سائنس اینڈ ٹیکنالوجی

اے آئی کے بڑھتے استعمال سے 7 میں سے 10 پیشہ وروں کو اپنی ملازمت کے کردار میں تبدیلی کی توقع: رپورٹ

رپورٹ کے مطابق اے آئی کے بڑھتے استعمال سے 71 فیصد پیشہ وروں کو آئندہ دو سے تین برسوں میں اپنی ملازمت کے کردار میں تبدیلی کی توقع ہے، مگر تربیت اور اعتماد کی کمی اب بھی بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

نئی دہلی: کام کی جگہوں پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے استعمال نے پیشہ ورانہ دنیا میں بے چینی اور توقعات دونوں کو جنم دیا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق آئندہ دو سے تین برسوں میں بڑی تعداد میں پیشہ ور افراد اپنی ملازمت کی نوعیت، ذمہ داریوں اور کام کے طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلی کی توقع کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ٹولس اور نئے ورک فلو معمول بنتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں روایتی کردار بدلنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

Published: undefined

اس مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ 71 فیصد پیشہ ور افراد کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں ان کی ذمہ داریوں میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ رپورٹ نومبر 2025 میں مختلف شعبوں سے وابستہ 1,704 پیشہ وروں کے آن لائن سروے پر مبنی ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی کو اپنانے کی رفتار تو تیز ہے، مگر اداروں کی جانب سے مناسب تربیت اور رہنمائی کی فراہمی اس رفتار کے مطابق نہیں ہو پا رہی۔

Published: undefined

سروے میں شامل 61 فیصد افراد نے کہا کہ ان کی کمپنیوں نے انہیں اے آئی کے مؤثر استعمال کے بارے میں خاطر خواہ رہنمائی فراہم نہیں کی۔ صرف 37 فیصد پیشہ وروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں مناسب تربیت دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس منظم معاونت کی کمی نے کام کی جگہوں پر اے آئی کے بارے میں ملازمین کے رویّے کو متاثر کیا ہے اور کئی مقامات پر غیر یقینی کیفیت پیدا کی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ 55 فیصد پیشہ ور افراد کے نزدیک اے آئی کو مجبوری کے تحت اپنایا جا رہا ہے، جبکہ 37 فیصد کا خیال ہے کہ ادارے حقیقی کاروباری ضرورت سے زیادہ رجحانات کے زیر اثر اے آئی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ بہت سے ادارے اپنے عملے کو مکمل طور پر تیار کیے بغیر نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا رہے ہیں۔

Published: undefined

ان خدشات کے باوجود اے آئی کا عملی استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تقریباً 67 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ وہ روزمرہ کے کاموں کو آسان یا خودکار بنانے کے لیے اے آئی ٹولس استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم تجربات یکساں نہیں رہے۔ 69 فیصد نے کہا کہ اے آئی سے ان کے کام کے عمل میں آسانی آئی، جب کہ 25 فیصد کے نزدیک اس سے پیچیدگی میں اضافہ ہوا۔

اے آئی پر اعتماد کا معاملہ بھی نمایاں رہا۔ صرف 49 فیصد پیشہ وروں نے کہا کہ وہ اے آئی سے حاصل ہونے والی معلومات پر بغیر دستی جانچ کے بھروسا کرتے ہیں۔ تقریباً 36 فیصد نے واضح کیا کہ وہ ایسی معلومات پر بالکل اعتماد نہیں کرتے، جبکہ 15 فیصد کے مطابق ان کا اعتماد کام کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ رپورٹ مجموعی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اے آئی کا مستقبل تربیت، اعتماد اور مؤثر نفاذ سے جڑا ہوا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined