
ایران و امریکہ
تصویر آئی اے این ایس
امریکہ اور ایران کے مابین جنگ جاری ہے، اور اس کشیدگی کے درمیان اب امریکی افواج کی تیاریوں پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کے فوجی اہداف ابھی مکمل نہیں ہوئے ہیں۔ امریکی اخبار ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ اور ’دی ٹیلی گراف‘ کی رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر سکتا ہے، لیکن اس کے پاس میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کا ذخیرہ کم ہو رہا ہے۔ ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ سے گفتگو میں ایران تنازعہ سے وابستہ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ ایک وسیع جنگ کی تیاری کر رہا ہے، لیکن موجودہ ہتھیاروں کے ساتھ طویل مدت تک فوجی مہم کو محفوظ طریقے سے جاری رکھنا مشکل ہے۔ عہدیدار کا دعویٰ ہے کہ ممکن ہے وائٹ ہاؤس کو ایسی صورت حال کی معلومات نہ ہو۔ جب کہ وائٹ ہاؤس نے اس نوعیت کے دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس صدر ٹرمپ کے تمام اسٹریٹجک اہداف کو پورا کرنے کے لیے کافی ہتھیار موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر امریکہ اپنے فوجی آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کرتا ہے، تو اسے فضائی دفاعی انٹرسیپٹر میزائلوں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست ہدف والے ہتھیاروں اور دیگر فوجی وسائل کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حالیہ فوجی کارروائیوں میں ہونے والے نقصانات کے بعد بڑی تعداد میں اضافی فوج، جنگی طیاروں اور فوجی ساز و سامان کو تیزی سے تعینات کرنا بھی، امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ واشنگٹن میں قائم ’سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘ (سی ایس آئی ایس) کے دفاع اور حفاظتی پروگرام کے سربراہ سیٹھ جونز نے بھی ان خدشات کو درست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو امریکی فوج مکمل طور پر تیار نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خلیج فارس کی آبی گزرگاہ کے جزیروں یا ساحلی علاقوں میں زمینی فوج بھیجنا ایک بڑی تزویراتی غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف زمینی فوج بھیجنے کے امکانات سے بھی انکار نہیں کیا ہے۔ ’دی ٹیلی گراف‘ کی رپورٹ میں کیے گئے دعوے کے مطابق پینٹاگون کے حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ کئی افسران حقیقی صورتِ حال اعلیٰ حکام تک پہنچانے سے گریز کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے کئی سینئر فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹائے جانے کی وجہ سے افسران میں خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ ایک عہدیدار نے دی ٹیلی گراف سے کہا کہ ’’بری خبر یا سچائی بتانا کسی کے لیے بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔‘‘ ایک دوسرے عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ’’اسی ماحول کی وجہ سے ہتھیاروں کے حقیقی ذخیرے سے متعلق صحیح معلومات پینٹاگون کی اعلیٰ قیادت اور وائٹ ہاؤس تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔
اس دوران ’رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ‘ (آر یو ایس آئی) کی مارچ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ تنازعہ کے ابتدائی 16 دنوں میں امریکہ اور اس کے اتحادی 11 ہزار سے زائد ہتھیار اور میزائل استعمال کر چکے تھے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر اسی رفتار سے فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو بعض اہم میزائلوں کے ذخائر چند ہی ہفتوں میں ختم ہو سکتے ہیں۔ حالیہ فوجی کارروائیوں میں تھاڈ انٹرسیپٹر، پیٹریاٹ پی اے سی-3 میزائلیں اور ٹاماہاک کروز میزائلوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے، جس سے ان کے ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے۔ لیکن وائٹ ہاؤس نے ان سبھی دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تمام تزویراتی اہداف کو پورا کرنے اور آگے کے لیے بھی کافی ہتھیار، گولہ بارود اور فوجی ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے ہتھیاروں کی کمی سے متعلق تمام رپورٹوں کو غلط قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔