دیگر ممالک

امریکہ نے طیارہ بردار بحری بیڑے کی طرف پرواز کرنے والے ایرانی ڈرون کو مار گرایا

ایرانی ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد بات کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ٹرمپ ہمیشہ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویرآئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویرآئی اے این ایس

 

ایک امریکی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ ایک ایرانی ڈرون کو اس وقت مار گرایا گیا جب وہ منگل کو بحیرہ عرب میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے "جارحانہ انداز میں" قریب پہنچا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے بتایا کہ ایک F-35C اسٹیلتھ لڑاکا طیارے نے جس نےیو ایس ایس ابراہم لنکن جنگی جہاز سے اڑان بھری تھی اوراس نے طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کے اہلکاروں کی حفاظت کے لیے ڈرون کو "اپنے دفاع میں" مار گرایا۔

Published: undefined

جہاز ایرانی ساحل سے تقریباً 500 میل دور تھا جب ڈرون "غیر واضح ارادے" کے ساتھ اس کے قریب پہنچا۔ کسی امریکی سامان کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی سروس ممبر کو نقصان پہنچا۔ یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھا رہا ہے، اورواشنگٹن اور تہران کے درمیان تناؤ زیادہ ہے۔

Published: undefined

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے پر بات نہیں کی تو اس کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل اس نے حکومت مخالف مظاہروں پر تہران کے مہلک کریک ڈاؤن کے دوران مداخلت کا امکان اٹھایا تھا۔

Published: undefined

ایرانی ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد بات کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ٹرمپ "ہمیشہ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں ‘‘، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ "ان کے پاس ہمیشہ میز پر بہت سے اختیارات ہوتے ہیں، اور اس میں ایران کے خلاف  فوجی طاقت کا استعمال بھی شامل ہے"۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پہلے خبردار کیا تھا کہ ملک پر کسی بھی حملے سے "علاقائی جنگ" شروع ہو جائے گی۔ واضح رہےتہران نے منگل کے ڈرون واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

Published: undefined

لیویٹ نے کہا کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف، ٹرمپ کے سب سے سینئر اوورسیز ایلچی، وائٹ ہاؤس کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ امریکی میڈیا نے پہلے بتایا تھا کہ وہ جمعہ کو استانبول میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے جس میں مصر، عمان، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ لیکن امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے اس کے بعد سے دو ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران چاہتا ہے کہ اس مقام کو عمان منتقل کیا جائے۔

Published: undefined

ویب سائٹ نے عرب ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ نے اس درخواست پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس سے قبل منگل کو ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا تھا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے "بشرطیکہ مناسب ماحول موجود ہو"۔ طے شدہ بات چیت سے پہلے، واشنگٹن نے تہران کو گزشتہ سال ایران پر امریکی حملوں کی بار بار یاد دہانی کرائی ہے، جس کے بارے میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس نے ملک کی جوہری افزودگی کی تنصیبات کو "مٹا دیا"۔ (بشکریہ ’بی بی سی نیوز‘)

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined