پریس ریلیز

دہلی فسادات 2020 معاملہ میں 9 افراد باعزت بری، جمعیۃ علماء ہند کی کوششیں رنگ لائیں

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے وکلاء کی قانونی جدوجہد کی ستائش کی۔ جمعیۃ کی کوششوں سے اب تک دہلی فسادات معاملہ میں 125 افراد باعزت بری ہو چکے ہیں۔

عدالت، علامتی تصویر
عدالت، علامتی تصویر 

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی فسادات 2020 سے متعلق ایک اہم مقدمہ میں دہلی کی ایک عدالت نے 9 افراد کو باعزت بری کر دیا ہے۔ 30 مارچ کو ایڈیشنل سیشن جج جسٹس پروین سنگھ نے اپنے فیصلہ میں واضح کیا کہ استغاثہ کا مقدمہ چند کلیدی گواہوں کے بیانات پر قائم تھا، لیکن ان بیانات میں وقت، مقام اور ملزموں کی شناخت کے حوالے سے نمایاں تضادات پائے گئے جس کی بنیاد پر تمام ملزمین کو شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے۔

Published: undefined

عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ بعض گواہوں نے اینووا کرسٹا گاڑی پر حملے اور ’رائل موٹرز‘ کی دکان کو نذر آتش کیے جانے کے واقعہ کے مقام، وقت اور اپنی موجودگی کے بارے میں متضاد، بلکہ بعض مقامات پر گمراہ کن بیانات دیے۔ فاضل جج نے یہاں تک  کہا کہ بعض گواہوں نے ان معاملات میں جھوٹی شہادت دی ہے۔

Published: undefined

یہ مقدمہ سال 2020 میں دیال پور تھانہ میں درج ایک ایف آئی آر سے متعلق ہے جس میں 24 فروری 2020 کے فسادات کے دوران چاند باغ علاقہ میں پیش آنے والے متعدد واقعات شامل تھے۔ مقدمہ میں شاہ عالم، راشد سیفی، محمد شاداب، حبیب، عرفان، سہیل، سلیم عرف آشو، ارشاد اور اظہر عرف سونو نامزد تھے، جنہیں عدالت نے تمام الزامات سے بری کر دیا۔ اس مقدمہ میں ملزمین ارشاد اور حبیب کی قانونی پیروی جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر وکیل ایڈووکیٹ سلیم ملک نے کی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ کے وکلا کی ٹیم زیر نگرانی مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند دہلی فسادات سے متعلق 267 ٹرائل مقدمات میں قانونی پیروی کر رہی ہے، جن میں اب تک 125 افراد باعزت بری ہو چکے ہیں۔ ازیں قبل دہلی فسادات میں ریلیف اور بازآبادکاری کے کاموں کی نگرانی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی انجام دے رہے تھے۔ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے اس عدالتی فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وکلاء کی قانونی جدوجہد کی تعریف کی اور کہا کہ انصاف کی بالادستی کے لیے جمعیۃ علماء ہند اپنی قانونی خدمات جاری رکھے گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined