
شدید زلزلے کے بعد وینزویلا میں تباہی کا منظر، تصویر/آئی اے این ایس
نیشنل اسمبلی کے صدر جارج روڈرگز نے کہا کہ وینزویلا میں 24 جون کو آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 4333 ہو گئی ہے۔ جبکہ امدادی کاموں میں مدد کے لیے ہزاروں افراد سامنے آ رہے ہیں۔ روڈرگز نے ہفتہ کے روز کہا کہ 16740 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 6462 افراد محفوظ ہیں۔ حکام نے 18000 سے زائد افراد کے لیے 94 عارضی کیمپ قائم لگائے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی ’سنہوا‘ کے مطابق انہوں نے کہا کہ آفات کی اس مشکل گھڑی میں متاثرین کی مدد کے لیے تقریباً 30000 رضاکار سامنے آئے ہیں اور حکومت نے انہیں مکانات کی تعمیر اور مرمت کے کاموں میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔
روڈرگز نے کہا کہ چونکہ کئی خاندان بے گھر ہو چکے ہیں، جس کے مدنظر حکومت نے ایک متحدہ ہاؤسنگ رجسٹری شروع کی ہے، جو مردم شماری اور زلزلہ متاثرین کو حکومتی ہدایات کے تحت دی جانے والی مالی امداد کے لیے ایک ڈاٹا بیس کا کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان لوگوں کو گھر فراہم کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جنہوں نے اپنے مکانات ہمیشہ کے لیے کھو دیے ہیں اور جن گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے، ان کی مرمت کی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حکومت مکانات کی تعمیر مکمل ہونے تک ’ سنگل فیملی ٹرانزیشنل ہاؤسنگ ‘ کیمپ قائم کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔ حکومت ’ نیشنل اسمبلی رینٹل لا‘ کے قانون میں اصلاحات اور زلزلہ متاثرہ کنبوں کو گھر خریدنے میں مدد دینے کے لیے قرض اور سبسڈی کے نظام کو فروغ دینے کی سمت میں بھی پیش رفت کرے گی۔ امریکہ اور دیگر ممالک کی اقتصادی پابندیوں کے سبب بیرون ملک میں جمع وینزویلا کے فنڈز کے متعلق روڈرگز نے کہا کہ کارگزار صدر ڈیلسی روڈرگز نے مختلف حکومتوں کو خطوط لکھ کر ان اثاثوں کو جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔
اس دوران وینزویلا کی کارگزار صدر ڈیلسی روڈرگز نے حالیہ زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے 28 ممالک کی جانب سے فراہم کی گئی امداد پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یہ بات کاراکاس میں ’امدادی سامان جمع کرنے کا مرکز‘ کا معائنہ کرنے کے بعد کہی، جہاں 24 جون کے زلزلے کے متاثرین کے لیے قائم عارضی امدادی کیمپوں میں تقسیم کے لیے 2000 ٹن سے زائد بین الاقوامی امدادی سامان کو الگ الگ اور منظم کیا جا رہا ہے۔ روڈرگز نے کہا کہ ’’وینزویلا ان ممالک، دنیا کے عوام اور دنیا کی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے نہیں تھکتا، جنہوں نے مدد کی پیشکش کی ہے۔ ہر ملک یہ دیکھ سکے گا کہ اس کی امداد کو کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاکہ وینزویلا کے عوام اس ملک کی دوستانہ مدد کو محسوس کر سکیں۔‘‘ روڈرگز نے مزید کہا کہ ’’اس سانحے پر عالمی برادری کے ردعمل کے لیے ہم شکر گزار ہیں۔ وینزویلا جانتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ اب سب سے اہم بات مستقبل کی طرف دیکھنا ہے، اب ہم کیسے بہتر ہوں گے اور متاثرہ علاقوں کی دوبارہ تعمیر کیسے کریں گے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔