امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی افواج (یونائیٹڈ اسٹیٹس سنٹرل کمانڈ) نے ایران کے اہم جزیرہ خارگ پر طاقتور ترین فضائی حملے کیے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حملے میں ایرانی فوجی ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، لیکن تیل کی تنصیبات کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’’ابھی میری ہدایت پر امریکی افواج نے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین فضائی حملوں میں سے ایک کو انجام دیا اور ایران کے جزیرہ خارگ کے تمام فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔‘‘ انہوں نے آگے لکھا کہ ’’میں نے جزیرے پر تیل کی تنصیبات کو تباہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
Published: undefined
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو وارننگ دی کہ اگر کسی بھی طرح سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالی گئی تو وہ فوری طور پر اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ امریکہ جلد ہی اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت کے لیے سیکورٹی کور شروع کر ے گا۔ ایران یا کوئی اور اگر اس راستے کی نقل و حرکت میں مداخلت کرتا ہے تو میں فوری طور پر اس فیصلے پر دوبارہ غور کروں گا۔
Published: undefined
امریکہ کا جزیرہ خارگ پر حملہ آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے تناؤ سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ایران وہاں ایندھن اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ جزیرہ خارگ کو اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ یہ ایران کے لیے ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک مقام ہے، جو ملک کے خام تیل کی برآمدات کے لیے مرکزی ٹرمینل کا کام کرتا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ جزیرہ خارگ خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں واقع ہے۔ یہ ایران کی مرکزی سرزمین کے ساحل سے تقریباً 25 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ جزیرہ بوشہر بندرگاہی شہر کے قریب ہے۔ جزیرہ خارگ تقریباً 20 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں تازہ پانی کی اپنی سپلائی بھی دستیاب ہے۔ یہ جزیرہ آبنائے ہرمز سے تقریباً 483 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے، جو خلیج فارس کو عالمی بحری راستوں سے جوڑتا ہے۔ اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے یہ جزیرہ مشرق وسطیٰ سے بین الاقوامی منڈیوں تک توانائی کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
Published: undefined
یہ جزیرہ ایران کے لیے انتہائی اہم ہے، جزیرہ خارگ ایران کے خام تیل کی برآمدات کے لیے مرکزی ٹرمینل ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے خام تیل کی تقریباً 90 سے 95 فیصد ترسیل اسی جزیرے سے ہو کر گزرتی ہے۔ ایران کے مختلف تیل کے ذخائر سے تیل جزیرہ خارگ تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے بڑے بڑے ٹینکروں میں لوڈ کیا جاتا ہے، جو اس تیل کو عالمی منڈیوں تک لے جاتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined