پاکستان

پاکستان میں تپ دق کا سنگین بحران، روزانہ 140 اموات، عالمی ادارہ صحت کی وارننگ

پاکستان میں ٹی بی یعنی تپ دق کے کیسز اور اموات میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں روزانہ 1800 نئے مریض سامنے آ رہے ہیں اور 140 افراد جان گنوا رہے ہیں، عالمی ادارہ صحت نے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

اسلام آباد: پاکستان میں تپِ دق (ٹیوبر کلوسس، ٹی بی) ایک بار پھر سنگین عوامی صحت کے بحران کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں افراد اس مہلک بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں روزانہ 1800 سے زائد نئے کیسز سامنے آتے ہیں، جبکہ تقریباً 140 افراد ہر دن اس بیماری کے باعث جان گنوا رہے ہیں، جو صورت حال کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔

Published: undefined

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے عالمی یومِ تپِ دق کے موقع پر جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 6 لاکھ 69 ہزار افراد تپِ دق سے متاثر ہوتے ہیں، جبکہ 51 ہزار کے قریب اموات ہوتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ اس امر کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ ملک میں اس بیماری پر قابو پانے کی کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔

ایک مقامی اخبار میں شائع اداریے کے مطابق پاکستان مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں تپِ دق کے کل کیسز کا تقریباً 73 فیصد بوجھ اٹھا رہا ہے اور دنیا بھر میں اس بیماری کے حوالے سے پانچویں نمبر پر ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی غماز ہے کہ عوامی صحت کے شعبے میں درپیش مسائل اب تک مؤثر انداز میں حل نہیں ہو سکے۔

Published: undefined

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر دس منٹ کے دوران ایک شخص تپِ دق کے باعث جان گنوا دیتا ہے، حالانکہ یہ ایک قابلِ علاج بیماری ہے۔ ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص، معیاری ادویات کی دستیابی اور مریضوں کی مسلسل دیکھ بھال کے ذریعے ان اموات کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔

تاہم فنڈز کی کمی، کمزور طبی ڈھانچہ اور ادویات کی قلت جیسے مسائل نے اس مرض کے خلاف جاری مہم کو شدید متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر دیہی اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

Published: undefined

ماہرین کا کہنا ہے کہ تپِ دق زیادہ تر غریب اور کمزور طبقات کو متاثر کرتی ہے، اس لیے اس کے خاتمے کے لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس میں صحت کے بجٹ میں اضافہ، عوامی آگاہی مہمات کا فروغ اور دور دراز علاقوں تک طبی سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔ اگر فوری اور مؤثر حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined