس مارش برن کو خلائی اسٹیشن کے جدید پودا افزائش نظام میں اگنے والی مرچوں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تجربہ ایسے سائنسی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت خلائی ماحول میں خوراک پیدا کرنے کے امکانات کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔
ایک اور تصویر میں خلائی اسٹیشن کے اندر سرخ اور گلابی روشنی میں اگنے والی مرچیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ پودوں کی نشوونما کے لیے خاص روشنی کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے پورا حصہ سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔
Published: undefined
ناسا نے خلائی اسٹیشن میں ’ویجی‘ نامی ایک چھوٹا خلائی باغ بھی تیار کیا ہے۔ یہ ایک مختصر مگر جدید نظام ہے، جس میں ایک وقت میں چھ پودے اگائے جا سکتے ہیں۔ خلا میں پودے اگانا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ خرد کشش ثقل کے ماحول میں پانی عام طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پانی چھوٹے بلبلوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے خصوصی مٹی نما نظام استعمال کیا جاتا ہے، جہاں پانی، ہوا اور غذائی اجزا کا متوازن انتظام موجود ہوتا ہے۔
اس خلائی باغ میں اب تک سلاد کے مختلف پتے، چینی بند گوبھی، سرسوں، سرخ پتوں والی سبزیاں اور پھول بھی کامیابی سے اگائے جا چکے ہیں۔ کچھ سبزیوں کو خلاباز کھا چکے ہیں، جبکہ کچھ نمونے زمین پر تحقیق کے لیے بھیجے گئے۔
Published: undefined
ماہرین کے مطابق خلا میں پودے صرف خوراک کا ذریعہ نہیں، بلکہ خلابازوں کی ذہنی صحت کے لیے بھی اہم ہیں۔ تازہ خوراک، ہریالی اور فطرت سے وابستگی کا احساس طویل خلائی مشنوں کے دوران ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ناسا ایک جدید پودا افزائش نظام پر بھی کام کر رہا ہے، جس میں سیکڑوں حساس آلات لگائے گئے ہیں۔ یہ نظام زمین پر موجود سائنس دانوں کو مسلسل معلومات فراہم کرتا رہتا ہے۔ مستقبل میں مرچ کے علاوہ ٹماٹر، بیری اور دیگر فصلوں کی خلائی کاشت بھی ناسا کے منصوبوں میں شامل ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا