سیاسی

اپنے مفادات کے لیے اداروں کو تباہ کرنا حقیقی بدعنوانی ہے… آکار پٹیل

الیکشن کمیشن جیسے ادارہ کو جو نقصان پہنچا ہے، وہ شاید ہمیشہ کے لیے ہے۔ ٹھیک اسی طرح ووٹر لسٹ کو بھی جو نقصان ہوا ہے، وہ بھی مستقل ہے۔

<div class="paragraphs"><p>گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>

گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

بدعنوانی اور رشوت خوری… یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟

آج ہم جس طرح ’رشوت‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، اس کی ابتدا 16ویں صدی میں ہوئی تھی اور اس کی تعریف ’مجسٹریٹوں کی جانب سے غلط کاموں کے لیے پیسے لینے کے عمل‘ کے طور پر کی گئی تھی۔

غور کریں کہ بدعنوانی اس تعریف کا حصہ ہے، اور یہ لاطینی زبان سے ماخوذ ایک بہت پرانا لفظ ہے۔ اس کا مطلب احسان کے بدلے پیسوں کے لین دین سے بہت کم تعلق رکھتا ہے۔ اس کی تعریف ’سڑنے، تحلیل ہونے یا زوال پذیر ہونے کے عمل‘ کے طور پر کی گئی ہے۔ رشوت خوری ایک انفرادی عمل ہے، جب کہ بدعنوانی، رشوت خوری کے علاوہ، اداروں کے زوال اور سڑنے کا عمل ہے۔ یہی دونوں کے درمیان فرق ہے اور یہ بہت بڑا فرق ہے۔

’اکانومسٹ‘ میگزین کا ’اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ‘ ہر چند سال بعد ’کرونی کیپٹلزم انڈیکس‘ (گٹھ جوڑ والے سرمایہ داری نظام کا اشاریہ) تیار کرتا ہے۔ اس میں یہ پیمائش کی جاتی ہے کہ معیشت کا کتنا بڑا حصہ پالیسیوں میں ہیرا پھیری کر کے کچھ خاص لوگوں کو امیر بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے… جسے ’رینٹ سیکنگ‘ کہا جاتا ہے۔

2016 میں ہندوستان کی جی ڈی پی میں گٹھ جوڑ والی سرمایہ داری کا حصہ 3 فیصد تھا۔ 2023 میں، جب آخری بار اس کی پیمائش کی گئی، تو یہ اعداد و شمار دوگنے ہو چکے تھے۔ یہ رشوت خوری ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی، لیکن یہ یقینی طور پر بدعنوانی ہے، کیونکہ کچھ خاص لوگوں کو امیر بنانے کے لیے حکومت کی طاقت اور اس کی قانونی حیثیت کو کمزور کیا جا رہا ہے اور اس کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

ریاست دوسرے طریقوں سے بھی خراب ہو سکتی ہے اور اس میں سڑن پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی چیز کے سڑنے کے لیے پہلے اس کا پوری طرح وجود میں ہونا ضروری ہے۔ ہندوستانی جمہوریت ایک ایسا منصوبہ ہے جسے بنانے میں طویل وقت لگا ہے۔ اس بات پر کتابیں لکھی گئی ہیں کہ بالغ رائے دہی کتنا بڑا کام تھا اور پہلی ووٹر لسٹ کس طرح تیار کی گئی تھی۔ ان لوگوں کو بھی شامل کرنے کے لیے کتنی کوششیں کی گئی تھیں جو رات میں صرف فٹ پاتھ پر ہی ملتے تھے۔ جو لوگ پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے، انہیں بھی حصہ لینے کی ترغیب دینے کے لیے انتخابی نشانات جیسے نئے طریقے اپنائے گئے۔

وقت کے ساتھ اعتبار قائم ہوا۔ پارلیمنٹ نے منتخب اراکین کے پارٹی بدلنے سے روکنے کی کوشش کی۔ 1994 میں مرکز سے ریاستی حکومتوں کو منمانے طریقے سے برطرف کرنے کا اختیار چھین لیا گیا۔ اسی دوران ہم نے آخرکار ہندوستان میں انتخابی جمہوریت کے سب سے مسلسل رہنے والے مسائل میں سے ایک، بوتھ پر قبضہ کرنے اور بیلٹ پیپروں کو ٹھونسنے کے عمل سے نجات حاصل کر لی۔ یہ ووٹنگ مشینوں کے آنے سے ممکن ہوا۔

اس سے کچھ عرصہ پہلے (اور عمر رسیدہ قارئین کو یہ یاد ہوگا) الیکشن کمیشن پہلی بار ایسا ادارہ بنا جس نے حکومت کو اپنی بات ماننے پر مجبور کیا۔ یہ سب سے پہلے شیشن نام کے ایک بے باک شخص کے دور میں ہوا، لیکن یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری رہا جب حکومت نے انہیں قابو میں کرنے کے لیے 2 مزید کمشنر شامل کر کے اسے 3 رکنی پینل بنا دیا۔ جمہوریت کے نظام کو زیادہ مؤثر، قابل اعتبار اور بھروسے مند بنانے کی سمت میں ہوئی پیش رفت دیکھی جا سکتی ہے۔ لیکن بدعنوانی ذاتی فائدے کے لیے اس نظام کو کھوکھلا اور کمزور کر رہی ہے۔

پارٹی بدلنے اور برطرفی کے معاملات میں ہوئی پیش رفت پر پانی پھر گیا ہے۔ آج مغرب سے لے کر مشرقی ہندوستان تک پوری کی پوری پارٹیاں خریدی جا رہی ہیں۔ آپ کسی کو بھی ووٹ دیں، اکثر نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ وہی لوگ سب کچھ کنٹرول کرتے رہتے ہیں۔

الیکشن کمیشن جیسے ادارے کو جو نقصان پہنچا ہے، وہ شاید ہمیشہ کے لیے ہے؛ بالکل اسی طرح ووٹر لسٹ کو بھی جو نقصان ہوا ہے، وہ بھی مستقل ہے۔ مستقبل میں آنے والی حکومت، چاہے اس کی نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، اس صورت حال کو پلٹنے کا کوئی طریقہ نہیں رکھے گی… خواہ وہ معاملہ ہو جو ابھی ہمارے سامنے ہو رہا ہے یا وہ جو پہلے ہی ہو چکا ہے۔

یا تو ایس آئی آر کے پورے عمل کو ہی منسوخ کر دیا جائے (ایسی صورت میں ووٹر لسٹ میں چھیڑ چھاڑ کے بعد ہونے والے انتخابات بھی غیر معتبر ہو جائیں گے) یا پھر جن کروڑوں لوگوں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں، انہیں ریاست کے اطمینان کے مطابق خود اپنی شناخت ثابت کرنے کے بعد دوبارہ فہرست میں شامل کیا جائے۔ یہ کن ضابطوں کے تحت ہو سکتا ہے؟ کیا ان نئے ضابطوں کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمارے پاس 2 طرح کے ووٹرز ہوں گے، ایک وہ جنہوں نے ایس آئی آر کا امتحان پاس کیا ہے اور دوسرے وہ جو کسی اور راستے سے آئے ہیں؟ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے۔

یاد رکھیں کہ یہ سب کسی خاص وجہ کے بغیر شروع کیا گیا تھا۔ کسی نے یہ ثابت نہیں کیا، نہ ہی یہ دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی ووٹر لسٹ اتنی خراب ہو گئی تھی کہ اسے درست کرنے کے لیے اس سخت اور پرتشدد طریقے کی ضرورت تھی، جس میں ووٹرز کو اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے اپنے آبا  اجداد کے ثبوت دینے پڑیں۔ یہ ایک غیر ضروری مشق ہے، جس میں ہماری ووٹر لسٹ پر اسی طرح حملہ کیا گیا ہے، جیسے ایک دہائی پہلے ہماری کرنسی کے ساتھ کیا گیا تھا۔

امریکہ میں ایک کہاوت ہے ’اگر کوئی چیز ٹوٹی نہیں ہے تو اسے ٹھیک کرنے کی کوشش نہ کریں۔‘ یہ سادہ سی بات ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر کوئی چیز ٹھیک طرح سے کام کر رہی ہے تو اس میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اس میں بری نیت یا بدخواہی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں، اس کا اصول ہے ’اگر کوئی چیز ٹوٹی نہیں ہے تو اسے توڑ دو۔‘

اگرچہ اس میں خامیاں تھیں (اور ہم نے دیکھا بھی ہے کہ وہ خامیاں کیا تھیں) لیکن جب ہم دنیا کے سامنے آتے تھے تو ہندوستانی جمہوریت ہی ہماری سب سے بڑی شناخت اور فخر کی بات تھی۔ یہ نظام اگرچہ الجھا ہوا اور بدنظمی کا شکار تھا، لیکن یہ حقیقی، دیانت دار اور سچا تھا۔ ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے تھے کہ ہم ایک جمہوری ملک ہیں۔ مثلاً ’ایک شخص، ایک ووٹ‘ جیسی باتیں۔ کیا ہم آج بھی ایسا کہہ سکتے ہیں؟

2014 میں بی جے پی کو اکثریت ملنے سے پہلے، دہائیوں کی محنت سے بنائے گئے ادارے ایک طرح سے ’کرمپل زون‘ (تصادم کی صورت میں جھٹکے سہنے والی عمارتوں) کی طرح تھے۔ عدالتوں، یونیورسٹیوں، انتخابی نظام، تکثیریت، سیاسی ثقافت اور میڈیا جیسے اداروں پر حملہ کرنے میں پورا ایک عشرہ لگ گیا، کیونکہ یہ ادارے (جن میں سے کچھ کمزور تھے تو کچھ میں خامیاں تھیں) اس وقت بھی موجود تھے اور کام کر رہے تھے۔ ان تمام اداروں کو سڑا کر، ان کا زوال کر کے، انہیں آج کی صورت حال تک پہنچا دیا گیا ہے۔ اور بدعنوانی کا یہی اصل مفہوم ہے۔

(یہ مصنف کے ذاتی خیالات ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔