
فائل تصویر آئی اے این ایس
ابھیجیت دپکے کو بدھ کی دوپہر دہلی ہوائی اڈے پر پہنچنے پر زبردست ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنا پڑا۔ سورو داس اور آشوتوش رانکا کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجے جانے کے بعد دپکے دہلی پہنچا۔ نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق جب وہ ایئر پورٹ سے نکل رہاتھا تو ایک شخص نے اس سے چیخ کر کہا کہ تم ملک کو کیوں برباد کر رہے ہو؟ اس شخص نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ابھیجیت دپکے سی آئی اے کا ایجنٹ ہے۔ تاہم، دپکے پرسکون رہااور مسکراتے ہوئے، مثبت انگوٹھا دکھاتےہوئے آگے بڑھ گیا۔
دہلی واپس آنے پر، ابھیجیت دپکے نے اپنے ساتھیوں آشوتوش رانکا اور سورو داس کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجنے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک میں ترنگا لہرانا جرم بن گیا ہے؟ دپکے نے کہا، "آشوتوش اور سورو کو صرف اس لیے پانچ دن کے لیے جیل میں ڈالا گیا کہ انہوں نے جنتر منتر جا کر قومی پرچم لہرایا تھا۔ ایسی صورت حال آخری بار برطانوی دور حکومت میں دیکھی گئی تھی، جب عوامی مقامات پر ترنگا لہرانے والے آزادی پسندوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔"
یہ تنازعہ اس وقت بڑھ گیا جب پیر ،12 اکتوبر کو مرکزی حکومت نے جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ڈی نوٹیفائی کر دیا۔ اس کے باوجود، 13 اکتوبر کی صبح، آشوتوش رنکا اور سورو داس، کارکنوں کے ساتھ جنتر منتر پر ایک احتجاج کیا، ترنگا لہرایا اور نعرے لگائے۔ جس کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔
ان پر جنتر منتر میں بغیر اجازت داخل ہونے اور گزشتہ روز دیے گئے ضمانتی بانڈ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس کے تحت انہیں ایک سال تک امن برقرار رکھنے کی شرط پر ضمانت دی گئی تھی۔ اس دوران ابھیجیت دپکے نے لوگوں سے کناٹ پلیس کے سنٹرل پارک میں قومی پرچم کے ساتھ جمع ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہان کے ساتھی سورو داس اور آشوتوش رانکا کو صرف ترنگا لہرانے پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔انہوں نے ان لوگوں سے اپیل کی جو دہلی نہیں آسکتے وہ اپنے اپنے شہروں میں ’’ترنگا مارچ‘‘ کا اہتمام کریں۔ دپکے نے ایکس پر لکھا کہ "ہم یہ دکھائیں گے کہ ترنگا لہرانا جرم نہیں ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔