
کیپٹن اسمت مچھار، تصویر ’ایکس‘ @SuvenduWB
گزشتہ روز دبئی سے اسرائیل جا رہے ایک طیارہ کو یرغمال بنانے کی کوشش ہوئی اور 9/11 جیسے حملے کے خدشہ سے خوف کا ماحول پیدا ہو گیا۔ ’فلائی دبئی‘ کی فلائٹ میں معاون پائلٹ نے ہندوستانی پائلٹ کیپٹن اسمت مچھار پر چاقو سے حملہ کر دیا، اور طیارہ ہزاروں فٹ نیچے آگیا۔ زخمی ہاتھوں اور سر سے بہتے خون کے باوجود انہوں نے ایسا فیصلہ لیا، جس سے کم و بیش 180 زندگیاں بچ گئیں۔ اس پورے معاملے میں کچھ انتہائی اہم باتیں آپ کو ضرور جاننی چاہئیں...
’فلائی دبئی‘ کی فلائٹ میں عمانی معاون پائلٹ نے ہندوستانی کیپٹن پر چاقو سے حملہ کیا۔
30 سیکنڈ میں طیارہ 14000 سے 17000 فٹ تک نیچے آگیا۔ مسافر ہوا میں اچھل گئے۔
زخمی حالت میں کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھولا۔
3 اسرائیلی مسافروں نے حملہ آور کو قابو میں کیا۔ 20 سے 25 منٹ تک جدوجہد جاری رہی۔
طیارے میں موجود آف ڈیوٹی 2 پائلٹوں نے طیارے کی محفوظ لینڈنگ کرائی۔
174 مسافر محفوظ رہے۔ ان میں 27 بچے بھی شامل ہیں۔
دبئی سے اسرائیل جا رہی فلائٹ میں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ پرواز کو تقریباً 2 گھنٹے ہو چکے تھے۔ تبھی عمانی معاون پائلٹ نے اچانک کپتان اسمت پر چاقو سے حملہ کر دیا اور طیارے کے سسٹم کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ حملے کے ساتھ ہی طیارہ نیچے آگیا۔ مسافر ہوا میں اچھلنے لگے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمانی پائلٹ کا ارادہ طیارے کو ہائی جیک کرکے کہیں تباہ کرنے کا تھا۔ اسرائیلی مسافر تزویقا مینس کی اہلیہ اس وقت اپنی چھوٹی بیٹی کو واش روم لے جا رہی تھیں۔ تبھی انہیں کاک پٹ سے چیخنے اور جدوجہد کی آوازیں سنائی دیں۔ انہوں نے فوراً ایک فلائٹ اٹینڈنٹ کو خبردار کیا۔ اسی وقت کاک پٹ کا دروازہ کھلا اور خون میں لت پت کپتان اسمت باہر گر پڑے۔ معاون پائلٹ انہیں چاقو مار رہا تھا۔
فلائٹ میں موجود ایک واحد ڈاکٹر موسیوف نے کاک پٹ میں جو نظارہ دیکھا وہ بہت ہی خطرناک تھا۔ انہوں نے ’دی ٹائمس آف اسرائیل‘ کو بتایا کہ جب میں کاک پٹ میں پہنچا تو ہندوستانی پائلٹ شدید زخمی تھا، اور سر سے کافی خون بہہ رہا تھا اور ہاتھ بھی کٹ گئے تھے۔ آخر کار میں نے خون روکا اور ان کا بلڈ پریشر مستحکم کیا۔ اسی دوران خون میں لت پت لیٹے ہوئے کپتان اسمت ہوش میں تھے اور بات کر رہے تھے۔ ڈینٹسٹ موسیوف نے بتایا کہ پائلٹ ہم سے بات کر رہے تھے اور بولا کہ میری عمر 39 سال ہے اور میرے دو بچے ہیں۔ حملہ آور نے اسے چاقو مارا تھا اور گالیاں دی تھیں۔
یہ وہ لمحہ تھا جو ہوا بازی کی تاریخ میں درج ہو گیا۔ خون میں لت پت زمین پر گرے ہوئے شدید زخمی کپتان اسمت نے اپنی آخری طاقت جمع کی اور کاک پٹ کے دروازے کا ریلیز بٹن دبا دیا۔ اس سے دروازہ کھل گیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ترجمان ڈورون اسپیل مین نے بتایا کہ یہی وہ قدم تھا، جس نے سب کچھ بدل دیا۔ آخری وقت میں انہوں نے جس طاقت کا مظاہرہ کیا، اس سے مسافر اور عملے کے ارکان اندر داخل ہو سکے اور معاون پائلٹ کو قابو کیا جا سکا۔ سوشل میڈیا یوزر ثناء ابراہیمی نے جن کے شوہر خود پائلٹ ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ پائلٹ کے پاس ایک سوئچ ہوتا ہے، جو کاک پٹ کا دروازہ اندر سے کھول دیتا ہے۔ کپتان اسمت نے صرف چیخ کر مدد نہیں مانگی۔ انہوں نے گرنے سے پہلے وہ سوئچ دبایا، تاکہ عملے کے ارکان اور مسافر اندر آسکیں۔ اگر دروازہ بند رہتا تو کوئی اس طیارے کو نہیں بچا سکتا تھا۔
تزویقا مینس نے اپنی بیٹی کو باتھ روم سے باہر نکالا اور حملہ آور سے مقابلہ کرنے کے لیے کاک پٹ کی طرف دوڑے۔ دو اور اسرائیلی مسافر بھی ان کے ساتھ گئے۔ اسرائیلی مسافر یانیو ہایون نے بتایا کہ جب میں اندر گیا تو دیکھا کہ حملہ آور دونوں نشستوں کے درمیان کھڑا ہو کر کنٹرول سنبھالے ہوئے تھا۔ پائلٹ کی نشست پر کوئی نہیں تھا۔ میں نے اسے پکڑا اور پہلے باہر کھینچ لیا۔ ہایون نے اسٹیئرنگ وہیل تھام کر طیارے کو اوپر کھینچا۔ حملہ آور کو قابو کرنے میں 20 سے 25 منٹ لگے۔ تینوں اسرائیلی مسافروں نے تار والے ہیڈ فون سے اسے باندھ دیا۔ یہ ان کی ایک اور غیر معمولی مثال تھی۔ طیارے میں موجود مایا پیریٹز نے بتایا کہ کچھ مسافر اس حملہ آور کو طیارے سے باہر پھینکنے کے لیے تیار تھے۔ لیکن کپتان اسمت اور ہم میں سے کچھ مسافروں نے کہا کہ اسے ہاتھ نہ لگائیں، افسران کو اپنا کام کرنے دیں۔ جب مسافروں اور عملے نے کو پائلٹ کو قابو میں کیا، تب فلائٹ میں موجود 2 آف ڈیوٹی پائلٹوں نے طیارے کو سعودی عرب کے تبوک میں محفوظ طریقے سے لینڈ کرایا۔ اسرائیلی افسران کے مطابق 174 مسافر اور عملے کے سبھی اراکین محفوظ ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔