
تصویر سوشل میڈیا
پاکستان میں ایک اسکول کی چھت منہدم ہونے سے کم از کم 28 طلبا کی موت ہو گئی ہے۔ یہ افسوسناک حادثہ خیبر پختونخوا کی راجدھانی پیشاور میں پیش آیا، جہاں ہلاک ہونے والے سبھی بچوں کی عمر 13 سال سے کم بتائی جا رہی ہے۔ حادثہ میں ایک خاتون ٹیچر کی بھی جان چلی گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس حادثہ کی وجہ سے کم از کم 25 بچے بری طرح زخمی بھی ہوئے ہیں۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں مقامی پولیس کے حوالہ سے بتایا جا رہا ہے کہ جس وقت اسکول کی چھت گری، اس وقت تقریباً 110 بچے زیر تعلیم تھے۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ بچے اب بھی ملبوں میں دبے ہو سکتے ہیں۔
’جیو نیوز‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیشاور واقع دیر کالونی میں موجود ایک اسکول کی چھت اچانک گر گئی، جس کی وجہ سے درجنوں بچے ملبہ میں دب گئے۔ ریسکیو کے دوران ہی کئی بچوں کی موت ہو گئی، جبکہ زخمی بچوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملبہ ابھی پوری طرح ہٹایا نہیں جا سکا ہے اور کوشش ہے کہ اگر مزید کوئی بچہ ملبہ میں دبا ہے تو اسے نکالا جائے۔
حادثہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مقامی انتظامیہ نے راحت و بچاؤ کاری کے لیے فوج کو طلب کر لیا ہے۔ فوج کے جوان ملبہ ہٹا کر بچوں کو باہر نکالنے میں مصروف ہیں۔ جائے حادثہ سے سامنے آئی تصویروں میں اسکول کی عمارت کافی پرانی دکھائی دے رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 3 منزلہ یہ اسکول مٹی اور لکڑی سے بنا ہوا تھا۔ پیشاور کے پولیس افسر سی سی پی او میاں سعید کے مطابق اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ چھت گرنے کے واقعہ کی جانچ کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ رپورٹ آنے کے بعد اس معاملے پر سخت ایکشن لیے جانے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔