
شری رام مندر اور چمپت رائے، تصویر سوشل میڈیا
ایودھیا کے شری رام مندر میں چندہ چوری کی کہانی اب اس مقام پر ہے جہاں سوال چوروں سے زیادہ اس نظام پر اٹھتا ہے، جس کی ’نگرانی‘ میں چوری ہوئی۔ مندر میں چندہ چوری معاملہ میں 74-73 ہزار صفحات کی چارج شیٹ سامنے آئی ہے۔ پولیس نے 8 لوگوں کو ملزم بنایا ہے۔ اس میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے عطیات کی رقم نکالنے کے 105 واقعات کا مبینہ طور پر ’مصدقہ‘ ذکر ہے، موبائل چیٹس ہیں، نقدی کی برآمدگی کا واقعہ ہے اور تقریباً 80 لاکھ روپے کی برآمدگی کا دعویٰ ہے۔ 173 گواہ بھی درج ہیں۔ یعنی پولیس کی تفتیش یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے کہ عطیات/چندہ کی رقم گننے اور سنبھالنے کے عمل میں خاصی گڑبڑیاں ہوئیں۔ لیکن اس پوری کہانی کا سب سے اہم حصہ چوری کی رقم نہیں، بلکہ چارج شیٹ میں غائب نام ہیں!
چارج شیٹ میں مندر ٹرسٹ کی اہم انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے والے چمپت رائے اور انل مشرا کو ملزم نہیں بنایا گیا ہے۔ وہ استغاثہ کے گواہ ہیں، یعنی سرکاری گواہ۔ یعنی جس نظام میں یہ سب کچھ ہوا، اس کے سربراہان کو تفتیش نے جرم کے دائرے میں رکھنے کے بجائے اس جرم کی کہانی سنانے والے گواہوں کی قطار میں کھڑا کر دیا ہے۔ یہیں سے ایودھیا معاملے کا اصل سیاسی سوال شروع ہوتا ہے۔ کیا یہ تفتیش نیچے تک کہیں پہنچ کر ٹھہر گئی ہے؟ یا پھر تفتیش کا نتیجہ یہ ہے کہ ’نظام میں چوری ہوئی، لیکن نظام کے ذمہ دار لوگ اس کے لیے مجرمانہ طور پر ذمہ دار نہیں‘ تھے؟
سابق پولیس افسر اشوک ورما کہتے ہیں کہ ’دونوں باتیں ایک ساتھ ممکن بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن عوام کے ذہن سے یہ ضروری سوال کیسے ہٹا دیں گے کہ اگر مندر کے اندر 105 بار چڑھاوے کی رقم نکالی جا سکتی تھی، تو اس نظام کی نگرانی کرنے والے لوگ محض گواہ کیسے بنے رہ سکتے ہیں؟‘ یہی وہ مقام ہے جہاں نئے نظام یعنی سی ای او کی تقرری کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ٹرسٹ نے چمپت رائے اور انل مشرا کے استعفے قبول کیے، انتظامی ڈھانچے میں بڑا ردوبدل کیا اور پہلی بار سی ای او کا عہدہ بنایا۔ پھر ریٹائرڈ ایئر مارشل جتیندر مشرا کو اس عہدے پر مقرر کیا گیا۔ ان کے ذمے مندر انتظامیہ، مالی نگرانی، انسانی وسائل، عقیدت مندوں کے انتظام اور مختلف ایجنسیوں کے ساتھ تال میل جیسے کام آنے ہیں۔
ورما اسے 2 طرح سے دیکھنے کی ضرورت بتاتے ہیں: ’ایک تشریح یہ ہے کہ پرانے نظام سے پیدا ہونے والے بحران کے بعد مندر انتظامیہ کو پیشہ ورانہ اور ادارہ جاتی بنایا جا رہا ہے۔ دوسری سیاسی تشریح یہ ہوگی کہ افراد کے جانے اور عہدوں میں تبدیلی کے ذریعے بحران کو ادارہ جاتی اصلاح کی کہانی میں تبدیل کر دیا جائے۔‘ یعنی اصل سوال تھا، چڑھاوا کہاں گیا؟ جواب اپنی رفتار سے آ رہا ہے، جس کی پہلی کڑی میں یہ سنائی دیا ہے کہ ’نظام تبدیل کر دیا گیا ہے‘۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ چڑھاوا کہاں گیا؟ یہ بھی نہیں کہ جواب دہی کہاں طے ہوئی!
نظام تبدیل کرنا اور جوابدہی طے کرنا 2 الگ چیزیں ہیں… اور ایودھیا سے لے کر راجدھانی لکھنؤ اور قومی راجدھانی تک اس وقت لوگوں کو سب سے زیادہ بے چین کرنے والا سوال یہی لگ رہا ہے کہ کیا ایودھیا میں ہوئے ’انتظامی الٹ پھیر‘ کو آخرکار جوابدہی کا متبادل بنا دیا جائے گا؟ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ’چمپت رائے اور انل مشرا سرکاری گواہ کیسے بنے اور کیوں؟‘ یہ سوال اس کہانی میں سب سے زیادہ دلچسپی پیدا کرنے والا بھی ہے اور اہم سیاسی موڑ بھی۔ اس لیے کہ ’ملزم‘ جب گواہ بن جائے تو کئی بار کہانیوں کے اختتام بھی بدل جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ موڑ بہت دلچسپ ہے، حیرت انگیز بھی۔ کیونکہ آگے تفتیش کی کہانی میں وہ ملزم کے کٹہرے میں نہیں، گواہ کے مقام پر ہیں۔
مانا کہ اس کا یہ نتیجہ نہیں ہے کہ ’عدالت نے انہیں بے قصور قرار دے دیا ہے‘۔ لیکن وکیل پربھات کمار کے الفاظ میں اس کا ’مطلب اتنا ضرور ہے کہ استغاثہ کی موجودہ کہانی میں جرم کی مجرمانہ ذمہ داری محض 8 ملزمان تک محدود کر دی جاتی ہے‘۔ اور اپوزیشن یہی سوال پوچھ رہا ہے، عوام بھی۔ اگر مندر انتظامیہ کے نگرانی کے نظام میں اتنی بار چڑھاوا نکالا گیا، تو نگرانی کی ذمہ داری کس کی تھی؟ یعنی اصل بحث ’چوری ہوئی یا نہیں‘ سے آگے بڑھ کر ’جوابدہی کی حد کہاں طے ہوئی؟‘ پر آ کر رک گئی ہے۔ اور یہی ایودھیا کی سب سے بڑی ستم ظریفی ہے۔ رام مندر تحریک کی سیاست نے کئی دہائیوں تک اقتدار سے ایک اخلاقی وعدہ کیا تھا: ایودھیا میں رام للا کے ساتھ انصاف ہوگا۔ لیکن کیا واقعی ہوا؟ مندر بن گیا۔ رام للا براجمان ہو گئے (حالانکہ ان کے حلیے پر جنوبی ہند کا اثر پہلے دن سے ہی سوالوں میں ہے)۔ درشن شروع ہے۔ چڑھاوا بھی آ رہا ہے، اور یہیں وہ سوال جڑتا ہے: ’رام للا کے نام پر آنے والے چڑھاوے کے ساتھ آگے انصاف کون کرے گا؟‘
کیا اس سوال کا جواب صرف اتنا ہے کہ ’چور پکڑے گئے‘۔ کیونکہ کمار بھاویش چندر کا سوال جائز ہے کہ ’کسی نظام کی ذمہ داری محض چوری کرنے والے کی شناخت کرنی نہیں ہوتی۔ نظام کو یہ بھی بتانا پڑتا ہے کہ چوری بار بار ممکن کیسے ہوئی۔ وہ اتنی لمبی کڑی کیسے بنا پائی۔ کڑیاں جڑتی رہیں اور کسی نے دیکھنے کی زحمت بھی نہیں اٹھائی (یا آنکھیں بند رکھنا بہتر سمجھا)۔ وہ بھی تب جب اقتدار کے سربراہ مسلسل وہاں جاتے رہے اور ان کا سب سے قابل اعتماد افسر اس ٹیم کا اٹوٹ حصہ رہا، جسے عقیدت پر اعتماد برقرار رکھنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔‘
ایودھیا میں ایک بحث یہ بھی ہے کہ چمپت رائے اگرچہ باضابطہ طور پر ٹرسٹ سے باہر ہو گئے ہوں، لیکن رام مندر کے پورے نظام کو برسوں تک چلانے والے شخص کے طور پر ان کا اثر کیا واقعی ختم ہو گیا ہے؟ سرکاری طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ٹرسٹ نے صاف کہا ہے کہ استعفیٰ قبول ہونے کے بعد رائے اور انل مشرا رکن نہیں رہے (یہ بھی کہا گیا تھا کہ اب ان کا احاطے سے کوئی تعلق نہیں رہا)۔ لیکن سیاست میں رسمی عہدہ اور حقیقی اثر ہمیشہ ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔ چمپت رائے مندر تحریک، ٹرسٹ اور اس کے انتظامی ڈھانچے کے قدیم اور بااثر چہروں میں رہے ہیں۔ اس لیے یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا انہیں عہدے سے ہٹانا جوابدہی کا اختتام ہے یا صرف جوابدہی کی نظر آنے والی سطح میں تبدیلی؟ اگر نئے نظام میں بھی اہم فیصلوں پر ان کا غیر رسمی اثر برقرار رہتا ہے، تو نیا سی ای او اور نیا انتظامی ڈھانچہ کتنا آزاد ہے، یہ سوال آنے والے وقت میں اتنا ہی اہم ہوگا۔ فی الحال اسے ثابت شدہ حقیقت نہیں، بلکہ ایودھیا میں اٹھنے والے سیاسی شکوک و شبہات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
معاملے سے واقف کار اس ’ملاقات‘ کی یاد دلاتے ہیں جو چڑھاوے کی چوری کی ابتدائی خبر سامنے آتے ہی لکھنؤ میں کئی ذمہ داران کے ساتھ ہوئی تھی، جس میں سنگھ، بی جے پی اور اقتدار کے اہم لوگ شامل تھے اور جس کے بعد ہی اچانک سنگھ، پارٹی اور حکومت میں بے چینی پیدا ہوئی اور جس کے بعد ہی اچانک چمپت رائے ’بے داغ ہیں‘، ’ڈیڑھ روٹی کھاتے ہیں‘، ’چٹائی پر سوتے ہیں‘ جیسے جملے اس وقت اچھالے جانے لگے جب نرپیندر مشرا کا کھلا بیان زیر بحث تھا کہ ’چوری نہیں، یہ ڈاکہ پڑا ہے…‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد ہی آناً فاناً میں ایودھیا کی منی رام داس چھاؤنی میں کچھ سَنتوں اور مہنتوں کا اجتماع ہوا اور سب نے مل کر ان کے ’بے داغ ہونے‘ کا ایک اور سرٹیفکیٹ جاری کیا۔ چمپت رائے مبینہ طور پر جگہ جگہ جا کر لوگوں سے ملنے لگے، گووند دیو گری کی مبینہ آمد ہوئی، اور کچھ ’دبنگ‘ سَنتوں کو مذہبی کمیٹی کا رکن بنانے کی دبی چھپی پہل ہوئی...اور بہت کچھ مینیج ہوتا دکھائی دیا۔
معاملے سے واقف کار یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہیں یہ بھی طے ہو گیا تھا کہ ’آپ رہیں نہ رہیں… آپ ہی رہیں گے‘ (یعنی ’آپ‘ کا نام بھلے نہ رہے، ’اقتدار‘ آپ ہی کے ہاتھ میں رہے گا)۔ یہی وہ وقت تھا جب کبھی اشوک سنگھل کے قریبی رہے مہیش بھاگ چندکا خزانچی بنے، مدن موہن پانڈے رکن بنے اور ذات پات اور سیاسی توازن دکھانے کے لیے شکوہ آباد کی نرملہ یادو (کبھی وی ایچ پی کی ’چندہ جوڑو‘ مہم میں اہم کردار ادا کرنے والی) کا نام بھی جڑا۔ ایودھیا کے ایک مٹھ سے قریبی تعلق رکھنے والے بی ایم دیواکر کہتے ہیں: ’سی ای او کے عہدے پر تقرری کو آپ ’مکتی بودھ کی ’مٹھی بھی تنی رہے، کانکھ بھی ڈھکی رہے‘ والی طرز پر پڑھیے، سب کچھ صاف ہو جائے گا۔ وہاں مونچھ اتنی گھنی اور کونے اتنے تنے ہوئے رہیں گے کہ سب کچھ ہوگا لیکن نظم و ضبط کے دائرے میں رہے گا۔‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔