پاکستان

پاکستان: سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسپتال میں داخل کرانے کا دیا حکم

سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت جیل میں بند عمران خان کو اگلے چند دنوں میں مکمل طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں داخل کرایا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>عمران خان / سوشل میڈیا</p></div>

عمران خان / سوشل میڈیا

 

پاکستان کے سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو مناسب علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرانے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے منگل (18) کو یہ حکم سنایا۔ فیصلے کے تحت جیل میں بند عمران خان کو اگلے چند دنوں میں مکمل طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں داخل کرایا جائے گا۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی 3 رکنی بنچ نے یہ حکم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اسپتال میں داخل کرانے اور انہیں اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کرنے والی متعدد عرضیوں پر سماعت کے دوران دیا۔

پاکستان کے معروف اخبار ’ڈان‘ نے جسٹس وحید کے حوالے سے کہا کہ ’’بنیادی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم قیدی کی صحت اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے یہ حکم جاری کر رہے ہیں۔‘‘ عدالت نے کہا کہ یہ حکم عمران خان کی صحت، حق زندگی اور طبی سہولیات تک رسائی کی آئینی ضمانت کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کیا جا رہا ہے۔ افسران کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ عمران خان اور ان کے اہل خانہ کے درمیان ہر ہفتے ملاقات کا انتظام کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا گیا ہے، جس میں ان کے ذاتی معالج اور ان کی بہن عظمیٰ خان بھی شامل ہوں گی۔ یہ فیصلہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے عمران خان (اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں بند ہیں) کی صحت سے متعلق جمع کرائی گئی رپورٹ کے بعد سنایا گیا۔

’ڈان‘ نے نتائج کے ساتھ منسلک ایک ضمیمے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) کے ڈاکٹر اختر علی بندے شاہ نے یکم اگست کو عمران خان کا معائنہ کیا تھا۔ اس دوران ان کا بلڈ پریشر غیر متوازن ہونے، دل کی دھڑکن تیز ہونے، سر درد اور بے چینی کی شکایات درج کی گئی تھیں۔ ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے مبینہ طور پر اپنی طبی علامات اور ذہنی دباؤ کی وجہ اپنی اہلیہ، اہل خانہ اور سماجی رابطوں میں کمی کو قرار دیا۔ ان کا الزام تھا کہ انہیں اخبارات اور ٹیلی ویژن تک رسائی بھی نہیں دی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر نے عمران خان کا ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے کچھ مؤثر اقدامات اٹھانے کا مشورہ دیا، جن میں انہیں اپنی اہلیہ سے زیادہ سے زیادہ بار ملاقات کی اجازت دینا اور مطالعے کا سامان فراہم کرنا شامل ہے۔ انہوں نے سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کرانے اور بلڈ پریشر کی دوا کی مقدار بڑھانے کا بھی مشورہ دیا، ساتھ ہی خبردار کیا کہ 74 سالہ پی ٹی آئی رہنما کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ عمران خان نے مئی میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیے جانے کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی ڈاکٹروں، اہل خانہ اور قانونی مشیروں سے ملاقات کی اجازت مانگی تھی۔ انہوں نے اپنی طبی حالت سے متعلق رپورٹ اپنے اہل خانہ کے ساتھ شیئر کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔