
عمران خان، تصویر آئی اے این ایس
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور اپوزیشن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ دراصل جمائما کے دو بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان دو ماہ سے زائد عرصہ قبل درخواست دینے کے باوجود اپنے والد عمران خان سے ملنے کے لیے ویزا نہیں لے پارہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تفصیلی پوسٹ میں جمائما گولڈ اسمتھ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹوں نے جنوری میں ویزا کی درخواستیں جمع کی تھی، اس کے باوجود پاکستان قونصلیٹ نے ان پر کارروائی نہیں کی جبکہ آن لائن ویزٓ کے لیے آفیشل ٹائم لائن 7 سے 10 کام کے دن بتائی گئی ہے۔
Published: undefined
جمائما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ یہ تاخیر خاص طور پر پریشان کرنے والی تھی کیونکہ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اعظم کے ترجمان مشرف زیدی دونوں نے عالمی میڈیا کوعوامی طور پر یقین دلایا تھا کہ عمران خان کے بیٹے 4 سال بعد بحفاظت پاکستان واپس جاسکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لڑکوں کو اپنے والد سے فون پر بات کرنے یا انہیں خط بھیجنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور 2022 کے بعد سے جب وہ ایک قاتلانہ حملے میں بچ گئے تھے، انہیں نہیں دیکھا ہے۔
Published: undefined
گولڈ اسمتھ نے اپنی اپیل میں کہا کہ عمران خان کی بگڑتی ہوئی صحت کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ انہیں ’ جتنی جلدی ہوسکے‘ پی ٹی آئی کے سربراہ سے ملاقات کی اجازت دے۔ انہوں نے کہا کہ حکام کی طویل خاموشی نے خاندان کو بے یقینی کی کیفیت میں ڈال دیا ہے جبکہ بار بار یقین دہانی کرائی گئی تھی عمران خان کے بیٹوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔
Published: undefined
اس مسئلے نے عمران خان کے حامیوں اور انسانی حقوق کے گروپوں کے درمیان ان کی حراست کی شرائط اور ان کے خاندان اور قانونی ٹیم کے ساتھ بات چیت پر لگائی گئی پابندیوں کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کو مزید ہوا دی ہے۔ عمران خان 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں بدعنوانی اور خفیہ دستاویزات کو سنبھالنے سمیت کئی مقدمات میں سزا سنائی گئی ہے۔ ان کی جماعت ’پی ٹی آئی‘ نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ یہ مقدمات سیاسے سے متاثر ہیں اور ان کا مقصد خان کو سیاسی منظر سے ہٹانا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined