
برکس 2026، تصویر ’ایکس‘ @BricsIndia2026
فی الحال دنیا کی نظریں ہندوستان پر مرکوز ہیں۔ معروف بین الاقوامی رسالہ ’دی ڈپلومیٹ‘ نے 13-12 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے حوالے سے یہ بات کہی۔ رسالہ نے لکھا ہے کہ ’’آج اس گروپ کی قیادت کرنا ایک سفارتی بارودی سرنگ پر قدم رکھنے جیسا ہے۔‘‘ بدقسمتی سے ایسے حالات نریندر مودی حکومت کی بھٹکی ہوئی خارجہ پالیسی اور ان کے کنٹرول سے باہر کے عالمی واقعات کا براہ راست نتیجہ ہیں۔
برکس کی ابدا 2009 میں ’برک‘ (برازیل، روس، ہندوستان اور چین) کے طور پر ہوئی تھی۔ 2010 میں جنوبی افریقہ اس سے جڑا اور 2011 میں اس نے اپنی پہلی میٹنگ میں حصہ لیا۔ 2024 میں ہندوستان کی دبے چھپے مخالفت کے باوجود مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو مکمل رکن کے طور پر شامل کیا گیا، جبکہ انڈونیشیا 2025 میں شامل ہوا۔ اسی سال بیلاروس، بولیویا، قزاقستان، کیوبا، ملیشیا، نائیجیریا، تھائی لینڈ، یوگنڈا، ازبکستان اور ویتنام کو شراکت دار ملک کا درجہ دیا گیا۔ آج کا یہ توسیع یافتہ ’برکس‘ عالمی جی ڈی پی کے 40 فیصد اور دنیا کی 49.5 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔
جب تک وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں ہندوستان نے سرد جنگ کے بعد اپنی غیر وابستہ اور ’ملٹی الائنمنٹ‘ کی پالیسی کو برقرار رکھا، دنیا میں ہندوستان کا ایک مضبوط اثر و رسوخ اور احترام تھا۔ یہ توازن اس وقت پوری طرح بکھر گیا جب نریندر مودی اچانک امریکہ کی گود میں جا بیٹھے اور ہندوستان کی روایتی خارجہ پالیسی کو الٹا کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ جا ملے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جسے برکس کے دیگر تمام اراکین مکمل طور پر اچھوت سمجھتے ہیں۔
تمام اہم بین الاقوامی مسائل پر آج کا ’مودی مارکہ‘ ہندوستان دیگر برکس ممالک کی صف سے بالکل الگ تھلگ کھڑا نظر آتا ہے۔ اس کی سب سے خوفناک شکل فلسطین میں اسرائیل کے جنگی جرائم اور ایران پر اس کے اشتعال انگیز حملوں کے دوران دکھائی دی۔ کسی بھی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اسرائیل کی مذمت کرنے کے بجائے ہندوستان کھل کر اسرائیل کے خیمے میں کھڑا رہا (یہاں تک کہ اسے ہتھیاروں کی فراہمی بھی کی گئی) جس نے ہندوستان کو برکس کے اندر ایک بے جوڑ اور الگ تھلگ ملک بنا دیا۔
مئی میں ہندوستان کی صدارت میں ہوئی برکس وزرائے خارجہ کی میٹنگ کسی مشترکہ بیان کے بغیر ختم ہو گئی تھی، جسے ایک بڑی ناکامی سمجھا گیا۔ نئی دہلی کو شروع سے ہی یہ خوف ستا رہا تھا کہ کہیں مرکزی برکس سربراہی اجلاس کا انجام بھی ویسا ہی نہ ہو۔ ستمبر کے شروع میں کرغزستان میں منعقد شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس میں نریندر مودی کی موجودگی کو اسی مایوسی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ایس سی او دراصل مکمل طور پر چین کا پلیٹ فارم ہے، اور وہاں خود چل کر جانے کا مودی کا مقصد شاید چینی صدر شی جن پنگ کو دہلی برکس میں آنے کے لیے راضی کرنا تھا، اگرچہ چین نے اس معاملے میں آخری لمحوں تک ہندوستان کو انتظار میں رکھا۔ جن پنگ 2019 کے بعد ہندوستان نہیں آئے ہیں اور انہوں نے 2023 میں دہلی میں ہوئے جی-20 اجلاس سے بھی دوری اختیار کی تھی۔
میزبان ہونے کے ناطے ہندوستان کی پہلی کوشش یہی ہوگی کہ تمام رکن ممالک کے سربراہان موجود رہیں۔ لیکن سعودی عرب کے محمد بن سلمان کے آنے پر اب بھی شبہ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اگست کے شروع میں ہی سعودی عرب نے پاکستان اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ پر دستخط کیے ہیں، جو ناٹو کی طرز پر بنایا گیا ایک فوجی معاہدہ ہے اور جس کے مرکز میں ایران اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ ہندوستان سے ممکنہ سیکورٹی خدشات کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔
ایس سی او اجلاس کے اختتام پر جاری ’بشکیک اعلامیہ‘ میں رکن ممالک نے ’جمہوریہ اسلامی ایران پر فوجی حملوں کی مذمت کرنے والے ایس سی او کے سابقہ موقف‘ کو پوری مضبوطی سے دہرایا۔ مودی ان 10 لیڈران میں شامل تھے جنہوں نے اس دستاویز پر دستخط کیے۔ جبکہ اس سے پہلے نہ خود مودی نے اور نہ ہی ہندوستانی وزارت خارجہ نے ایران کے خلاف فروری سے جاری امریکہ و اسرائیل کی کھلی منمانی اور حملوں پر مذمت کا ایک لفظ تک کہا تھا۔ یہی نہیں، مودی اس ایس سی او بیان کے بھی شراکت دار بنے جس میں اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور عالمی تجارتی تنظیم کے قواعد کے خلاف جانے والے ’یکطرفہ پابندی والے اقدامات‘ یعنی ایران کے خلاف امریکی پابندی مہم ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کی براہِ راست مخالفت کی گئی تھی۔
اجلاس کے موقع پر مودی نے ایران کے صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کی۔ اسے ایران کی ناراضگی دور کرنے کی ایک مایوس کن کوشش سمجھا گیا۔ اس جنگ میں مودی حکومت نہ صرف کھل کر اسرائیل کے ساتھ کھڑی دکھائی دی، بلکہ اس نے امریکی دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ایران کی چابہار بندرگاہ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے بھی قدم پیچھے کھینچ لیے، جہاں ہندوستان نے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔
ایران کے سرکاری بیان کے مطابق مودی نے پیزشکیان سے کہا کہ ’’حالیہ مشکل دور میں بھی ہم نے ایران کے ساتھ اپنے تعاون اور بات چیت کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی۔‘‘ یہ نام نہاد ’مشکل دور‘ کسی اور کا نہیں، بلکہ خود مودی کا ہی پیدا کیا ہوا تھا، جو ’مائی فرینڈ ڈونالڈ‘ کے فرمانوں کے آگے سر تسلیم خم کیے رہے اور نیتن یاہو کی داغدار حکومت سے اپنی ’گلبہیاں‘ کبھی چھپا نہیں سکے۔
ایران کی جانب سے بتایا گیا کہ مودی نے پیزشکیان سے گفتگو میں کہا کہ ’’میں آپ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ کچھ لوگ جنگ میں ہی اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔‘‘ کیا اسے امریکہ اور اسرائیل کی نپی تلی تنقید سمجھا جا سکتا ہے؟ جواب میں پیزشکیان نے ’’نئی دہلی کے تعاون اور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔‘‘ ہندوستان کی جانب سے کسی بھی طرح کے ’تعاون اور حمایت‘ کا یہ اشارہ تنازعہ کے آغاز سے اب تک اس کے اختیار کیے گئے موقف سے ایک بڑا یو-ٹرن تھا۔
مودی واقعی امریکہ-اسرائیل کے اثر و رسوخ کے دائرے سے باہر نکل رہے ہیں یا نہیں، اس کی جانچ کی اصل کسوٹی برکس اجلاس کے بعد ہندوستان کا حقیقی رویہ ہی ہوگا۔ تبھی معلوم ہوگا کہ مودی ایس سی او میں چین اور ایران کو صرف اس لیے ساتھ ملانے گئے تھے تاکہ دہلی کا برکس اجلاس کسی بڑے سفارتی جھٹکے سے بچ جائے۔ چین کے سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ نے لکھا ہے کہ ’’جیسے ہی نئی دہلی برکس کے دور میں قدم رکھے گی، پوری دنیا کی نظر اس بات پر ہوگی کہ اس میٹنگ سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘‘
روسی صدر کے دفتر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے میڈیا سے کہا کہ ’’ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ یہ سربراہی اجلاس کامیاب رہے گا۔‘‘ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ روس ایک بار پھر ہندوستان کی کشتی پار لگانے کی کوشش کرے گا، جیسا کہ اس نے 2023 کے دہلی جی-20 میں کیا تھا تاکہ یوکرین جنگ کا ہلکا پھلکا ذکر کر کے کسی طرح ایک متفقہ مشترکہ بیان پر مہر لگوائی جا سکے۔
جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا نے اجلاس میں آنے کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ ان کا ملک غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم اور نسل کشی کے خلاف دنیا میں سب سے زیادہ آواز بلند کرنے والوں میں رہا ہے۔ دہلی میں جنوبی افریقہ کے ہائی کمشنر انیل سوکلال نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’ہندوستان کئی محاذوں پر ایک کامیاب سربراہی اجلاس منعقد کرنے جا رہا ہے۔‘‘ جہاں تک برازیل کا سوال ہے، وہ نیتن یاہو کے جنگی جرائم کے خلاف مضبوطی سے جنوبی افریقہ کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور اس نے بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے نسل کشی کے مقدمے کی کھل کر حمایت کی ہے۔ برازیل اور جنوبی افریقہ دونوں ہی مودی حکومت کی اکثریت پسند پالیسیوں اور جمہوری اداروں کی قدر گھٹانے کو لے کر بے چین رہے ہیں، پھر بھی وہ مغربی ایشیا پر ایک عام اتفاق رائے قائم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
ہندوستانی خارجہ سروس کے حلقوں کا بھی یہی ماننا ہے کہ روس-یوکرین تنازعہ اور مغربی ایشیا کی بھیانک جنگ کو دیکھتے ہوئے یہ اجلاس ہندوستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ مودی اس جوئے پر داؤ لگا رہے ہیں کہ برکس اجلاس سے ٹرمپ ناراض نہ ہوں، جو ویسے بھی اس گروپ کے بکھر جانے پر سب سے زیادہ خوش ہوں گے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی موجودگی کے باعث برکس کا مشترکہ بیان ایس سی او جتنا تیکھا ایران نواز نہیں ہو سکتا، پھر بھی اس دستاویز میں مغربی ایشیا کے حالات کو نظر انداز کرنا ہندوستان کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔
وزارت خارجہ نے اس اجلاس کے لیے ’بلڈنگ ریزیلینس اینڈ انوویشن فار کوآپریشن اینڈ سسٹین ایبلٹی‘ کا جو جملہ اچھالا ہے، وہ مختصر نام گھڑنے کی مودی حکومت کی پرانی بیماری کا ہی حصہ ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ ان مشکل مسائل سے توجہ ہٹانے کی محض کوشش لگ رہی ہے جو اس سربراہی اجلاس کو ناکام بنا سکتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔