
تصویر پریس ریلیز
نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس بدھ کو محمودیہ لائبریری، مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند، نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کی، جبکہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی سمیت ملک کے مختلف حصوں سے مجلس عاملہ کے ارکان نے شرکت کی۔
اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتِ حال، دستورِ ہند میں دیے گئے بنیادی حقوق، مذہبی آزادی، شریعت میں مداخلت کی مبینہ کوششوں، عبادت گاہوں، مساجد اور مدارس کو درپیش مسائل سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز میں سابقہ کارروائی کی خواندگی ناظمِ عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے کی، جس کی صدرِ اجلاس نے توثیق کی۔
مجلس عاملہ نے مختلف ریاستوں میں انتظامیہ کے اقدامات، بالخصوص شہری اور مذہبی حقوق سے متعلق پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں ماب لنچنگ، بلڈوزر کارروائیوں اور مساجد و مدارس کے انہدام سے متعلق واقعات بھی زیرِ بحث آئے۔ ارکان نے کہا کہ ایسے معاملات میں متاثرین کے حقوق اور دستورِ ہند میں دی گئی ضمانتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ان معاملات کو اعلیٰ آئینی سطح پر اٹھایا جائے گا اور صدرِ جمہوریہ ہند سے ملاقات کے لیے وقت طلب کیا جائے گا۔ جمعیۃ علماء ہند کے مطابق ملاقات کے دوران متاثرین کے احساسات، شکایات اور ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات صدرِ جمہوریہ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
مجلس عاملہ نے یہ بھی طے کیا کہ متاثرین کے حقوق کے تحفظ اور انصاف کے حصول کے لیے تمام دستیاب آئینی اور قانونی فورمز سے رجوع کیا جائے گا۔ تنظیم کے مطابق اس کا مقصد دستورِ ہند کے بنیادی اصولوں اور شہری و مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی راستے اختیار کرنا ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مجلس عاملہ کے فیصلوں کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یک طرفہ کارروائیوں اور متعدد معاملات میں انتظامیہ کے جانبدارانہ رویے کے باعث متاثرین کے لیے عدالتی ذرائع سے مؤثر قانونی چارہ جوئی کے مواقع بھی محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ اگر کسی ایک کمیونٹی کے خلاف یک طرفہ کارروائیاں ہوں اور انہیں انتظامی سطح پر سرپرستی حاصل ہو تو یہ صورتِ حال تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ کسی ایک مقام یا ریاست تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے اس نوعیت کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے اس صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ تمام دستیاب آئینی اور قانونی ذرائع سے رجوع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم متاثرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور جمہوری طریقوں سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
مولانا محمود مدنی نے ملک کے مسلمانوں اور عوام سے کہا کہ انہیں مایوس یا خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے آئینی طریقے سے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، ’’یہ ملک ہمارا ہے اور ہم اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ اپنے آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ کرنا ہمارا بنیادی حق ہے۔‘‘ ان کے مطابق دستورِ ہند نے حقوق کے حصول اور تحفظ کے لیے جو راستے اور ذرائع فراہم کیے ہیں، جمعیۃ علماء ہند ان تمام آئینی، قانونی اور جمہوری ذرائع کو اختیار کرے گی۔ اجلاس میں ان امور کے علاوہ تنظیم سے متعلق دیگر فیصلے بھی کیے گئے۔
مجلس عاملہ کے اجلاس میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی، ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی، مہتمم دارالعلوم دیوبند مفتی ابوالقاسم نعمانی، نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری، خازن مولانا قاری شوکت علی، صدر مجلسِ قائمہ مولانا رحمت اللہ میر کشمیری، نائب امیر الہند مولانا مفتی سید محمد سلمان منصورپوری، مفتی محمد عفان منصورپوری، مولانا صدیق اللہ چودھری، مولانا عبدالقوی، مفتی جاوید اقبال قاسمی، مولانا راشد اعظمی، حاجی محمد ہارون، مفتی افتخار احمد قاسمی، مفتی شمس الدین قاسمی بجلی، مولانا کلیم اللہ قاسمی، مولانا محمد عاقل گڑھی دولت، مولانا محمد ناظم قاسمی، مولانا حبیب الرحمن مئو ائمہ، مولانا محمد یحییٰ کریمی، مولانا سعید احمد حبیب پونچھ، مولانا عبدالقادر آسام، مولانا ابراہیم، مولانا عبداللہ معروفی، مفتی عبدالرزاق اور مولانا محمد عمر بنگلوری سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔