
کل، یعنی 14 اگست کو پاکستان نے اپنا 80واں یوم آزادی منایا، جہاں یوم آزادی کی تقریبات میں کافی بدنظمی دیکھی گئی۔ تقریبات کی ایسی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں جسے دیکھ کر پاکستان کے ہی لوگ اسے ’جشن آزادی‘ نہیں، بلکہ ’جشن جہالت‘ کہہ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کی ایسی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں، جہاں لوگ زبردست ہنگامہ کرتے نظر آرہے ہیں۔ یوم آزادی کا جشن منانے کی بھی ایک شان ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں کئی مقامات پر یہ جشن مذاق بن گیا۔ آئیے ایسی ہی کچھ ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ ’انسٹاگرام‘ پر کئی پاکستانی یوزرس نے کیک کاٹنے کی ویڈیوز شیئر کی ہیں۔ عبداللہ نواب نام کے یوزر نے ایک ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے ’’پاکستان زندہ باد۔‘‘ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو لاہور کی ہے۔ دراصل پاکستان میں گزشتہ چند برسوں سے پاکستانی پرچم کی تھیم والے کیک کاٹنے کی روایت دیکھی گئی ہے۔
دراصل کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت کئی بڑے شہروں میں یوم آزادی کے موقع پر بڑے بڑے کیک کاٹے گئے۔ لاہور کی مشہور لبرٹی مارکیٹ میں بھی سبز اور سفید پرچم کی تھیم پر ایک بہت بڑا کیک کاٹا گیا، لیکن کیک کٹتے ہی جو منظر سامنے آیا، اس نے اسے وائرل کر دیا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیک کاٹنے سے پہلے ہی وہاں بڑی بھیڑ جمع تھی۔ جیسے ہی کیک کاٹا گیا، لوگ ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہوئے کیک لوٹنے کے لیے ٹوٹ پڑے۔ اس کے علاوہ پشاور سے بھی ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ آزادی کے جشن کے دوران وہاں 2 گروپوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا اور لوگ ایک دوسرے پر بوتلیں پھینکتے نظر آئے۔
کچھ معاملات میں لاہور بمقابلہ پشاور کی بحث بھی دیکھنے کو ملی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ لاہور کے لوگ زیادہ ڈسپلن میں رہتے ہیں، جبکہ پشاور میں ایسا ہوتا ہے۔ وہیں پشاور کے لوگ بھی کیک کاٹنے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لاہور پر سوال اٹھاتے نظر آئے۔ ان ویڈیوز کے وائرل ہوتے ہی یوزرس نے تبصروں کی جھڑی لگا دی۔ کچھ نے کہا کہ پاکستان کے لوگ واقعی آزاد ہیں، قانون اور ڈسپلن سب سے پیچھے ہیں۔ وہیں ایک پاکستانی یوزر نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اچھا بھلا برطانوی راج چل رہا تھا، پھر وہ چلے گئے اور یہ ہو گیا ملک کا حال۔‘‘ کچھ یوزرس نے ان واقعات کو ’سیوک سینس‘ کی کمی قرار دیا، تو کسی نے اسے پاکستان کی ڈگمگاتی معاشی حالت سے جوڑ کر دیکھا۔ کچھ یوزرس نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر پر بھی طنز کیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔