دیگر ممالک

ایران-امریکہ امن مذاکرہ پر غیر یقینی والی حالت برقرار، امریکی وفد سے بات کیے بغیر ایرانی وفد عمان روانہ

پاکستان پہنچنے سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے پر جا رہے ہیں، جس کا مقصد دو طرفہ امور پر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>عباس عراقچی / آئی اے این ایس</p></div>

عباس عراقچی / آئی اے این ایس

 
Sha Dati

ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرہ پر غیر یقینی والی حالت ہنوز بنی ہوئی ہے۔ بات چیت کی سفارتی کوششیں بھلے ہی جاری ہیں، لیکن ابھی تک کچھ بھی واضح نہیں ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے وفد کے ساتھ اسلام آباد سے عمان روانہ ہو گئے ہیں اور ان کی امریکی وفد سے کوئی براہ راست بات چیت بھی نہیں ہوئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے امن مذاکرہ کے لیے امریکہ کے سامنے 10 شرائط رکھی ہیں۔

اس دوران امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے بھی اسلام آباد آنے کی خبریں ہیں، لیکن کیا دونوں کے درمیان براہ راست مذاکرہ ہوگا، اس پر اب بھی تذبذب برقرار ہے۔ ایران کا اب تک یہی مؤقف رہا ہے کہ وہ امریکہ سے براہ راست بات چیت نہیں کرے گا۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر ایرانی وفد امریکہ سے بات نہیں کرے گا تو عباس عراقچی اسلام آباد کیوں گئے؟ اس حوالے سے ایران اور امریکہ کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان آنے سے پہلے عراقچی نے کہا تھا کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے پر جا رہے ہیں، جس کا مقصد دو طرفہ امور پر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined