سیاسی

’بلڈوزر راج‘ کے شکاری خود شکار ہو رہے... کرشن پرتاپ سنگھ

متاثرین میں 3 مرتبہ کے بی جے پی کونسلر مراری یادو بھی تھے، جو بھلے ہی دوسری جماعتوں کے گھروں اور دکانوں پر بلڈوزر چلتے دیکھ کر خوش ہوا کرتے تھے، لیکن بات اپنی آئی تو ناراض ہونے لگے تھے۔

بلڈوزر، علامتی تصویر قومی آواز/ویپن
بلڈوزر، علامتی تصویر قومی آواز/ویپن 

اب یہ کوئی نئی بات نہیں رہ گئی ہے۔ نئی جگہوں پر بھی ایسا ہو رہا ہے۔ منی بندوپادھیائے نے ’قومی آواز‘ نیوز پورٹل پر گزشتہ 27 ستمبر کو ’بلڈوزر کی الٹی پڑتی چال اور بی جے پی کے سامنے بڑھتے سوال‘ عنوان سے شائع اپنے تبصرے میں تفصیل سے بتایا ہے کہ کیسے یہ الٹی چال بی جے پی صدر نتن نوین کے 22-21 ستمبر کے میرٹھ اور سہارنپور دورے پر بھاری پڑی اور کس طرح اس کے باعث انہیں اپنے قافلے کے ساتھ ’جے سی بی کے (نام نہاد) گارڈ آف آنر‘ سے نظریں بچا کر نکل جانا پڑا۔

اتفاق دیکھیے کہ تقریباً اسی وقت ایودھیا میں چودہ کوسی پریکرما مارگ کو چوڑا کرنے کے سلسلے میں 21-20 ستمبر کی رات پہلے فیض آباد کہلانے والے علاقے کے جنورا ناکے پر 11 گھروں اور دکانوں وغیرہ کو بلڈوز کرنے کی کارروائی کے معاملے میں بھی بی جے پی لیڈروں کو پہلے منہ چھپانا، پھر ڈیمیج کنٹرول کی مشقوں پر اترنا پڑا۔ ایسا کرنا ان کی مجبوری تھی، کیونکہ اس معاملے میں بلڈوزر کسی ایسی جماعت پر نہیں گرجے تھے کہ وہ ڈھیٹ بن کر ان کے گرجنے کا جشن مناتے اور اس سے متاثر لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے۔ وہ ان کے ’اپنوں‘ پر گرجے تھے (انہیں دی گئی اس یقین دہانی کے باوجود کہ ’مطمئن رہیں، پورا انصاف ہوگا‘) اور متاثرین میں ایودھیا کے 3 بار کے بی جے پی کونسلر مراری یادو بھی تھے، جو اگرچہ دوسری جماعتوں کے گھروں اور دکانوں پر بلڈوزر چلتے دیکھ کر اپنی پارٹی کے ساتھ خوش ہوا کرتے تھے، لیکن جب بات اپنے اوپر آئی تو بہت بے بسی سے رونے اور برہم ہونے لگے تھے۔

اس معاملے میں بی جے پی لیڈروں کو اس لیے بھی منہ چھپانا پڑ رہا تھا کہ مراری یادو سمیت بیشتر متاثرین کے بی جے پی سے پرانے تعلق کے باوجود اپوزیشن سماجوادی پارٹی (ایس پی) ان کے حق میں آگے آ گئی تھی۔ اس کے لیڈر اور ریاست کے سابق وزیر تیج نارائن پانڈے نے ان میں سے کئی لوگوں کو لکھنؤ لے جا کر ایس پی کے سربراہ اکھلیش یادو سے بات کرائی اور ایک ایک لاکھ روپے کی امدادی رقم بھی دلوائی تھی۔ ان کی اس چال سے بی جے پی لیڈر ڈر گئے تھے کہ اس طرح ان کے اپنوں کے ناراض ہو کر پارٹی سے دور جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا تو کون جانے کہ اسمبلی انتخابات میں کیا ہو؟ کہیں ان کی ناراضگی سے پارٹی کی لوک سبھا انتخابات کی شکست کی اسمبلی انتخابات میں تکرار ہو گئی تو؟

اس خوف سے وہ ڈیمیج کنٹرول پر اترے تو گودی میڈیا کے ذریعے متاثرین کے لیے مناسب معاوضہ، کام دھندے کے لیے دکانیں اور برسات گزارنے کے لیے ٹین شیڈ وغیرہ کی سہولت دینے کی تشہیر شروع کرا دی۔ لیکن بات نہیں بنی، کیونکہ متاثرین ’پورے انصاف‘ کا مطالبہ کرنے اور الزام لگانے لگے کہ نصف گھنٹے کی اطلاع پر توڑے گئے ان کے گھروں سے الماریاں، بکسے اور ان میں رکھے زیورات و دیگر قیمتی سامان بھی اٹھا لے جایا گیا، جبکہ ان کے لیے دکانوں، ٹین شیڈوں اور معاوضے کا اعلان پوری طرح ہوائی ہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے بی جے پی لیڈروں کی جانب سے ان متاثرین سے کہا گیا تھا کہ چونکہ وہ ان کے ’اپنے‘ ہیں، اس لیے جس پریکرما مارگ کو چوڑا کیا جانا ہے، اس کے بیچ سے دونوں طرف یکساں چوڑائی میں توڑ پھوڑ ہوگی، جس سے ان کا کم سے کم نقصان ہوگا۔ لیکن رات میں اچانک ایسے تمام وعدے بھلا کر بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں راستے کی ایک جانب واقع ان کے مکانات کو یک دم بلڈوز کر دیا گیا۔ اس سے یہ متاثرین تو پریشان اور بے حال ہوئے ہی، بہت سے دیگر شہری بھی اس اندیشے سے خوف زدہ ہونے لگے کہ اب ان کے گھروں کا جانے کیا ہوگا۔ اس چکر میں ان کا اپنے گھروں میں اطمینان، اختیار اور خود اعتمادی کے ساتھ رہنا دشوار ہو گیا، جو اب بھی دشوار ہی ہے۔

سماجوادی پارٹی کے مقامی لیڈر سوریہ کانت بتاتے ہیں کہ مسئلہ اس لیے اور بڑا ہو گیا ہے کہ ’نہ اپیل، نہ دلیل، نہ وکیل‘ کی طرز پر گھر، مکان اور دکان وغیرہ کو بلڈوز کرنے کی اندھا دھند کارروائیوں نے لوگوں کو اتنا پریشان کر دیا ہے کہ ان کی نفسیات تک بگڑ گئی ہے۔ کوئی 2 سال پہلے کوکریل ندی احیا منصوبے کے تحت لکھنؤ کے پنت نگر، رحیم نگر، ابرار نگر اور اندرپرستھ وغیرہ میں انہدام کے لیے نشان زد گھروں پر بلڈوزر کی کارروائی روک دیے جانے کے بعد بھی ذرائع ابلاغ نے اس حکومت کی نام نہاد مہربانی کی اسی طرح تشہیر کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ اس سے ان گھروں میں رہنے والے لوگ خوشی سے جھوم اٹھے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔