
علامتی تصویر
امریکہ نے برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس سے اپنے تمام بمبار طیارے واپس بلا لیے ہیں۔ اس ایئربیس کا استعمال امریکی فوج نے ایران پر حملے کے لیے کیا تھا۔ امریکہ نے یہ فیصلہ برطانیہ میں اس ایئربیس پر دہشت گردانہ حملے کی سازش کی تحقیقات کے درمیان لیا ہے۔ پینٹاگون کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی بمبار طیاروں کو واپس امریکہ میں ان کے فوجی اڈوں پر بھیج دیا گیا ہے۔ ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ اطلاع دی۔
ملٹری ایئر ٹریکنگ الائنس جیسے طیاروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے گروپوں نے ایران جنگ شروع ہونے کے ابتدائی دنوں سے آر اے ایف فیئر فورڈ پر درجنوں بی-52 اور بی-1 بمبار طیاروں کو دیکھا تھا۔ اتوار کو بھی کئی بی-1 بمبار طیاروں نے اس ایئربیس سے پرواز کی۔ آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس لندن سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ امریکہ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں اس ایئربیس کا استعمال کرتا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتہ دوہری برطانوی-ایرانی شہریت رکھنے والے ایک شخص کو لندن میں دہشت گردانہ حملے کی سازش تیار کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ستمبر کے آخر میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس پر سیکورٹی سے متعلق ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ اس معاملے میں مجموعی طور پر 6 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ بعد میں سبھی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
برطانوی حکام نے اس واقعہ کے تار ایران سے جڑے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ تاہم، ایران نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ ایران پہلے کہہ چکا ہے کہ اس کے علاقے پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی فوجی اڈہ اس کے لیے جائز ہدف ہے۔ برطانوی حکام کا الزام ہے کہ ایران سے وابستہ تنظیمیں برطانیہ اور دیگر ممالک میں آتش زنی اور حملے کر رہی ہیں۔ ان میں کئی حملے یہودی برادری کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔ ان کا مقصد لوگوں میں خوف پھیلانا تھا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر نئے حملے کرنے سمیت کئی متبادل اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ ہفتہ کے روز وائٹ ہاؤس سے اوہیو میں ریلی کے لیے روانہ ہوتے وقت انہوں نے کہا کہ ایران مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اب فیصلہ کرنا ہے کہ ایران کے ساتھ آسان راستہ اختیار کیا جائے یا سخت قدم اٹھایا جائے۔ ٹرمپ نے ابتدا میں امریکی عوام سے کہا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی صرف چند ہفتوں تک چلے گی۔
دوسری جانب، امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے۔ جمعرات کو ایک امریکی عہدیدار نے بتایا تھا کہ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ طیارہ بردار جہاز اور یو ایس ایس میکن آئی لینڈ کی قیادت میں جنگی جہازوں کا ایک گروپ اس خطے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس گروپ میں 7,000 سے زیادہ بحری اہلکار اور 2,000 میرینز شامل ہیں۔ اکتوبر کے آخر تک مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے 3 طیارہ بردار جہاز تعینات ہو سکتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔