
ترکیے کی پارلیمنٹ میں تصادم کا منظر، ویڈیو گریب
ترکیے کی پارلیمنٹ میں بدھ کے روز اس وقت ’فائٹ کلب‘ جیسا نظارہ دیکھنے کو ملا جب برسراقتدار طبقہ اور اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کے درمیان شدید ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ کابینہ میں رد و بدل کے تحت وزیرِ انصاف کے عہدہ پر ایکن گرلیک کو حلف دلایا جا رہا تھا، جس کی اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے سخت مخالفت کی جا رہی تھی۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے ایکن گرلیک کو حلف برداری سے روکنے کی کوشش کی، جس پر برسراقتدار ’اے کے پارٹی‘ کے اراکین ناراض ہو گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اراکین میں تیز بحث شروع ہو گئی۔ چند ہی لمحوں میں یہ زبانی تکرار پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہو گئی اور اراکین پارلیمنٹ ایک دوسرے پر حملہ آور ہو گئے۔ اس دوران لات گھونسے بھی چلے اور ایوان میں شدید ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ اس واقعہ کی ویڈیو بھی منظر عام پر آ چکی ہے، جس میں اراکین پارلیمنٹ کو ایک دوسرے سے الجھتے دیکھا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
موصولہ اطلاعات کے مطابق ایکن گرلیک کو ایک متنازعہ شخصیت سمجھا جاتا ہے اور انہیں صدر رجب طیب اردوان کا قریبی تصور کیا جاتا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ گرلیک نے ماضی میں اپوزیشن لیڈران کے خلاف ہائی پروفائل مقدمات کی سماعت کی اور ان کے فیصلے سیاسی طور پر متاثر تھے۔ تاہم حکومت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ ہنگامہ آرائی کے بعد پارلیمنٹ کی کارروائی تقریباً 15 منٹ کے لیے معطل کر دی گئی۔ بعد ازاں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود ایکن گرلیک نے وزیر انصاف کے عہدے کا حلف لے لیا۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ ایکن گرلیک نے استنبول کے میئر اور صدر اردوان کے بڑے سیاسی حریف اکرم امام اوغلو کے خلاف فرد جرم عائد کی تھی۔ امام اوغلو پر بدعنوانی اور منظم جرائم سے متعلق 142 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات کی بنیاد پر انہیں مجموعی طور پر 2000 سال سے زائد قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ امام اوغلو کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات سیاسی انتقام کا حصہ ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں۔
Published: undefined
بہرحال، ترکیے کی پارلیمنٹ میں پیش آنے والا یہ واقعہ ملکی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ جو حالات بدھ کے روز دیکھنے کو ملے، اس سے آنے والے دنوں میں سیاسی گرمی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined