دیگر ممالک

ایران کا 440 کلو گرام ’افزودہ یورینیم‘ اپنے پاس رکھنے سے متعلق روسی تجویز کو امریکہ نے کیا خارج

ایران کو روس کا اتحادی ملک مانا جاتا ہے۔ روس پر ایران کو جوہری پروگرام کے لیے مالی معاونت کا بھی الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ایران اور روس اہم دفاعی شراکت دار بھی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ٹرمپ اور پوتن کی تصاویر</p></div>

ٹرمپ اور پوتن کی تصاویر

 

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو حل کرنے کے لیے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے واشنگٹن کو بڑا آفر دیا ہے۔ بدھ (29 اپریل) کو فون پر بات چیت کے دوران پوتن نے ٹرمپ سے کہا کہ ہم 440 کلو گرام افزودہ یورینیم رکھ لیتے ہیں، جس سے جوہری ہتھیار کا معاملہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔ بات چیت کے اس حصہ کا انکشاف برطانوی اخبار ’دی ڈیلی میل‘ نے کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق روسی صدر نے کہا کہ اسے روس کو منتقل کر دیا جائے۔ ایران بھی اس پر راضی ہو جائے گا۔ حالانکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پوتن کے اس آفر کو سرے سے خارج کر دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ افزودہ یورینیم امریکہ منتقل کرنا ہی واحد حل ہے۔

Published: undefined

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس اس وقت 60 فیصد تک افزودہ شدہ 440 کلو گرام یورینیم موجود ہے۔ ایران اسے 90 فیصد تک افزودہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد ایران 11 جوہری ہتھیار آسانی سے بنا سکتا ہے۔ ولادیمیر پوتن نے ٹرمپ کو یہ پیشکش ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد دی ہے۔ واضح رہے کہ اسی ہفتے عراقچی نے پوتن سے ملاقات کی تھی۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ ایران روس کو افزودہ یورینیم سونپنے کے لیے راضی ہے۔ حالانک آفیشیل طور پر ایران نے اس کے متعلق کچھ نہیں کہا ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ ایران کو روس کا اتحادی ملک مانا جاتا ہے۔ روس پر ایران کو جوہری پروگرام کے لیے مالی معاونت کا بھی الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ ایران اور روس اہم دفاعی شراکت دار بھی ہے۔ کریملن کے مطابق پوتن نے ایران پر پھر سے حملے کو لر ٹرمپ کو وارننگ دی۔ پوتن کا کہنا تھا کہ اس سے جنگ کا دائرہ مزید بڑھ جائے گا۔ پوتن نے بات چیت ذریعہ تنازعہ کو حل کرنے کی اپیل کی، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پوتن سے یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے لیے کہا ہے۔

Published: undefined

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق جلد ہی پوتن جنگ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ جنگ بندی کچھ ہی دنوں کے لیے ہونے والی ہے۔ دراصل روس 9 مئی کو وکٹری ڈے پریڈ نکال رہا ہے۔ اس روز اس کی کوشش جنگ بندی کرانے کی ہے۔ پوتن اور ٹرمپ کے درمیان اس کے علاوہ تجارت میں ترقی کے حوالے سے بھی بات ہوئی ہے۔ دونوں لیڈران نے تعلقات کو مزید بہتر کرنے کی سمت میں کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined