
علامتی تصویر / اے آئی
امریکی محکمہ دفاع نے پہلی بار زمین کے مدار میں خلائی ہتھیاروں کی موجودگی کا باضابطہ اعتراف کیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ممکنہ طور پر براہ راست حملے کرنے کے بجائے الیکٹرانک جنگ اور دشمن کے مواصلاتی نظام میں خلل ڈالنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اگرچہ عالمی معاہدے خلا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر پابندی لگاتے ہیں، لیکن روایتی دفاعی آلات کے حوالے سے وہاں اب بھی گنجائش موجود ہے۔ امریکہ کے اس اعلان کے بعد چین اور روس جیسے حریف ممالک کے ساتھ ایک نئی خلائی دوڑ اور کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ خلا کو جنگی میدان قرار دینے سے دنیا بھر کی شہری اور فوجی مواصلات کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال خلا میں موجود نازک ڈھانچے کی حفاظت اور بین الاقوامی سلامتی کے حوالے سے ایک نئے اور پیچیدہ باب کا آغاز ہے۔
ہماری جدید زندگی کی بنیاد ان خاموش مشینوں پر ہے جو زمین سے سینکڑوں میل اوپر خلا میں گردش کر رہی ہیں۔ چاہے وہ جی پی ایس کے ذریعے راستہ تلاش کرنا ہو، بینکنگ ٹرانزیکشنز ہوں یا انٹرنیٹ کی تیز رفتار فراہمی—ہماری ہر سرگرمی ان سیٹلائٹس کی مرہونِ منت ہے۔ لیکن کیا ہوگا اگر یہ پرامن علاقہ ایک متحرک میدانِ جنگ میں تبدیل ہو جائے؟ 14 ستمبر کو امریکی فضائیہ کے سکریٹری ٹرائے مینیک کی جانب سے کیا گیا اعلان عالمی سلامتی کے افق پر تشویش کے بادل لے آیا ہے۔ امریکہ نے پہلی بار باقاعدہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے مدار میں "اسپیس کنٹرول ویپنز" یا خلائی تسلط کے ہتھیار تعینات کر دیے ہیں۔ یہ انکشاف خلا کی تاریخ میں ایک سنگین موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جو اس پرامن سرحد کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
سفارتی اور تزویراتی (اسٹریٹجک) دنیا میں الفاظ کا چناؤ محض اتفاق نہیں ہوتا۔ اس سے قبل امریکی حکام ہمیشہ محتاط زبان استعمال کرتے ہوئے خلا میں موجود اپنے دفاعی آلات کو "صلاحیتوں کے حامل سسٹم" قرار دیتے رہے ہیں۔ تاہم، ٹرائے مینیک نے اس بار تمام ابہام ختم کرتے ہوئے واضح طور پر "ہتھیار" کا لفظ استعمال کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ شفافیت کی جانب ایک ایسی بڑی تبدیلی ہے جس کا مقصد روس اور چین کو واضح پیغام دینا ہے۔ جبکہ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان ہتھیاروں کی تعیناتی کا مقصد کسی جارحیت کا آغاز نہیں بلکہ اپنی مشترکہ افواج (جوائنٹ فورس) کا دفاع کرنا ہے۔
سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن (ایس ڈبلیو ایف) کی ڈائریکٹر وکٹوریہ سیمسن نے اس بیان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’یہ پہلی بار ہے کہ کسی سرکاری اہلکار نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ خلا میں باقاعدہ طور پر ڈیزائن کردہ ہتھیار رکھے گئے ہیں۔ اس سے قبل انہیں ہمیشہ 'صلاحیتوں والے نظام' کہا جاتا رہا ہے۔‘‘
جب ہم 'خلائی ہتھیاروں' کا نام سنتے ہیں، تو ذہن میں سائنس فکشن فلموں کی طرح سیٹلائٹس کے درمیان تصادم یا دھماکوں کا منظر ابھرتا ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خاموش ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ہتھیار ’کائنیٹک‘ یا تصادمی (یعنی طبعی قوت سے تباہ کرنے والے) ہونے کے بجائے ’الیکٹرانک وارفیئر‘ پر مبنی جیمرز ہو سکتے ہیں۔
ڈرہم یونیورسٹی کے پروفیسر بلیڈن بوون کے مطابق، خلا میں میزائلوں کے بجائے ریڈیو جیمنگ یا سگنلز کو مفلوج کرنے والے ہتھیاروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تصادمی ہتھیاروں سے پیدا ہونے والا ملبہ (ڈیبری) خلا میں گولی کی رفتار سے گھومنے لگتا ہے، جو خود حملہ آور ملک کے اپنے سیٹلائٹس کے لیے بھی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی پوشیدہ جنگ ہے جہاں دشمن کا مواصلاتی نظام خاموشی سے مفلوج کر دیا جاتا ہے، بغیر کسی ظاہری دھماکے کے۔
خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے کے لیے 1967 میں "آؤٹر اسپیس ٹریٹی"نافذ کی گئی تھی۔ یہ معاہدہ خلا میں ایٹمی ہتھیار یا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار(ڈبلیو ایم ڈی) رکھنے پر تو پابندی لگاتا ہے، لیکن اس میں ایک بڑا قانونی سقم (لوپ ہول) موجود ہے۔ یہ معاہدہ روایتی ہتھیاروں، جیمرز یا زمین سے فضا میں مار کرنے والے اینٹی سیٹلائٹ نظاموں کے بارے میں خاموش ہے۔ یہی وہ گنجائش ہے جس نے بڑی طاقتوں کو اس قانونی خلا کا فائدہ اٹھانے اور مدار کو مسلح کرنے کا موقع دیا ہے۔
خلا کو میدانِ جنگ میں تبدیل کرنے کی اس دوڑ میں امریکہ تنہا نہیں ہے۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) اور سیکیور ورلڈ فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے دیگر ممالک بھی اپنی خلائی جارحیت اور دفاع کی صلاحیتیں تیزی سے بڑھا رہے ہیں:
• چین اور روس: دونوں ممالک کے پاس زمین سے فضا میں مار کرنے والے (ڈاریکٹ ایسنٹ) اینٹی سیٹلائٹ ہتھیار موجود ہیں۔ چین نے ایک "اسپیس ٹگ" کا مظاہرہ بھی کیا ہے جو کسی سیٹلائٹ کو پکڑ کر اس کا مدار بدل سکتا ہے (اگرچہ چین نے یہ تجربہ صرف اپنے ہی ایک پرانے سیٹلائٹ پر کیا تھا)۔
• ہندوستان بھی اینٹی سیٹلائٹ صلاحیت کا مظاہرہ کر کے اس کلب میں شامل ہو چکا ہے۔
• دیگر ممالک: فرانس، برطانیہ، اسرائیل، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک بھی الیکٹرانک وارفیئر، سگنل جیمنگ اور خلائی جاسوسی کے نظاموں پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔
خلا میں بڑھتی ہوئی یہ عسکری سرگرمیاں کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہیں۔ وکٹوریہ سیمسن کے مطابق، خلا کو مسلح کرنے کا فیصلہ خود اس کے بانیوں کے لیے الٹا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، "خلا کو مسلح کرنے کا دروازہ کھول کر امریکہ سب سے زیادہ کھوئے گا۔ اس سیارے پر موجود ہر شخص کسی نہ کسی طرح خلا پر مبنی ڈیٹا اور خدمات استعمال کرتا ہے۔ خلا تک رسائی یا اس کے استعمال میں کوئی بھی مداخلت ہر کسی کو متاثر کرے گی۔"
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جو ممالک ٹیکنالوجی میں جتنے زیادہ ایڈوانس ہیں، خلا میں کسی بھی تنازع کی صورت میں ان کا معاشی اور دفاعی ڈھانچہ اتنا ہی زیادہ کمزور اور غیر محفوظ ہو جائے گا۔
امریکی اعتراف نے اس حقیقت پر مہر ثبت کر دی ہے کہ خلا اب محض سائنسی تحقیق کی جولان گاہ نہیں بلکہ ایک 'وار فائٹنگ ڈومین' بن چکا ہے۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ خلا کی سپر پاورز، جو اس ٹیکنالوجی پر سب سے زیادہ انحصار کرتی ہیں، وہی اس عدم استحکام سے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ لہٰذا، عالمی طاقتوں کو کسی نئے جامع معاہدے کے ذریعے خلا کو تباہی سے بچانے کے لیے اکٹھا ہونا پڑے گا، یا پھر وہ زمین کے بعد اب خلا میں بھی ایک ایسی جنگ کا آغاز کر دیں گے جس میں فاتح کوئی نہیں ہوگا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔