
تصویر سوشل میڈیا
پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد واقع ایک مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران زوردار دھماکہ سے پورے علاقہ میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ معاملہ ترائی علاقہ واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ کا ہے، جہاں دھماکہ کے بعد افرا تفری پھیل گئی۔ اس حادثہ کی خبر ملتے ہی پولیس اور راحت و بچاؤ کاری ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں۔ فوری طور پر انھوں نے زخمیوں کو اسپتال پہنچانا شروع کیا اور راحت رسانی کے دیگر عمل شروع ہو گئے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق دھماکہ جمعہ کی نماز کے دوران ہوا جس میں کم و بیش 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ابتدائی رپورٹس میں 15 ہلاکتوں کی اطلاع موصول ہوئی تھی، لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس دھماکہ میں 150 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی ہے، جن میں کئی کی حالت سنگین بتائی جا رہی ہے۔
Published: undefined
افسران کا کہنا ہے کہ تشویش ناک حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پورے شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے امام بارگاہ اور آس پاس کے علاقے کو گھیر لیا ہے اور کسی بھی انہونی سے بچنے کے لیے سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ دھماکہ کی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ جانچ ایجنسیوں نے تفتیش شروع کر دی ہے اور ثبوتوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں خودکش حملہ کی بات کہی گئی ہے، حالانکہ اس بارے میں مصدقہ طور پر فی الحال کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور کو دیکھ لیا گیا تھا اور جب اسے پکڑنے کی کوشش کی گئی تو اس نے خود کو دھماکہ سے اڑا لیا۔
Published: undefined
پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا ’ڈان نیوز‘ کے مطابق یہ دھماکہ اسلام آباد کے شہزاد ٹاؤں علاقہ میں موجود ترلائی امام باڑا واقع مسجد میں ہوا۔ یہ ایک شیعہ مسجد بتائی جا رہی ہے، جس کو سیکورٹی ایجنسیوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ زور دار تھا اور کئی لوگ اپنی جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگتے دکھائی دیے۔ اس حادثہ کے بعد کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سامنے آئی ہیں، جن میں کچھ لوگ زمین پر بے سُدھ پڑے دکھائی دے رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined