
مولانا محمود مدنی
تصویر: پریس ریلیز
نئی دہلی: صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے سابق آئی اے ایس افسر نیاز خان کی جانب سے مسلمانوں کو ہجومی تشدد سے محفوظ رہنے کے لیے اپنی وضع قطع بدلنے اور روایتی لباس جیسی ظاہری علامات ترک کرنے کے مشورے کو حقائق سے چشم پوشی اور مسئلے کی غلط تشخیص قرار دیا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ کسی سابق آئی اے ایس افسر یا کسی دوسرے ذمہ دار شخص کی جانب سے مسلمانوں کو ایسا مشورہ دیا جانا نہایت افسوس ناک اور قابل تشویش امر ہے۔کیوں کہ مسئلہ مظلوم کی داڑھی، اس کے سر کی ٹوپی، کسی خاتون کے حجاب یا کسی شخص کے کرتے پاجامے میں نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ حملہ آور کے ذہن میں موجود نفرت اور اس ماحول میں ہے جس میں ہجوم خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔ اس لیے مجرم کو روکنے اور سزا دینے کے بجائے مظلوم سے اپنی شناخت مٹانے کا مطالبہ نہ انصاف ہے اور نہ کوئی مہذب جمہوری ملک اس کی اجازت دے سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔