
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف
پاکستان میں تیل کے بحران پر وزیر اعظم شہباز شریف نے ایندھن الاؤنسز میں تخفیف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قوم کو خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ پورا خطہ تنازعات کی زد میں ہے اور ہم اس سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر ہفتے میں صرف 4 دن کھلیں گے اور 50 فیصد ملازمین گھر سے کام کریں گے۔ تاہم اس فیصلے کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ اسکولوں کو دو ہفتوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
Published: undefined
پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے عالمی ایندھن بحران سے نمٹنے کے لیے یہ فیصلے ضروری تھے۔ پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے اور ہم اس بحران کو کم کرنے کے لیے سیاسی کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان کی مغربی سرحدوں (افغانستان پارڈر) پر سیکیورٹی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے، ہماری مسلح افواج اس صورت حال سے موثر انداز میں نمٹ رہی ہیں۔
Published: undefined
امریکی صدر ٹرمپ کی اکثر تعریفیں کرنے والے شہباز شریف مشرق وسطیٰ کی جنگ میں بُری طرح پھنس گئے ہیں۔ اس وقت انہیں ایران اور خلیجی ممالک کسی طرح خاطر میں نہیں لارہے ہیں اس کے باوجود شہباز شریف اپنے بیانات کے ذریعہ سرخیوں میں رہنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پاکستانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے دوست ممالک کے رہنماؤں سے اس جنگ پر تبادلہ خیال کیا اور انہیں یقین دلایا ہے کہ پاکستان اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔ میں نے دوست خلیجی ممالک پر جوابی حملوں کی مذمت کی۔
Published: undefined
شہباز شریف نے مزید کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت اچانک تقریباً 60 ڈالر سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان خلیجی ممالک سے تیل اور گیس کی سپلائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ حکومت نے صورتحال کو سنبھالنے اور توانائی کے بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سخت فیصلے کیے ہیں۔ ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ حکومت اگلے دو ماہ کے لیے سرکاری محکموں کے ذریعہ استعمال کی جانے والی گاڑیوں کے لیے ایندھن منظوری میں 50 فیصد کی کمی کرے گی۔
Published: undefined
شہباز شریف نے مزید کہا کہ ایندھن کی بچت میں مدد کے لیے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیاں دو ماہ تک سڑکوں سے دور رہیں گی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومتی وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی کو اگلے دو ماہ تک تنخواہیں نہیں ملیں گی جبکہ قانون سازوں کو اسی عرصے کے دوران تنخواہوں میں 25 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Published: undefined
وزیراعظم نے ملک کے لیے ضروری سمجھے جانے والے معاملات کے علاوہ وفاقی اور صوبائی وزراء، مشیروں، معاونین خصوصی اور سرکاری افسران کے غیر ملکی سفر پر پابندی کا بھی اعلان کیا۔ شہباز شریف نے سرکاری عشائیے اور افطار پارٹیوں پر مکمل پابندی لگادی ہے جب کہ اخراجات کم کرنے کے لیے سیمینار اور سرکاری تقریبات صرف سرکاری مقامات پر ہی منعقد کی جائیں گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined