پاکستان

دہشت گرد مسعود اظہر کا پاکستان نے نکالا ’وارنٹ‘، سر پر رکھا 70 لاکھ روپے کا انعام

2021 میں ایف آئی اے کی ’ریڈ بُک‘ میں مسعود اظہر کے سر پر 50 لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا تھا۔ تقریباً 5 سال بعد انعامی رقم میں 20 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

پاکستان نے جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر پر 70 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی ’ایف آئی اے‘ کے انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی ’ریڈ بُک‘ میں جیش کے سرغنہ پر انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستان نے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا ہے جب رواں سال اکتوبر میں پیرس واقع فائنینشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی میٹنگ ہونے والی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اس سے قبل بھی مسعود اظہر کے حوالے سے کارروائی کا دعویٰ کیا تھا۔ 2021 میں ایف آئی اے کی ’ریڈ بُک‘ میں اس کے سر پر 50 لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا تھا۔ تقریباً 5 سال بعد انعامی رقم میں 20 لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ مسعود اظہر پاکستان سے غائب ہو گیا ہے اور افغانستان میں ہے۔ گزشتہ 6 ماہ سے ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کے ٹیکنیکل انالسس میں سامنے آ رہا ہے کہ مسعود اظہر پاکستان کے ہی صوبہ سندھ کے نواب شاہ شہر میں چھپا ہوا ہے۔ ایف آئی اے کے انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی نئی اپ ڈیٹڈ فہرست میں 11/26 کے دہشت گردانہ حملے میں دہشت گردوں کی مدد کرنے، رقم فراہم کرنے اور کشتی چلانے والے 19 دہشت گردوں کے بھی نام ہیں، جس میں 17 دہشت گردوں کی تصاویر اور 11/26 میں ان کے کردار کا بھی ذکر ہے۔

حالانکہ 2 دہشت گردوں کی تصاویر، لشکر طیبہ کے ساتھ ان کے تعلقات اور 11/26 میں ان کے مکمل کردار کا ذکر پاکستان نے ہٹا دیا ہے اور صرف ان کے نام برقرار رکھے ہیں۔ تربت کے محمد خان جس نے دہشت گردوں کو ممبئی پہنچنے کے لیے الحسینی کشتی دی تھی اس کا نام تو ایف آئی اے نے اپنی نئی اپ ڈیٹڈ فہرست میں رکھا ہے، لیکن تصویر، لشکر کے ساتھ تعلق اور کردار کو ہٹا دیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے بہاول نگر کے رہنے والے لشکر طیبہ کے دہشت گرد عبد الرحمٰن کی بھی تصویر اور لشکر کے ساتھ اس کے تعلقات کو ایف آئی اے نے اپنی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔ 2021 میں ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں ان دونوں کی تصاویر اور کردار کا ذکر تھا۔

ایف آئی اے کی موجودہ فہرست میں 11/26 کے دہشت گردانہ حملے میں دہشت گردوں کو 2 کشتیوں الحسینی اور الفوج سے سمندر پار کروانے والے لشکر طیبہ کے 11 دہشت گردوں کے نام ہیں۔ ملتان کے رہنے والے محمد امجد خان، بہاول پور کے شاہد غفور، ساہیوال کے محمد عثمان، لاہور کے عتیق الرحمٰن، حافظ آباد کے ریاض احمد، گجرانوالہ کے محمد مشتاق، ڈیرہ غازی خان کے محمد نعیم، کراچی کے عبدالشکور، ملتان کے محمد صابر سلفی، لودھران کے محمد عثمان اور رحیم یار خان کے شکیل احمد کے نام ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ فہرست میں ان 6 دہشت گردوں کے نام بھی ہیں جنہوں نے 11/26 حملے میں پیسوں سے مدد کی تھی۔ ان میں فیصل آباد میں رہنے والے لشکر طیبہ کے دہشت گرد محمد افتخار علی کا نام ہے۔ افتخار علی نے دہشت گردوں کے ساتھ ان کے آقاؤں کی بات چیت کے لیے وی او آئی پی کنکشن کے لیے 70 ہزار پاکستانی روپے خرچ کیے تھے۔ راولپنڈی کے محمد ضیاء نے 80 ہزار روپے، کھانیوال کے محمد عباس ناصر نے 2 لاکھ 53 ہزار روپے، قصور کے جاوید اقبال نے ایک لاکھ 86 ہزار 430 روپے، منڈی بہاءالدین کے مختار احمد نے 2 لاکھ 98 ہزار 47 روپے اور بٹگرام کے احمد سعید نے دہشت گردانہ حملے کے لیے 21 لاکھ روپے دیے تھے۔ پاکستان کی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے مطابق 11/26 دہشت گردانہ حملے میں شامل یہ تمام 17 دہشت گرد 18 سال سے فرار ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔