
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال (فائل) / آئی اے این ایس
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (پی او کے) میں حالات بہت زیادہ خراب ہیں، وہاں عوام کے ساتھ ظلم و جبر کی انتہا کی جا رہی ہے۔ ہندوستان بھی پاکستان کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے فکر مند ہے اور پاکستان پر سخت تنقید کی ہے۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ جون سے لے کر اب تک 90 افراد کی جان جا چکی ہے، اور مقامی انتخاب محض دکھاوا ہے۔ یہ بیان قومی راجدھانی دہلی میں ہر 2 ہفتے میں ہونے والی پریس کانفرنس میں وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ عوام پر ہو رہے مظالم کے خلاف پاکستانی حکومت کو ذمہ دار قرار دیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس سال جون سے اب تک 90 لوگوں کی جان جا چکی ہے، کیوں کہ پاکستانی حکومت مقامی لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستانی حکومت نے عوام کی ناراضگی کا جواب گولیوں، بلیک آؤٹ، خوف پھیلانے اور آواز دبانے سے دیا ہے۔‘‘
ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ہوئے حالیہ مقامی انتخاب پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’انتخاب کے ذریعہ زمینی حقیقت کی پردہ پوشی نہیں کی جاسکتی ہے۔ انتخاب کرانا محض نمائش اور مذاق ہے۔ سچائی یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے ذریعہ عوام کا قتل کیا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’پاکستان کو اس ظلم کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے اور دنیا کے سامنے انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالے سے پاکستان کا دکھاوا ظاہر کرنا چاہئے۔‘‘ انہوں نے پاکستان پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ پاکستانی ایجنسیوں نے عوام کے غصے کا جواب اندھا دھند فائرنگ، بجلی کی بندش، دھمکی اور جبر سے دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نام نہاد بلدیاتی انتخابات کے درمیان مظاہروں کی قیادت کر رہی ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں راولاکوٹ سے مظفر آباد تک جے اے اے سی کے احتجاجی مظاہرے کے دوران پاکستانی فوج نے عوام پر اپنی طاقت کا استعمال کیا تھا۔ جس میں 40 افراد کی موت ہوئی تھی اور 33 افراد زخمی ہوئے تھے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے مظاہرین اور طلباء لیڈر کو حراست میں بھی لیا تھا۔ اس درمیان میں انسانی حقوق اور آزادی صحافت کی تنظیموں بشمول ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ اور ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ (سی پی جے ایشیا) نے پی او کے میں مظاہروں کے ارد گرد مبینہ حکومتی تشدد کی مذمت کی ہے اور افسوس کا اظہار کیا۔ صحافیوں کی جبری گمشدگی، غیر ملکی میڈیا آؤٹ لیٹس پر پابندیوں اور انٹرنیٹ کی بندش پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔