
علی رضا اعرافی / تصویر بشکریہ ایکس
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد سینئر مذہبی رہنما آیت اللہ علیرضا اعرافی کو عبوری سپریم لیڈر بنا دیا گیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایسنا‘ نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔ اعرافی اب عارضی قیادت کونسل کا حصہ ہیں اور نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک ملک کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ ایران کے قوانین کے مطابق اس عبوری کونسل میں صدر مسعود پیزشکیان، چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایژئی اور گارڈین کونسل کا ایک مذہبی رہنما شامل ہوتا ہے۔ تبدیلی کے اس وقت میں یہ تینوں مل کر ملک چلائیں گے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ 86 سالہ خامنہ ای ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل کے بڑے فوجی حملے میں مارے گئے۔ اس حملے میں کئی فوجی ٹھکانوں اور اعلیٰ حکام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) کے سربراہ جنرل محمد پاکپور بھی ہفتے کو اسرائیل اور امریکہ کے حملے میں جاں باحق ہو گئے۔ اس کے بعد ایران نے احمد وحیدی کو آئی آر جی سی کا نیا چیف مقرر کیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وحیدی اب اس طاقتور فوجی دستے کی کمان سنبھالیں گے۔
Published: undefined
علیرضا اعرافی 1959 میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایران کے شہر یزد کے رہنے والے ایک بڑے مذہبی رہنما ہیں۔ اعرافی کو ’آیت اللہ‘ کا لقب حاصل ہے، جو شیعہ مذہبی رہنماؤں کو دیا جانے والا ایک اعلیٰ ترین اعزاز ہے۔ ایران میں سپریم لیڈر بننے کے لیے عام طور پر ’آیت اللہ‘ ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اعرافی اس سے قبل المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سربراہ (وائس چانسلر) رہ چکے ہیں۔ وہ شہر میبد میں نماز جمعہ کے امام بھی رہے ہیں اور 2013 سے وہ شہر قم میں نماز جمعہ پڑھا رہے ہیں۔ 2019 میں وہ گارڈین کونسل کے رکن بنے۔
Published: undefined
67 سالہ علیرضا اعرافی، آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔ اعرافی اس سے قبل گارڈین کونسل کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ یہ ادارہ الیکشن لڑنے والے امیدواروں کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کا جائزہ لیتا ہے۔ وہ ایران کے مذہبی تعلیمی نظام کے سربراہ بھی ہیں، اسی لیے ملک کے مذہبی ڈھانچے میں ان کا بڑا اثر و رسوخ مانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ثقافتی انقلاب کی اعلیٰ کونسل اور مذہبی مدارس کے انتظام و انصرام سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں مذہبی اور سیاسی امور کا وسیع تجربہ ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ علیرضا عارفی نے تہران سے ماہرین اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لیا، لیکن ہار گئے۔ بعد میں 2021 میں وہ اس ادارے کے رکن منتخب ہو گئے۔ مانا جاتا ہے کہ جہاں خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ زیادہ روایتی سوچ رکھتے ہیں، وہیں اعرافی نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہبی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ اسلامی تہذیب کو آگے بڑھایا جا سکے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined