
پریس ریلیز
نئی دہلی/آسام: بالائی آسام میں تباہ کن سیلاب سے متاثرہ ہزاروں خاندانوں کی فوری امداد اور مستقل بازآبادکاری کے لیے جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء آسام نے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ یہ امدادی مہم صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت و سرپرستی اور صدر جمعیۃ علماء آسام مولانا مشتاق عنفر کی نگرانی میں جاری ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے مطابق امدادی مہم کو محض راشن اور ضروری سامان کی تقسیم تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ متاثرہ علاقوں میں گھر گھر سروے، نقصانات کی درجہ بندی، براہِ راست مالی امداد، جاں بحق افراد کے اہل خانہ کی مدد، یتیم بچوں کی تعلیمی کفالت اور مستقل بازآبادکاری کو بھی اس کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مجموعی طور پر مختص رقم میں ایک کروڑ روپے مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند جبکہ ایک کروڑ 25 لاکھ روپے عنفر فاؤنڈیشن کی جانب سے فراہم کیے جائیں گے۔ یہ رقم جمعیۃ علماء آسام کے ذریعے مرحلہ وار متاثرین کی امداد اور بازآبادکاری پر خرچ کی جائے گی۔ ابتدائی ریلیف سرگرمیوں پر تقریباً 30 لاکھ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں، جبکہ ٹین کی چادروں، فینائل اور ادویات سمیت دیگر ضروری سامان بھی متاثرہ علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
جمعیۃ علماء آسام کی ٹیموں نے شیوساگر، جورہاٹ، گولاگھاٹ اور چرائی دیو اضلاع کے متاثرہ علاقوں میں گھر گھر سروے مکمل کرلیا ہے۔ تقریباً 30 سے 35 افراد پر مشتمل سروے ٹیم مکانات، گھریلو سامان اور ذرائع معاش کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہی ہے۔ متاثرین کے ضروری دستاویزات اور بینک کھاتوں کی بھی تصدیق کی جارہی ہے، تاکہ مالی امداد براہِ راست حقیقی مستحقین تک پہنچائی جاسکے۔
سروے کی بنیاد پر تقریباً 2,400 سے 2,500 خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد دینے کا منصوبہ ہے۔ شدید نقصان والے خاندانوں کو 10 ہزار، درمیانی نقصان والے خاندانوں کو 7 ہزار اور نسبتاً کم نقصان والے مستحق خاندانوں کو 5 ہزار روپے تک دیے جائیں گے۔
سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے لیے بھی خصوصی مالی تعاون کا انتظام کیا گیا ہے۔ بعض خاندانوں کو 50 ہزار جبکہ انتہائی ضرورت مند خاندانوں کو ایک لاکھ روپے تک امداد فراہم کی گئی ہے۔
مولانا مشتاق عنفر کے مطابق سروے میں سامنے آنے والے یتیم اور بے سہارا بچوں کی تعلیم کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر دو بچوں کی دو سالہ تعلیمی کفالت کی ذمہ داری لی گئی ہے، جنہیں فی بچہ ماہانہ دو ہزار روپے دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ تقریباً پانچ لاکھ روپے مالیت کی کتابیں ایک ہزار بچوں میں تقسیم کی گئی ہیں۔
مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ قدرتی آفت مذہب اور برادری دیکھ کر نہیں آتی، اس لیے جمعیۃ علماء ہند بھی بلا تفریق مذہب و ملت متاثرین کی مدد کو اپنا انسانی فرض سمجھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمعیۃ کا مقصد صرف چند دن کا راشن فراہم کرنا نہیں بلکہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں مدد دینا ہے۔ مولانا مشتاق عنفر نے کہا کہ امداد کی تقسیم میں شفافیت اور حقیقی مستحقین تک براہِ راست تعاون پہنچانا اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق متاثرین کی مکمل بازآبادکاری تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔