سیاسی

مسلمانوں کے بعد اب دلت نشانے پر

مظفر نگر میں 13 جنوری کو بھیم آرمی کے 27 سالہ نوجوان ویپن کو اس وقت پکڑ کر مارا گیا جب وہ موٹر سائیکل سے گھر واپس لوٹ رہا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

اتر پردیش کے مظفر نگر میں مکر سنکرانتی کی شام بھیم آرمی کے رکن ویپن کی پٹائی کرتے وقت ویڈیو بنانے اور اسے برسرعام کرنے کے واقعہ کو بی جے پی حکومت کے دلت مخالف ہونے سے جوڑ کر دیکھنے کے کئی اسباب ہیں جس پر غور کرنا ضروری ہے۔ آئیے ان اسباب پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

پہلی وجہ:

اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ اتر پردیش دلت مظالم کے واقعات میں اوّل مقام پر ہے۔

دوسری وجہ:

جس ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے وہاں دلتوں پر ظلم کرنے والوں کو معلوم نہیں کس طرح یہ پیغام مل جاتا ہے کہ اب انھیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مثلاً ہماچل پردیش میں بی جے پی حکومت بنے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے ہیں اور وہاں دلت ادب کی شکل میں مقبول اوم پرکاش والمیکی کی سوانح حیات ’جوٹھن‘ کو تعلیمی اداروں نے نصاب سے ہٹانے کے لیے حامی بھر دی ہے۔ ’جوٹھن‘ کے خلاف یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس سے ذاتیات کو فروغ ملتا ہے۔ ’جوٹھن‘ اوم پرکاش والمیکی کے انتقال سے سالوں پہلے لکھا گیا تھا اور وہ دلت ادب کی شکل میں پورے ملک میں مشہور ہے۔

تیسری وجہ:

بی جے پی کی حکومت میں دلت پر تشدد کا ویڈیو بنانے کی ہمت حملہ آوروں میں نظر آتی ہے۔ گجرات کے اونا میں دلتوں کی سر عام پٹائی سے لے کر راجستھان میں افروزل کی شنبھو پرساد ریگر کے ذریعہ قتل اور دوسرے کئی واقعات کے ساتھ 13 جنوری کو اتر پردیش کے مظفر نگر میں دلت نوجوان کی سر عام پٹائی کا ویڈیو بنانے کا واقعہ شامل ہے۔

یوگی کی حکومت میں دلت تشدد پر نظر:

بی جے پی کے دور اقتدار میں اتر پردیش کی یوگی حکومت کی کہانی تو بھیم آرمی پر حملوں سے ہی شروع ہوتی ہے۔ یوگی کی حکومت تشکیل پاتے ہی سہارنپور کے علاقے میں دبنگ ذات سے تعلق رکھنے والے شرپسندوں نے دلتوں کی تنظیم بھیم آرمی پر اس طرح حملہ کیا جیسے دبنگ ذات والے یوگی حکومت کو دلتوں پر حملے کی سلامی دے رہے ہیں۔ بھیم آرمی اس علاقے میں دلتوں کے درمیان تعمیری کاموں کے ساتھ اپنی جدوجہد کی وجہ سے بھی کافی مقبول ہے۔

اگر اپریل 2017 سے اب تک مغربی اتر پردیش میں ہوئے واقعات پر سرسری نظر ڈالیں تو وہاں دلتوں پر تشدد کے پیمانوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔ وہاں شبیر پور میں پہلی بار غیر محفوظ حلقہ سے دلت پردھان منتخب ہوا ۔ سہارنپور کے دھودھلی گاؤں میں 14 اپریل کو دلتوں نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی ’شوبھا یاترا‘ نکالنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ڈاکٹر امبیڈکر کو بی جے پی کے رنگ میں رنگ کر دکھانا چاہتے ہیں اور وہاں کے مسلمانوں کے خلاف دلتوں کو کھڑا کرنے کے لیے ’شوبھا یاترا‘ کا استعمال کرنا چاہتے تھے۔ لیکن دلتوں اور خصوصی طور پر ’بھیم آرمی کے سرگرم اراکین نے فرقہ وارانہ فسادات کے لیے اپنا استعمال ہونے نہیں دیا۔ اس بات پر بی جے پی کی دبنگ ذاتیں بھیم آرمی کے اراکین کے خلاف چڑھ گئیں۔ 5 مئی 2017 کو وزیر اعلیٰ یوگی کی ذات سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں دبنگوں نے دلتوں کے گھروں پر حملہ کر دیا۔ انھیں نذر آتش کر دیا گیا۔ بھیم آرمی کے اراکین اور دیگر 45 لوگوں کو شبیر پور میں حملے کے بعد پکڑا گیا۔ بھیم آرمی کے بانی چندر شیکھر آزاد عرف راون اس وقت سے جیل میں بند ہیں۔ انھیں عدالت نے ضمانت بھی دی لیکن یوگی حکومت پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکی تھی کہ چندر شیکھر کو جیل سے باہر نہیں آنے دینا ہے۔ یوگی حکومت نے ضمانت کی اطلاع ملتے ہی چندر شیکھر کے خلاف قومی تحفظ سے متعلق قانون نافذ کر دیا۔ 9 مئی کو دلتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ پر پھر سے پولس کے ذریعہ حملہ کیا گیا۔

نیا واقعہ:

مظفر نگر میں 13 جنوری کو بھیم آرمی کے 27 سالہ نوجوان ویپن کو اس وقت پکڑ کر مارا گیا جب وہ موٹر سائیکل سے گھر واپس لوٹ رہا تھا۔ اس پر الزام لگایا گیا کہ اس نے ہندو دیوی دیوتاؤں کی تصویریں پھاڑیں اور اس کی جگہ ڈاکٹر امبیڈکر کی تصویریں لگا دی۔ دراصل دلتوں اور مسلمانوں کے خلاف حملے کے جو بہانے سامنے آتے ہیں وہ حملہ آوروں کے مجرمانہ کردار اور سیاست کے ضم ہونے کی مثالیں ہیں۔ گجرات میں دلت نوجوان کا اس لیے قتل کر دیا گیا کیونکہ وہ گربا کی اس تقریب میں شامل تھا جس میں اعلیٰ ذات کے لوگ موجود تھے۔ راجستھان میں شنبھو پرساد ریگر نے ’لو جہاد‘ کا بہانہ بنایا جب کہ پولس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افروزل مزدور تھا اور شنبھونے اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے ہندوتوا طاقتوں کے ایشوز کا استعمال کیا۔ ہندو شدت پسندوں نے شنبھو کی حمایت بھی کی اور قاتل کے لیے پیسے بھی جمع کیے۔ مظفر نگر کے واقعہ کی طرح ان سب واقعات کا بھی ویڈیو تیار کیا گیا تھا۔ ویڈیو تیار کرنے کا مقصد پورے دلت اور مسلم سماج کے اندر دہشت پیدا کرنا ہے۔

مظفر پور سے مظفر نگر تک:

مظفر نگر کے واقعہ سے مظفر پور کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ مظفر پور میں جون ماہ میں ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے ایک صحافی کو بجرنگ دل کے اراکین نے ’جے شری رام‘ کہنے کی دھمکی دی تھی۔ صحافی اطہرالدین منّے بھارتی نے الزام لگایا کہ بجرنگ دل کے اراکین نے انھیں دھمکی دی کہ اگر انھوں نے ایسا نہیں کیا تو وہ ان کی کار میں آگ لگا دیں گے۔ وہ اپنی بیگم اور والدین کے ساتھ کار میں سوار تھے۔ مظفر نگر میں دلت نوجوان کو پیٹتے ہوئے ’جے ماتا دی‘ بولنے کے لیے بھی دھمکایا گیا۔ سماج میں بالادستی بنائے رکھنے والوں کے لیے ہندوتوادیوں کے نعرے اور ان کی حامی حکومت سب سے زیادہ مفید ہوتے ہیں۔ اتر پردیش کے اس حادثہ سے پہلے مہاراشٹر کے بھیما کوریگاؤں میں دلتوں کے خلاف حملے کے واقعہ سے دلتوں میں غصہ دیکھا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی قابل ذکر یہ بھی ہے کہ جس وقت سوشل میڈیا پر بھیم آرمی کے اراکین ویپن کی پٹائی کا ویڈیو وائرل ہو رہا تھا اس دن پورے ملک میں دلت طالب علم روہت ویمولا کی یاد میں دلت تشدد مخالف پروگرام چل رہے تھے۔ بی جے پی کی حکومتوں میں سب سے زیادہ دلت تشدد مخالف پروگرام اسی لیے ہو رہے ہیں کہ دلت ڈرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

Published: 18 Jan 2018, 9:59 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 18 Jan 2018, 9:59 PM IST