پاکستان

سوشل ميڈيا کی طاقت: بیٹی پر تشدد کرنے والا شخص گرفتار

پاکستان ميں سوشل میڈیا پر ڈیرہ غازی خان کے ایک ایسے شخص کی ویڈیو وائرل ہو گئی تھی، جسے بظاہر اپنی بیٹی پر تشدد کرتے ہوئے ديکھا جا سکتا ہے۔ اس شخص کو پولس نے گرفتار کر لیا ہے۔

تصویر ڈی ڈبلیو
تصویر ڈی ڈبلیو 

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قائم اسٹریٹیجک ریفارمز یونٹ (ایس آر یو) کے سربراہ سلمان صوفی نے اس ویڈیو کے حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا ’’ٹوئٹر پر ایس آر یو کو یہ ویڈیو بھجوائی گئی تھی۔ جیسے ہی میں نے ویڈیو دیکھی تو میں نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے رابطہ کیا اور ٹوئٹر صارفین سے درخواست کی کہ اگر کسی کے پاس اس شخص سے متعلق معلومات ہیں، تو وہ ہم سے رابطہ کريں۔‘‘ صوفی بتاتے ہیں کہ اس کے بعد ٹوئٹر کے ایک صارف نے اس شخص سے متعلق انہيں معلومات فراہم کیں، جس کے بعد پولس سے رابطہ کیا گیا اور اس متعلقہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔

صوفی نے مزيد بتایا ’’اس  شخص نے اس لیے اپنی بیٹی پر سرعام تشدد کیا، کیوں کہ وہ جان گئی تھی کہ اس کے والد کے کسی خاتون کے ساتھ  تعلقات ہیں اور وہ اس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر رہی تھی۔‘‘ ان کے بقول اس شخص کی گرفتاری کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اسے خواتین پولس افسران عدالت لے کر جائیں گی۔

Published: 30 May 2018, 8:43 AM IST

اسٹریٹیجک ریفارمز یونٹ کے سربراہ نے کہا کہ اس شخص کی گرفتاری ’ویمن پروٹیکشن بل‘ کے تحت ممکن ہوئی۔ ادارے نے اے آئی جی جینڈر کرائم سے رابطہ کیا جس کے بعد آر پی او اور ڈی جی خان پولس کی مدد سے ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ حکومت پنجاب کا اسٹریٹیجک ریفارمز یونٹ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والے سينٹرز چلا رہا ہے، جو عدالتی کارروائیوں اور گرفتاریوں کو ممکن بناتے ہیں۔

ملزم کی گرفتاری کی تصویر شیئر کرتے ہوئے انٹرنیٹ حقوق کے لیے کام کرنے والی سر گرم کارکن نکہت داد نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا، ’’اس شخص کی اپنی بیٹی کو مارنے والی ویڈیو وائرل ہو گئی تھی، خواتین پولس اہلکار اسے عدالت لے کر جا رہی ہیں۔ اس تصویر سے زیادہ طاقت ور اور کیا ہوسکتا ہے۔ یہ سوشل میڈیا کی طاقت ہے۔‘‘

انسانی حقوق کے ليے سرگرم کارکن جبران ناصر نے بھی اس ویڈیو کوسوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے حکومت پنجاب کے ایس آر یو ادارے کی تعریف کی۔

Published: 30 May 2018, 8:43 AM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 30 May 2018, 8:43 AM IST